بلاگ

گڈ مارننگ جی“ ، ”شب بخیر“ ۔ ایک سادہ سا پیغام، ایک پیچیدہ سا مسئلہ”

Dr Rakhshinda Perveen

صبح کے سات بجے ہیں۔ آنکھ ابھی کھلی ہی ہے، چائے کی کیتلی چڑھائی ہی ہے کہ فون چمکا۔
”گڈ مارننگ 🌹“

نام دیکھا۔ وہ صاحب جن سے پچھلے مہینے ایک کانفرنس میں ملی تھی۔ یا وہ جنہوں نے کسی پروفیشنل گروپ سے نمبر لیا۔ یا وہ ”سینئر“ جو آپ کے کام کے ”بہت بڑے حامی“ ہیں معترف ہیں۔ جو ہر تقریب میں آپ کو متعارف کراتے ہیں، ریفرنسز دیتے ہیں، اور جن سے تعلق بگاڑنا ذرا سوچیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ نو فری لنچ ان کے لیے ہی تو ایجاد ہوا تھا۔ آپ نے فون رکھ دیا۔ چائے پی لی مگر وہ پیغام وہاں پڑا رہا۔ ایک کانٹے کی طرح۔

اسی منظر نامے کو اب رات کے دس یا گیارہ بجے میں تبدیل کر لیں اور سوچیں۔ بات کس کی ہو رہی ہے؟

دفتر میں کام کرنے والی عورت کے لیے اب کچھ قوانین ہیں ناقص سہی، کاغذی سہی، مگر ہیں۔ ہراسانی کا کوئی طریقہ کار ہے۔ کوئی HR ہے جسے کم از کم دکھاوے کی فکر ہو۔ مگر وہ عورت جو فری لانس کنسلٹنٹ ہے، ایکٹوسٹ ہے، این جی او سرکل میں کام کرتی ہے، سوشل ڈویلپمنٹ سیکٹر میں ہے اس کا کوئی HR نہیں۔ اس کا کلائنٹ بھی وہی ہے، رابطہ بھی وہی ہے، ریفرنس بھی وہی ہے۔ اور گڈ مارننگ بھیجنے والا اور شب بخیر کا دعا گو بھی وہی ہے۔ اگر وہ عورت ”سنگل“ ہے اور اگر ”طلاق شدہ“ ہے تو بات کا رخ ہی کچھ اور ہے۔ بیواؤں کو ایک اور طرح کی سپورٹ حاصل ہے جو اچھی نہ بھی لگے مگر سٹیگما نہیں لگتا۔

یہ پیغام آفس سے نہیں آتا اکثر۔ آتا ہے : کسی سیمینار کے وہاٹس ایپ گروپ سے نمبر لے کر۔ کسی مشترکہ کاز کی آڑ میں۔ کسی ایسے شخص سے جو آپ کے کام کا ”حامی“ ہے اور یہ بات آپ کو بھولنے نہیں دیتا۔

یہ ہوتا کیا ہے دراصل؟

بات گڈ مارننگ کی نہیں ہے۔ وہ لفظ تو معصوم ہے۔ بات یہ ہے کہ کس نے طے کیا کہ آپ کی صبح میں اس کا داخلہ ہے؟ آپ نے نہیں کہا تھا۔ ”جناب، آپ مجھے روز صبح جگائیں، رات کو سلائیں۔“ یہ رشتہ انہوں نے خود بنایا۔ آپ سے پوچھے بغیر۔ آپ کی مرضی جانے بغیر۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ایک ”سادہ سا“ پیغام دراصل ایک حد کی خلاف ورزی بن جاتا ہے۔ حد کوئی دیوار نہیں ہوتی۔ حد بس یہ ہوتی ہے۔ میری اجازت کے بغیر میری ذاتی جگہ میں مت آؤ۔ میری صبح، میری رات، میرا فون میرا ہے۔

اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب آپ نے جواب دینا بند کیا۔ یا معذرت کی۔ یا براہ راست کہہ دیا کہ ذاتی پیغامات نہ کریں۔ سنیے پھر کیا ہوا۔

”ہم تو آپ کو بیٹی/بہن سمجھتے ہیں۔ اس میں کیا برائی ہے؟“

یہ جملہ ایک جال ہے۔ اور بہت نفیس جال ہے۔ اب اگر آپ نے پھر بھی اعتراض کیا تو گویا آپ ہی کا ذہن کہیں اور جا رہا ہے۔ بیٹی اور بہن تو بے فکر ہوتی ہیں نا؟

مگر ذرا غور کریں۔ بھائی اپنی بہن کو رات گیارہ بجے گڈ نائٹ 🌙 کا اسٹیکر بھیجتا ہے؟ وہ بھائی جن کے ذہن میں واقعی صرف بہن ہے؟

”گند آپ کے دماغ میں ہے“
یعنی۔ آپ نے حد بتائی، تو مجرم آپ ہیں۔ آپ کا ذہن ناپاک ہے جو آپ نے اعتراض کیا۔
اس تکنیک کی نفسیات میں ایک اصطلاح ہے : DARVO۔
یعنی
:
Deny۔ انکار کرو۔
Attack۔ اعتراض کرنے والے پر حملہ کرو۔
Reverse Victim and Offender
پھر خود کو مظلوم اور سامنے والے کو قصوروار بنا دو۔

پہلے کہا جائے گا: ”ارے ہم نے کیا کیا؟“
پھر: ”آپ تو غلط مطلب نکال رہی ہیں۔“
اور آخر میں : ”اصل مسئلہ تو آپ کے رویے /دماغ/انا میں ہے۔“
پرانا طریقہ ہے، نیا میڈیم ہے۔

میں نے کبھی ایسے پیغام رساں لوگوں کو کونفرونٹ کیا تو یہ بھی جواب ملا کہ ”موٹی“ ”ارے، اپنی شکل اور عمر دیکھی ہے۔ شکر کرو کوئی یاد کر رہا ہے“

یہ جملہ تب آتا ہے جب اوپر والے کام نہیں آئے۔ اور یہ جملہ پوری کہانی کھول دیتا ہے۔ ”بہن“ والا بھائی یہ نہیں کہتا۔ کبھی نہیں۔

اصل مسئلہ وہ ”ناسمجھ“ انکل ہیں۔ بلاک کرنا آسان ہے جب سامنے والا صریح ہو۔ واضح طور پر بدتمیز یا کھلے ہراساں کرنے والے آدمی سے نمٹنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، کیونکہ اس کی نیت اور رویہ صاف نظر آتا ہے۔ ایسے شخص کو بلاک کرنا، انکار کرنا، یا اس سے فاصلہ بنانا اخلاقی اور سماجی طور پر نسبتاً آسان محسوس ہوتا ہے۔

مگر ”ناسمجھ انکل“ والا کردار پیچیدہ ہے۔ وہ بظاہر شائستہ ہوتا ہے، خود کو خیرخواہ ظاہر کرتا ہے، عمر، تجربے یا ”بزرگی“ کی ڈھال استعمال کرتا ہے، اور اکثر پروفیشنل فائدہ یا نیٹ ورک سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے مسئلہ مشکل بن جاتا ہے۔ کیونکہ آپ کو ہر وقت یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا واقعی یہ ناسمجھی ہے؟ یا جان بوجھ کر حد پار کی جا رہی ہے؟

اگر میں اعتراض کروں تو لوگ کہیں گے میں اوور ری ایکٹ کر رہی ہوں؟ کہیں میرا کام یا تعلقات متاثر نہ ہوں؟

ہائے ہائے ہائے ہائے۔ ”صاف برائی“ سے زیادہ خطرناک وہ مبہم رویہ ہوتا ہے جو معصومیت، بزرگی، یا حمایت کے پردے میں آئے۔ مشکل تب ہے جب سامنے ہو وہ جو ٹیکنالوجی سے ”ناواقف“ ہے۔ فیمینزم سے ”ناواقف“ ہے۔ آپ کے کام کا ”حامی“ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر آپ کے پروفیشنل نیٹ ورک کا اہم حصہ ہے۔ این جی او دنیا میں یہ شخص آپ کو پروجیکٹ دلواتا ہے /دلوا سکتا ہے یا چھینوا ضرور سکتا ہے۔ ایکٹوزم میں یہ آپ کو پلیٹ فارم دیتا ہے /دے سکتا ہے۔ کنسلٹنسی میں یہ آپ کا ریفرنس ہے یا ہو سکتا ہے یا ریفرنس خراب کر سکتا ہے۔

اور اسی لیے اس سے معاملہ کرنا سب سے مشکل ہے۔

مگر ایک سوال، جو شخص وہاٹس ایپ گروپ بناتا ہے، وائس نوٹ بھیجتا ہے، زوم کال چلاتا ہے، آن لائن ادائیگی کرتا ہے کیا وہ واقعی نہیں جانتا کہ رات کو کسی عورت کو اکیلے میں گڈ نائٹ بھیجنے کا کیا مطلب ہے؟

جانتا ہے۔ ”ناسمجھ“ ہونا اس کی کمزوری نہیں، سہولت ہے۔ کیونکہ جب آپ اعتراض کریں گی تو وہ کہے گا۔ ”ارے بچی، ارے بہنا ’ارے باجی‘ مجھے ان چیزوں کا کیا پتہ، میں تو بس۔“ اور آپ پھنس جائیں گی۔ کیونکہ بڑوں کی تربیت کرنا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ مگر معاشرہ کہتا ہے ہے۔ اور آپ کا بینک اکاؤنٹ کہتا ہے۔ ابھی نہیں۔

ایکٹوزم والا پیچ۔ اب میں کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں۔ ایکٹوسٹ حلقوں میں ایک اور پرت ہے۔

یہاں وہ شخص ”پروگریسو“ ہے۔ عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ ہر احتجاج میں ساتھ ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے اگر آپ نے اس کے گڈ مارننگ پر اعتراض کیا تو آپ پر الزام آئے گا کہ آپ ”تحریک میں تفرقہ“ ڈال رہی ہیں۔ آپ کے پیٹ میں داڑھی ہے۔ آپ لبرل نہیں ہیں۔ یہ سب سے خطرناک ڈھال ہے۔ کیونکہ یہاں آپ کی خاموشی کو ”سمجھداری“ کہا جائے گا اور آپ کی آواز کو ”انا“ ۔

تو کیا یہ ہراسانی ہے؟
جی ہاں۔
ہراسانی کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی ہاتھ لگائے یا دھمکی دے۔

ہراسانی وہ ہے جو آپ کی مرضی کے بغیر آپ کی ذاتی جگہ میں داخل ہو اور جب آپ اعتراض کریں تو آپ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دے۔

یہ دونوں کام یہ روزانہ کا ”گڈ مارننگ 🌹“ بخوبی کرتا ہے۔

آخری بات:آپ کو یہ ثابت نہیں کرنا کہ آپ کو تکلیف ہوئی۔ آپ کو یہ ثابت نہیں کرنا کہ آپ کی تکلیف ”کافی بڑی“ ہے۔ آپ کو صرف یہ جاننا ہے : آپ کی صبح آپ کی ہے۔ آپ کی رات آپ کی ہے۔ آپ کا نمبر آپ کا ہے۔ اس میں داخلہ آپ کی اجازت سے ملتا ہے۔ اور اجازت مانگنی پڑتی ہے۔ گڈ مارننگ بھیج کر نہیں لی جاتی۔

یہ دراصل ڈیجیٹل دور کے آداب کی بنیادی بات ہے۔ ہر نمبر ”اوپن ایکسس“ نہیں ہوتا۔ پروفیشنل رابطہ، ذاتی قربت کے برابر نہیں ہوتا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
سلیم ملک
Saleem Malik
23 days ago

جنسی ہراسانی پر بہترین آرٹیکل

Ilyas Khalid
Ilyas Khalid
22 days ago

Block him!
Or change your number.

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW