بلاگ

پاکستان کے تعلیمی اعداد و شمار: تخمین اور حقیقت کے درمیان۔ حصہ سوم

muhammad nafees karachi

اس مضمون کے حصہ اول اور دوم میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ پاکستان کے سرکاری تعلیمی اعداد و شمار کس طرح رسائی، صنفی فرق اور سرکاری اسکول نظام کی ساختی ناکامیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس آخری حصے میں ایک ایسے سوال پر غور کیا گیا ہے جس کے بارے میں اکثر رپورٹس تذکرہ تو کرتی ہیں مگر مکمل جواب دینے سے قاصر رہتی ہیں : سرکاری اسکولوں میں داخل 47.1 ملین بچوں کے علاوہ باقی بچوں کو کون تعلیم دے رہا ہے اور وہ کس نوعیت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟

پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹسٹکس رپورٹ 2023۔ 24 کے مطابق ملک بھر میں 58.3 ملین طلبہ تعلیمی شعبوں سے منسلک ہیں۔ جبکہ سرکاری اسکولوں میں 47.1 ملین بچے داخل ہیں۔ اس کا مطلب ہے تقریباً 11.2 ملین بچے مختلف متوازی نظاموں میں تقسیم ہیں جو مل کر ایک متوازی ”سایہ دار تعلیمی ڈھانچہ“ تشکیل دیتے ہیں، جو پالیسی مباحثوں میں زیادہ تر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں کہ ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی طالب علم کو تعلیم کون فراہم کر رہا ہے۔

پہلی بار، رپورٹ کا ڈیٹا اسٹینڈرڈائزیشن فریم ورک غیر سرکاری داخلوں کی نسبتاً مکمل تصویر فراہم کرتا ہے۔ یہ تقسیم کئی پہلوؤں سے چشم کشا ہے۔

جدول 01 : غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ جات ( 2023۔ 24 )
ماخذ: پاکستان ایجوکیشن سٹیٹسٹکس رپورٹ 2023۔ 24 (PIE)

یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ طلبہ کی سب سے بڑی تعداد مدارس میں نہیں بلکہ ایجوکیشن فاؤنڈیشنز میں ہیں۔ صوبائی سبسڈی پروگرام جو کم لاگت کے نجی اسکولوں میں 3.47 ملین طلبہ کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ یہ تعداد مدارس کے داخلے سے زیادہ ہے اور ایک ایسی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے جسے حکومت شاذ و نادر ہی تسلیم کرتی ہے : وہ یہ ہے کہ سرکار نجی اداروں کو ادائیگی کر رہی ہے تاکہ ان بچوں کو تعلیم دی جا سکے جنہیں سرکاری اسکول مناسب طور پر تعلیم فراہم نہیں کر سکتے۔

ایجوکیشن فاؤنڈیشنز سرکاری اسکولوں کا متبادل نہیں ہیں۔ سرکار بڑی حد تک اپنی اس کی ناکافی کارکردگی کا عوامی فنڈ سے معاونت فراہم کرنے کا اعتراف ہے۔ ادارہ جاتی ڈھانچہ اس تبدیلی کو مزید واضح کرتا ہے۔ پاکستان میں 148,216 سرکاری اسکول ہیں ( 50.7 %) ، جبکہ دیگر تمام اداروں کی مجموعی تعداد 144,021 ہے۔ یہ تقریباً اتنی ہی تعداد جو سرکاری اسکولوں کی ہے یعنی ( 49.3 %) ۔ اس کے باوجود سرکاری اسکول چار گنا زیادہ طلبہ کو داخلہ فراہم کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ہر سرکاری اسکول اوسطاً 300 سے زائد طلبہ کو تعلیم فراہم کرتا ہے ( 80 %) ، جبکہ غیر سرکاری ادارے 80 سے کم طلبہ کو تعلیم فراہم کرتے ہیں یعنی صرف ( 19.2 %) ۔

جیسے جیسے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی مسلسل گرتی جا رہی ہے، یہ عدم توازن ایک اہم سوال پیدا کرتا جاتا ہے : کیا یہ اعداد و شمار رپورٹنگ اور اسکولوں میں داخلہ کی رکارڈنگ کے طریق کار میں فرق کی عکاسی کرتے ہیں، یا پھر سرکاری اسکول محض طلبہ کے اس بوجھ سے مغلوب ہیں جو زیادہ تر غیر سرکاری اداروں کو درپیش بوجھ سے کئی گنا زیادہ ہے؟

وجہ اس کی کچھ بھی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ حکومتی کارکردگی کی پیمائش بڑی حد تک ان طلبہ کے بارے میں کی جاتی ہے جو سرکاری نظام میں موجود ہیں۔ جبکہ ایسے طلبہ جو دوسرے اداروں میں داخل ہو جاتے ہیں وہ سرکاری تجزیاتی رپورٹس سے باہر رہ جاتے ہیں۔ اس طرح کی تقسیم محض انتظامی نہیں ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تسلیم پالیسی کی ناکامی کا مظہر ہے۔ تین حصوں پر مشتمل ان کالمز کے ذریعے کیے گئے تجزیے کے تمام نتائج میں سے، مدارس میں موجود صنفی تقسیم شاید سب سے غیر متوقع اور حیران کن ہے۔

مدارس میں صنفی تقسیم


جدول 2 : مدارس ( 2023۔ 24 ) میں صوبہ وار صنفی تقسیم

قومی سطح پر، مدارس میں داخل لڑکیوں کی تعداد 18.2 لاکھ ہے جو لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ لڑکیوں کی مدرسوں داخلہ کی تعداد 55.9 % بنتی ہیں۔ پنجاب میں، لڑکیوں کی مدرسوں میں موجودگی 58.5 % ہے۔ خیبر پختونخوا میں، جو صوبہ شرح خواندگی میں سب سے زیادہ صنفی فرق رکھتا ہے، لڑکیوں کی مدرسوں میں داخلہ کی تعداد 67.2 % ہے، جو لڑکوں تعداد کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدارس خواتین کو با اختیار بنانے کے مراکز ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن علاقوں میں سرکاری اسکول گھروں سے دور ہیں، جہاں عملے کی کمی ہے، یا سماجی طور پر ناقابلِ قبول ہیں، وہاں ایک جنسی تفریق پر مبنی مذہبی ادارہ واحد تعلیمی ذریعہ بن جاتا ہے جو خاندان اپنی بیٹیوں کے لیے قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں تعلیم تک رسائی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ وہاں پڑھایا جانے والا نصاب کس قدر ان کی ذہنی قابلیت میں اضافہ کا باعث ہے۔

سرکاری پالیسی کے مضمرات بے حد واضح ہیں۔ یہ مدرسوں میں پڑھنے والی 18.2 لاکھ لڑکیاں اسکول سے باہر شمار نہیں کی جاتیں۔ ایک تعریف کے مطابق وہ تعلیم یافتہ ہیں۔ دوسری تعریف کے مطابق، وہ تعلیمی طور پر پوشیدہ رہتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی طالبات وہ ہیں جن کی غیرموجودگی کی نشاندہی ان مضامین کے حصہ اول میں کی گئی تھی۔ یہ وہ پوشیدہ خواتین کی آبادی ہے جو ایک تعلیمی نظام کا حصہ تو ہیں لیکن سرکاری تعلیمی رپورٹ میں غیر تعلیم یافتہ دکھائی دی جاتی ہیں لیکن مدرسوں کے تعلیمی نظام میں انہیں علیحدہ سے دکھایا جاتا ہے اور اس طرح اسے نظام کی کامیابی کے طور پر نمایاں کیا جاتا ہے۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تقسیم انہی نمونوں کو تقویت فراہم کرتی ہے جو نچلی سطحوں پر پہلے سے موجود ہیں

اعلیٰ تعلیم میں علاقائی تفاوت

جدول 3 : صوبہ وار یونیورسٹیوں اور کالجوں کی تعداد ( 2022۔ 23 )

پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں ملک کے 56 % جامعات اور کالجز موجود ہیں، جبکہ بلوچستان جیسے بڑے مگر پسماندہ صوبے میں صرف 150 ادارے ہیں۔ یہ تعداد ملک میں موجود تمام اداروں کا صرف 3 فیصد ہے۔ اور یہ تعداد آزاد جموں و کشمیر جیسے چھوٹے خطے سے بھی کم ہے۔

سندھ کے 538 ادارے ملک کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے کے لیے غیر متناسب ہیں، اور یہ فرق جغرافیائی حوالے سے مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ادارے کراچی میں مرتکز ہیں، جس کے نتیجے میں اندرونِ سندھ اعلیٰ تعلیم تک رسائی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا، جس کی آبادی سندھ سے کم ہے، وہاں 743 ادارے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو طالب علم بلوچستان کے دیہی علاقوں یا اندرونِ سندھ میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کی تمام رکاوٹیں عبور کر لیتا ہے، وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے ایسے نظام کا سامنا کرتا ہے جو کبھی اس کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔ یہ ایک ایسے تعلیمی نظام کی پائپ لائن کی طرح ہے جو پرائمری سطح پر ہی کمزوری کا شکار رہتی ہے اور یونیورسٹی کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی خشک ہو جاتی ہے۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جغرافیائی تقسیم ایک گہری ساختی عدم توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ تقریباً 4,468 ادارے۔ یعنی قومی کل کا 90 %۔ پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں واقع ہیں۔ باقی 717 ادارے۔ صرف 10 %۔ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کو ملا کر تعلیمی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ یہ صرف علاقائی فرق نہیں بلکہ ایک جغرافیائی دراڑ ہے جو اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو شمال میں مرکوز کر دیتی ہے، جبکہ جنوب اور مغرب۔ جہاں ملک کی سب سے محروم آبادی رہتی ہے اسے موثر طور پر نظرانداز کر دیتی ہے۔ یہ عدم توازن برسوں سے کسی منظم پالیسی کی غیرموجودگی کے باعث برقرار ہے اور فوری توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔

مزید بارہ لاکھ طلبہ غیر رسمی بنیادی تعلیمی مراکز میں داخل ہیں۔ یہ پروگرام خاص طور طالبات کے لئے ہے جو کبھی اسکول میں داخل نہیں ہوئیں یا تعلیم چھوڑ چکی ہیں۔

یہ تعلیمی نظام اکثر اس معیار سے بھی کم تر درجہ کی تعلیم فراہم کرتا ہے جو ایک واحد استاد والے سرکاری اسکول فراہم کرتے ہیں۔ مدارس اور ان تعلیمی نظام کے مراکز میں داخل طلبہ کو ملا کر کل 4.47 ملین طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

یہ تعلیمی نظام ایک غیر تسلی بخش امکانات کو جنم دیتا ہے : پاکستان کی اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے میں ظاہر ہونے والی پیش رفت شاید اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ بچے سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے مقابلے میں متبادل نظاموں میں شامل ہو رہے ہیں، اس طرح معیاری رسمی تعلیم کے حقیقی پھیلاؤ میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ اسکولوں میں داخلے کی تعداد میں اضافہ کے ذریعے کیا جانے والا تجزیہ اکثر تعلیم کے معیار اور نتائج پر مبنی پیش رفت کے مقابلے میں زیادہ متاثر کن دکھائی دے گی۔

مجموعی طور پر، اعداد و شمار ایک ایسے نظام کو ظاہر کرتے ہیں جس نے کچھ شعبوں میں حقیقی پیش رفت کی ہے مگر دیگر اداروں میں ناکامیوں کو چھپا رہی ہے۔ لڑکیوں کی پرائمری تعلیم میں تکمیل کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ زبان کے امتحانات میں لڑکیاں لڑکوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں خواتین برابری کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ یہ حقیقی کامیابیاں ہیں اور ان کا اعتراف ہونا چاہیے۔

لیکن اب بھی 25.1 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ تفصیلی اعداد و شمار سے حاصل کردہ نیا تخمینہ ہے، جو رپورٹ کے اجرا پر بتائے گئے 26.2 ملین سے کم ہے۔ 1.82 ملین لڑکیاں مدارس میں داخل ہیں۔ جنہیں تعلیم یافتہ شمار کیا جاتا ہے مگر وہ رسمی معیشت اور تعلیمی رپورٹ کے لیے پوشیدہ رہتی ہیں۔

ریاست نے خاموشی سے تقریباً ہر پانچ میں سے ایک طالب علم کی ذمہ داری فاؤنڈیشنز، مدارس اور غیر رسمی مراکز کو منتقل کر دی ہے، جن کے نتائج کا وہ منظم طور پر جائزہ نہیں لیتی۔

تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے اکثر تجویز کردہ حل۔ تعلیم پر اخراجات کو طے شدہ معیار کے مطابق چار یا چھ فیصد تک بڑھانا اپنے طور پر کافی نہیں ہو گا۔ موجودہ تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 % پہلے ہی تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ جب تک وسائل کی تقسیم میں ساختی اصلاحات نہ کی جائیں، اضافی فنڈنگ نظام کے اخراجات کو تو بڑھا دے گی مگر نتائج کو بہتر نہیں کرے گی۔ زیادہ پیسہ ضروری ہے، مگر تعلیمی نظام میں اصلاحات کے بغیر یہ ناکافی اور غیر موثر ہو گا۔

نیا ڈیٹا اسٹینڈرڈائزیشن فریم ورک پاکستان کو پہلی بار پورے تعلیمی منظرنامے کو دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ مگر تعلیمی منظرنامے کو دیکھنا ہی مسئلے کا حل نہیں۔ ایک ملک جو اپنے بچوں کو گنتا ہے مگر انہیں مناسب تعلیم نہیں دیتا، تو وہ بحران کو حل نہیں کرتا بلکہ صرف اسے دستاویزی شکل میں پیش کرتا ہے۔

اب اگلا سوال یہ ہے کہ پالیسی سازوں، شہریوں اور ان 25.1 ملین بچوں کے لیے جو اب بھی اپنی تعلیم کا انتظار کر رہے ہیں، کیا یہ دستاویز آخرکار اس مسئلے کے حل کے لئے ذمہ داران کو کسی عملی کارروائی کی طرف لے جائے گی؟ موثر مدد کے آغاز کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس صورتحال کو واضح طور پر سمجھا جائے کہ ملک کا یہ منقسم تعلیمی منظرنامہ حقیقت میں کس طرح کام کرتا ہے اور کیا یہ واقعی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے؟ اعداد و شمار کے علاوہ جو کام بے حد اہم ہے وہ ہے تعلیمی میدان میں بہتر نتائج کا حصول۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW