میرے مطابق

محبت: انسان کی طاقت یا کمزوری؟

afshan sehar

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جسے نہ مکمل طور پر لفظوں میں سمویا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی ایک نظریے کی روشنی میں پرکھا جا سکتا ہے۔ انسانی فطرت میں گندھی ہوئی یہ کیفیّت نہ صرف اس کے وجود کو معنویت بخشتی ہے بلکہ اس کی تمام فکری، جذباتی اور روحانی حرکات کی بنیاد بھی بنتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ محبت انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے یا اس کی سب سے بڑی کمزوری؟ اس سوال کا جواب نہایت پیچیدہ، مگر فکری طور پر نہایت پر کشش ہے، کیونکہ محبت بیک وقت تسکین کا ذریعہ بھی ہے اور اذیت کا۔ یہ انسان کو آسمان کی بلندیوں تک بھی لے جاتی ہے اور زمین کی پستیوں میں بھی گرا دیتی ہے۔ محبت جب ایثار، خلوص اور قربانی کے رنگوں میں رنگی ہوتی ہے تو وہ انسان کو طاقت عطا کرتی ہے۔ وہ طاقت جو نہ صرف داخلی ارتقاء کی ضامن بنتی ہے بلکہ خارجی دنیا کو سنوارنے کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہے۔ ماں کی اولاد سے محبت، ایک عاشق کا معشوق کے لیے تڑپنا، ایک مصلح کا قوم سے عشق۔ یہ سب محبت کے وہ مظاہر ہیں جو انسان کو قوت عطا کرتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے گاندھی کو عدم تشدد کا علمبردار بنایا، منڈیلا کو معاف کرنے کا حوصلہ دیا، قائد اعظم کو اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے کی توانائی عطا کی۔ محبت انسان کو وہ قوت عطا کرتی ہے جس سے وہ نفرت، انتقام اور ظلم کے اندھیروں میں بھی روشنی کی شمع روشن کر سکتا ہے۔

روحانیت کے شعبے میں بھی محبت کو اعلیٰ درجہ حاصل ہے۔ مولانا روم سے لے کر بلھے شاہ تک، سب نے محبت کو خدا تک پہنچنے کی راہ قرار دیا۔ جب عشق ذات سے تجاوز کر کے کائنات سے جُڑ جائے تو وہ نہ صرف طاقت کا سرچشمہ بنتا ہے بلکہ انسان کے لیے نجات کا دروازہ بھی کھول دیتا ہے۔ دوسری طرف، محبت اگر اپنی حدوں سے تجاوز کرے، یا وہ یک طرفہ، خود غرض یا زبردستی تھوپی گئی ہو، تو یہ انسان کو نہ صرف ذہنی اور جذباتی اذیت میں مبتلا کر سکتی ہے بلکہ اسے تباہی کے دہانے تک بھی لے جا سکتی ہے۔ ایسی محبت جو عقل کو مفلوج، ارادے کو بے بس، اور انسان کو خودی سے دور کر دے، وہ محبت کمزوری بن جاتی ہے۔ تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے محبت کے نام پر ظلم سہنے، بے بسی جھیلنے یا خود کو فنا کر دینے کو ترجیح دی۔ محبت جب خود پرستی اور وابستگی میں ڈھل جائے، تو انسان کو حقیقت سے غافل کر دیتی ہے۔ کئی شعرا اور ادیبوں نے اس پہلو کو بیان کیا ہے۔ میر تقی میر کے اشعار میں محبوب سے ایسی فریفتگی ملتی ہے کہ عاشق خود کو گم کر دیتا ہے۔ سعدی اور حافظ نے بھی عشق کی اس کیفیت کو ”فنا فی المحبوب“ کے طور پر پیش کیا ہے، جو بعض اوقات خودی کی نفی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

اردو ادب محبت کی متضاد نوعیت کا بھرپور عکاس رہا ہے۔ ایک طرف پریم چند کے کردار ”ہوری“ کی بیوی سے محبت اس کی طاقت ہے، جو اسے تمام دکھ سہنے کے باوجود گھر جوڑنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ دوسری طرف منٹو کے افسانوں میں محبت ایک پیچیدہ، بیمار اور کبھی کبھی سفاک جذبے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ عمیرہ احمد کے ناول ”پیرِ کامل“ میں محبت نہ صرف روحانی بلندی کا ذریعہ ہے بلکہ شخصیت کی تعمیر کا محور بھی۔ لیکن اسی کے مقابل بانو قدسیہ کے ناول ”راجہ گدھ“ میں محبت ذہنی انتشار، اخلاقی زوال اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔ نفسیات کی دنیا میں محبت کو انسانی بقا کے لیے لازم تصور کیا جاتا ہے۔ ابراہام میسلو کی نظریۂ ضروریات کے مطابق، محبت انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن اگر یہ ضرورت پوری نہ ہو، یا غلط طریقے سے پوری کی جائے، تو اس کے مہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ شدید احساسِ محرومی، عدم تحفظ، اور جنسی و جذباتی تشدد جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ سماجی اعتبار سے محبت قوموں کو جوڑتی ہے، نسلوں کو قریب لاتی ہے اور معاشرتی رشتوں میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ لیکن جب یہی محبت صنفی امتیاز، طبقاتی تعصب یا رومانوی جنون کی شکل اختیار کر لے، تو یہ ٹوٹ پھوٹ اور فکری انارکی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت نہ مکمل طور پر طاقت ہے، نہ مکمل کمزوری۔ یہ اس وقت طاقت بنتی ہے جب اس میں عقل کی رہنمائی، خودی کی پہچان، اور روحانی بلندی شامل ہو۔ اور یہ اس وقت کمزوری بن جاتی ہے جب یہ احساسِ کمتری، خود فریبی، یا غیر متوازن وابستگی میں ڈھل جائے۔ محبت اگر ذاتی مفادات سے بلند ہو، دوسروں کی بہتری کا محرک بنے، تو وہ طاقتور ترین جذبہ ہے۔ لیکن اگر یہ صرف جذباتی آسودگی کے لیے ہو، یا کسی ایک شخص پر اس قدر مرتکز ہو جائے کہ اپنی ذات کی پہچان ہی ختم ہو جائے، تو وہ کمزوری بن جاتی ہے۔

محبت انسان کی فطرت میں شامل وہ قوت ہے جو اسے انسان بناتی ہے۔ یہ طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی، لیکن اس کا انحصار اس پر ہے کہ اسے کس نیت، کس سطح پر، اور کس کیفیت میں جیا جا رہا ہے۔ وہ محبت جو خودی کو جِلا بخشے، وہ طاقت ہے۔ وہ محبت جو خودی کو مٹا دے، وہ کمزوری ہے۔ دنیا کی تمام بڑی تبدیلیوں کے پیچھے محبت کی کوئی نہ کوئی صورت کارفرما رہی ہے۔ وہ چاہے کسی نظریے سے ہو، کسی انسان سے، کسی مقصد سے یا خدا سے۔ محبت کی یہی دو رُخی فطرت اسے انسانی جذبات کا سب سے پیچیدہ اور پر اثر عنصر بناتی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW