محمد سعید خان المعروف رنگیلا کا 21 واں یوم وفات

محمد سعید خان عرف رنگیلا پاکستانی فلمی صنعت کا ایک ہمہ جہت فنکار تھا۔ انہوں نے فلمی صنعت کے نو مختلف شعبوں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے اپنے آپ کو ایک عہد ساز اور ہمہ جہت فلمی فنکار ثابت کر دیا۔ انہوں نے بطور فلمساز، ہدایت کار، اداکار، ہیرو، گلوکار، کہانی کار، مکالمہ نگار، موسیقار اور فلم تقسیم کار کے کام کیا۔ انہوں نے فلم سازی کے لیے اپنا کاروباری ادارہ رنگیلا پروڈکشن بھی بنایا۔
یکم جنوری 1937 کو افغانستان میں پیدا ہوئے۔ روزی روٹی کی تلاش میں پشاور سے ہوتے ہوئے لاہور آ گئے۔ کچھ عرصہ کے لیے تن سازی اور کسرت کرتے رہے پھر فلمی پوسٹر بنانے کا کام شروع کر دیا۔ کسی فلم عکس بندی کے دوران ایک مزاحیہ کردار ادا کر کے اپنی اداکاری سے ہدایت کاروں اور فلم سازوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ رنگیلا نے اپنے جسمانی خد و خال اور چہرے کی مختلف بناوٹوں سے اپنے فلمی کرداروں میں مزاح پیدا کیا۔ 1950 میں پنجابی فلم جٹی سے اپنے فلمی سفر کا باقاعدہ آغاز کر کے 500 فلموں میں اپنے فن اداکاری کے جوہر دکھائے۔
پاکستانی فلمی صنعت کے سنہرے دور میں رنگیلا اور منور ظریف کی جوڑی نے پنجابی فلموں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی اہم فلموں میں دیا اور طوفان، کبڑا عاشق، میری زندگی ہے نغمہ، انسانیت، عورت راج، انسان اور گدھا، پردے میں رہنے دو، دل اور دنیا، دو رنگیلے، رنگیلا، ہیر رانجھا، مستانہ ماہی اور بہت سی پنجابی فلمیں شامل ہیں۔ دیا اور طوفان میں انہوں نے بہت ہی مزاحیہ اداکاری کی۔ اس فلم کے فلم ساز اور ہدایت کار بھی وہی تھے۔ دیا اور طوفان کی نمائش کے ساتھ ہی کئی بڑی اردو فلمیں بھی نمائش پذیر ہونی تھیں۔ بہت سے فلم سازوں نے رنگیلا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی فلم کی نمائش روک دیں، لیکن رنگیلا نے اپنی فلم دیا اور طوفان کو مقررہ تاریخ پر ہی نمائش پذیر کیا اور ان کی فلم دوسری فلموں کے ساتھ ہی کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ اس فلم میں ان کا لکھا اور گایا ہوا ایک گیت،
گا میرے منوا گاتا جا رے
جانا ہے ہم کا دور
ٹھمک ٹھمک نہ ہی چل رے بیلوا
اپنی نگریا ہے دور
بہت مشہور ہوا۔ یہ گانا آج تک اپنی سادگی کے باعث مقبول ہے اور یو ٹیوب پر اس کو 15 لاکھ بار سنا گیا ہے۔
یہ گانا اداکار اعجاز درانی پر عکس بند کیا گیا تھا جو ایک بیل گاڑی چلاتے ہوئے گاتے ہیں جو ایک خراب کار کو لے کر جا رہی ہوتی ہے۔
دو رنگیلے فلم میں انہوں نے آسیہ کے ساتھ ہیرو کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں بھی انہوں نے اپنی حقیقی زندگی کے واقعے کے مطابق ایک فلم عکس بندی ہو رہی ہوتی ہے اور فلم کا اصل ہیرو نہیں آیا ہوتا ہے تو رنگیلا کو اس ہیرو کی جگہ ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ رنگیلا فلم کے بعد فلم کی ہیروئن آسیہ کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے جو اسے بالکل پسند نہیں کرتی ہے۔
اس فلم کا ایک گیت جو آسیہ اور رنگیلا پر عکس بند کیا گیا تھا اور رونا لیلیٰ نے گایا تھا جس کے بول حزیں قادری لکھے تھے اور موسیقی رنگیلا نے خود ہی ترتیب دی تھی، اس گانے پر آسیہ نے بہت شاندار رقص کیا ہے۔
تینوں لبھیا گوا کے جگ سارا
تے چھڈ کے نہ جاویں ڈھولنا
دلوں نہ بھلائیں ڈولنا
اسی فلم کا ایک اور گانا رنگیلا نے اپنی آواز میں خود گایا تھا، جو بہت مشہور ہوا تھا۔
ٹٹ گئے اج میرے دل دے تار
سدراں دی بیڑی ڈب گئی وچکار
فلم میری زندگی ہے نغمہ میں رنگیلا پر یہ گیت بہت مشہور ہوا تھا، جسے شیون رضوی نے لکھا تھا اور نثار بزمی نے اس کی دھن ترتیب دی تھی۔
اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
دل اس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا
اسی گیت سے ملتا جلتا ایک اور گیت فلم کبڑا عاشق میں اداکار اورنگ زیب پر عکس بند کیا گیا تھا، یہ فلم انگریزی ناول ہنچ بیک سے اخذ شدہ تھی اور ناکام ثابت ہوئی۔
تو حسن کی دیوی ہے اور میں ہوں تیرا پجاری
تعریف تیری کروں کیا، تیری ہر بات ہے پیاری
رنگیلا کی ایک اور فلم دل اور دنیا تھی جس میں آسیہ نے ایک اندھی لڑکی کا کردار نہایت ہی کامیابی سے ادا کیا جو پھولوں کے گجرے بیچتی ہے۔ اس فلم میں رونا لیلیٰ کا گایا ہوا گیت جو آسیہ پر عکس بند ہوا تھا آج بھی اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
چمپا اور چنبیلی یہ کلیاں نئی نویلی
فلم کبڑا عاشق کی ناکامی کے بعد رنگیلا مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔ لیکن انہوں نے ان مشکلات کے باوجود فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ادا کرنا جاری رکھے۔ 1991 میں رنگیلا جگر اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔ کئی ماہ ڈائیلاسز کروانے کے بعد وہ 24 مئی 2005 کو 68 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔ ادا کار رنگیلا نے اپنے بے مثال کرداروں اور فلمی صنعت کے مختلف شعبوں سے وابستہ رہ کر پاکستانی فلمی صنعت پر انمٹ نقوش چھوڑے، ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ ہمیشہ نامکمل رہے گی۔
