بلاگ

عید گزارنی ہے یا واقعی منانی ہے

Shabbir Hussain baloch

آج پھر عید کی نماز ادا کر کے واپس آتے ہوئے ایک خیال مسلسل ذہن میں گردش کرتا رہا۔ شاید پچھلے کئی برسوں سے میں یہ تبدیلی بہت قریب سے دیکھ رہا ہوں، محسوس کر رہا ہوں، اور سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر ہماری عیدیں آہستہ آہستہ بدل کیوں رہی ہیں؟

خاص طور پر لیاری جیسے علاقے میں، جہاں عید صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایک سماجی، ثقافتی اور جذباتی روایت بھی رہی ہے۔ جہاں گلیوں میں خوشبوئیں بکھرتی تھیں، بچے نئے کپڑوں میں دوڑتے تھے، لوگ ایک دوسرے کے گھروں کے دروازے بغیر جھجک کھٹکھٹاتے تھے، عید مبارک کہتے تھے، گلے ملتے تھے، رشتے تازہ کرتے تھے، ناراضگیاں ختم کرتے تھے، اور پورا محلہ ایک خاندان محسوس ہوتا تھا۔

مگر اب شاید عید کا تصور آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔ چاند رات جاگ کر گزارنا، رات بھر شاپنگ، گھومنا پھرنا، سیلونز اور اسٹائلنگ میں گھنٹوں گزار دینا، صبح فجر یا عید کی نماز سے کچھ دیر پہلے گھر آ کر صرف اتنا سوچنا کہ ”بس نماز پڑھ کر واپس آ کے سو جانا ہے“ ۔ یہ ایک نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقے میں۔

ایک وقت تھا جب عید کی نماز صرف نماز نہیں ہوتی تھی، بلکہ اس کے بعد شروع ہونے والا سماجی تعلق، ملاقاتیں، ہنسی مذاق، محلے کی رونق، دوستوں سے گلے ملنا، بزرگوں کے پاس بیٹھنا، بچوں کو عیدی دینا، یہ سب عید کا اصل حسن ہوا کرتا تھا۔

آج ہم میں سے بہت سے لوگ نماز ختم ہوتے ہی فوراً گھر لوٹ آتے ہیں۔ نہ کسی سے ملنے کا وقت، نہ کسی کے پاس بیٹھنے کا صبر۔ جیسے عید ایک اجتماعی خوشی نہیں بلکہ صرف ایک رسمی ذمہ داری بن کر رہ گئی ہو۔

شاید ہم تھک گئے ہیں۔
شاید ہم مصروف ہو گئے ہیں۔
یا شاید ہم نے آہستہ آہستہ تنہائی کو معمول سمجھ لیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عید صرف نئے کپڑوں، تصویروں، اسٹائلنگ اور رات بھر جاگنے کا نام ہے؟ یا پھر عید ان رشتوں، ان ملاقاتوں، ان دعاؤں، ان معافیوں اور ان خوشیوں کا نام بھی ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی تھیں؟

لیاری جیسے علاقوں کی خوبصورتی صرف اس کی گلیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ تعلق تھا جو ان گلیوں میں سانس لیتا تھا۔ وہ احساس کہ خوشی صرف اپنی نہیں، سب کی ہوتی ہے۔ وہ روایت کہ عید کے دن کوئی اکیلا محسوس نہ کرے۔

وقت کے ساتھ تبدیلی آنا فطری ہے، مگر کچھ روایات ایسی ہوتی ہیں جن کے ختم ہونے سے صرف رسمیں نہیں مرتیں، معاشرے کے اندر کی گرمجوشی بھی کم ہونے لگتی ہے۔ شاید اب وقت ہے کہ ہم دوبارہ سوچیں کہ عید صرف گزارنی ہے یا پھر واقعی منانی بھی ہے؟

(صبیر احمد کی تحریر کی تلخیص)

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW