بلاگ

سفید پوشی کے آخری دن

ghulam shabbir

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ہوشربا اضافہ اور مہنگائی کے بے قابو طوفان نے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اگرچہ اعداد و شمار کے ذریعے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کی تعداد میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے، مگر یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ سفید پوش طبقہ، جو کبھی اپنی محدود آمدنی کے باوجود عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرتا تھا، آج شدید ترین ذہنی، معاشی اور سماجی دباؤ کا شکار ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اب سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا بھی ایک کٹھن امتحان بنتا جا رہا ہے۔

مہنگائی محض اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں ہوتی بلکہ یہ انسانی نفسیات، گھریلو سکون، سماجی روابط اور امیدوں تک کو متاثر کرتی ہے۔ جب تنخواہیں وہیں کی وہیں رہ جائیں مگر بجلی، گیس، پٹرول، ادویات، تعلیم اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھتی چلی جائیں تو زندگی ایک ایسی دوڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے جس میں انسان جتنا بھی بھاگ لے، منزل اس سے دور ہی ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب متوسط طبقہ محدود وسائل کے باوجود اپنی ضروریات پوری کر لیا کرتا تھا، مگر آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ماہانہ آمدنی مہینے کے چند دنوں میں ہی دم توڑ دیتی ہے۔ باقی دن صرف سمجھوتوں، قرض اور صبر کے سہارے گزارنے پڑتے ہیں۔

سب سے زیادہ اذیت ناک صورتحال سفید پوش طبقے کی ہے۔ غریب آدمی اگرچہ مشکلات کا شکار ہوتا ہے، مگر اس کے دکھ معاشرے پر عیاں ہوتے ہیں، جبکہ سفید پوش انسان اپنی ٹوٹی ہوئی حالت کو مسکراہٹ اور خاموشی کے پردے میں چھپانے پر مجبور ہوتا ہے۔ وہ نہ ہاتھ پھیلانا چاہتا ہے اور نہ ہی اپنی محرومیوں کا تذکرہ کرنا پسند کرتا ہے۔ یہی خاموشی اس کے لیے سب سے بڑا عذاب بن جاتی ہے۔ گھروں کے کرائے، بچوں کی فیسیں، ادویات کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات پوری کرتے کرتے انسان اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے، مگر پھر بھی وہ معاشرتی وقار کی آخری لکیر کو مٹنے نہیں دینا چاہتا۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید دور کی معاشی سختیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ جان لیوا گرمی کے دنوں میں اب اے سی تو ایک خواب بن چکا ہے۔ کبھی جو سہولت اور آرام کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج وہ ایک ایسی خواہش بن گیا ہے جس کا تصور بھی عام آدمی کے لیے بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ اب تو روم کولر بھی ایک عیاشی محسوس ہوتا ہے۔ پنکھے کی رفتار کم ہو یا زیادہ، ہر گردش کے ساتھ یوں لگتا ہے جیسے بجلی کا میٹر نہیں بلکہ انسان کی سانسیں تیز ہو رہی ہوں۔

میٹر کی ریڈنگ اور دل کی دھڑکن میں ایک غیر محسوس مگر خوفناک تعلق قائم ہو چکا ہے۔ جیسے ہی یونٹ بڑھتے ہیں، ویسے ہی ذہن پر ایک بوجھ سا اتر آتا ہے۔ بجلی کے بے تحاشا اور ناقابلِ برداشت بلوں نے زندگی کو اس قدر احتیاط پسند بنا دیا ہے کہ ایک سے دوسرا پنکھا آن کرتے ہوئے بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بڑا جرم سرزد ہو رہا ہو۔ روشنی اور ٹھنڈک اب بنیادی ضرورت نہیں رہی بلکہ حساب کتاب کی ایک مسلسل مشق بن چکی ہیں۔

گرمی کا موسم اب صرف موسم نہیں رہا، یہ ایک مسلسل امتحان بن چکا ہے جس میں جسم پسینے سے شرابور اور ذہن بلوں کے خوف سے بوجھل رہتا ہے۔ پہلے جہاں گرمی سے بچنے کے لیے سہولیات کا سہارا لیا جاتا تھا، اب انہی سہولیات نے انسان سے اس کا سکون چھین لیا ہے۔

اسی طرح پٹرول کی قیمتوں نے بھی عام آدمی کی زندگی کو ایک مستقل دباؤ میں تبدیل کر دیا ہے۔ موٹر سائیکل کا روزمرہ خرچ اب کسی زمانے میں کار کے پیٹرول کے خرچے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ سفر اب ضرورت نہیں بلکہ ایک حسابی فیصلہ بن گیا ہے۔ ہر فاصلہ طے کرنے سے پہلے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا یہ سفر واقعی ضروری ہے یا نہیں۔ چھوٹے چھوٹے کام بھی اب بڑے اخراجات کے ساتھ جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

گھر کا چولہا جلانا بھی اب ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ سبزی، دال، آٹا، گھی، ہر چیز کی قیمتیں اس رفتار سے بڑھ رہی ہیں کہ عام آدمی کے لیے بنیادی خوراک بھی ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔

اکثر اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کا کوئی پر سانِ حال نہیں۔ حکومت کی اپنی ترجیحات ہیں، جن میں عام آدمی کی مشکلات کسی شمار میں نہیں آتیں۔ پالیسی سازی اور زمینی حقائق کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ کاغذوں میں حالات بہتر دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

مختلف حیلوں بہانوں سے عوام سے پیسہ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس، فیسیں، سرچارجز اور دیگر مدات کے نام پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر نئی سہولت کے ساتھ ایک نیا خرچ جڑ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے نظام کا سارا وزن صرف اسی طبقے پر ڈال دیا گیا ہو جو پہلے ہی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

جگہ جگہ پولیس ناکے لگا کر بیٹھی ہے۔ آنے جانے والوں کو روکا جاتا ہے، تلاشی لی جاتی ہے، کاغذات چیک ہوتے ہیں۔ کہیں چالان تو کہیں مک مکا۔ یہ سب روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ قانون کا نفاذ اکثر اوقات سہولت کم اور پریشانی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ عام آدمی کے لیے ہر راستہ ایک نئے امتحان سے کم نہیں رہا۔

ان تمام معاشی، سماجی اور انتظامی دباؤ کے درمیان ایک عام انسان اپنی زندگی کو صرف گزارنے کی کوشش کر رہا ہے، جینے کی نہیں۔ ذہنی سکون، جسمانی آرام اور معاشرتی اعتماد، یہ سب جیسے رفتہ رفتہ مٹتے جا رہے ہیں۔

اصل تشویش یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف مشکلات نہیں بلکہ ایک طویل ذہنی تھکن میں بدلتا جا رہا ہے۔ جب بوجھ حد سے بڑھ جائے تو انسان احتجاج نہیں کرتا، صرف خاموش ہو جاتا ہے۔ اور یہی خاموشی کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے بڑا سوال ہوتی ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مہنگائی نے صرف جیبیں خالی نہیں کیں بلکہ انسانوں کے دلوں سے سکون بھی چھین لیا ہے۔ پہلے لوگ بہتر مستقبل کے خواب دیکھا کرتے تھے، اب صرف اتنی خواہش باقی رہ گئی ہے کہ کسی طرح موجودہ دن گزر جائے۔ بازاروں کی رونقیں مصنوعی محسوس ہوتی ہیں، گھروں کی خوشیاں بجھی بجھی سی دکھائی دیتی ہیں اور چہروں پر پھیلی مسکراہٹوں کے پیچھے اضطراب صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انسان اب جینے سے زیادہ زندگی کو گھسیٹنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔

معاشروں کی اصل طاقت ان کا متوسط اور سفید پوش طبقہ ہوتا ہے۔ یہی طبقہ ریاستی نظم و نسق، تعلیمی ترقی، سماجی استحکام اور معاشی سرگرمیوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہی طبقہ مایوسی، اضطراب اور بے بسی کا شکار ہو جائے تو پھر صرف معیشت ہی کمزور نہیں ہوتی بلکہ پورا معاشرتی ڈھانچہ عدم استحکام کا شکار ہونے لگتا ہے۔ غربت صرف مالی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ یہ اخلاقی، ذہنی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ محض اعداد و شمار اور وقتی اعلانات کے ذریعے عوام کو تسلی دینے کے بجائے ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جو عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کر سکیں۔ کیونکہ بھوک، بے روزگاری، گرمی، مہنگائی اور انتظامی دباؤ وہ مسائل ہیں جو صرف جسم نہیں تھکاتے بلکہ انسان کے حوصلے، خواب اور امیدیں بھی نگل جاتے ہیں۔

یہ خوفناک صورتحال صرف اس بات کی متقاضی نہیں کہ لوگ احتجاج کریں، بلکہ اصل خوف اس بات کا ہے کہ کہیں لوگ خاموش نہ ہو جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشروں میں خاموشی بڑھنے لگے تو وہ محض سکون کی علامت نہیں ہوتی بلکہ اندر ہی اندر ٹوٹتے ہوئے انسانوں کی اجتماعی بے بسی کی آواز ہوتی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Muhammad Boota
Muhammad Boota
16 days ago

متوسط طبقے کا دکھ نہایت عمدہ تحریری شکل
میں بیان کر دیا ہے آپ ❤️

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW