بلاگ

عوامی مقامات اور عمومی رویہ

dr muhammad zaheer lahore

چند سال قبل مجھے جاپان اور جنوبی کوریا جانے کا اتفاق ہوا جاپان کے شہر ٹوکیو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہوا۔ جس ہوٹل میں میں ٹھہرا ہوا تھا وہ کانفرنس کے مقام سے دور تھا اور کانفرنس تک پہنچنے کے لیے ریل کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ اسی ہوٹل میں ترکی اور ہندوستان سے آئے ہوئے اساتذہ بھی قیام پذیر تھے۔

ہوٹل پہنچ کر سامان رکھا ہاتھ منہ دھونے کے بعد گھر کال ملائی۔ ان دنوں واٹس ایپ تو نہیں ہوا کرتا تھا مگر سکائپ کے ذریعے ہم منسلک ہو جاتے تھے۔ میں نے ویڈیو کال ملائی اور گھر والوں سے بات شروع کر دی تھوڑی ہی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی اور ایک منیجر نما خاتون نے مجھ سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کچھ کہا۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ آپ کے کمرے سے شور کی آوازیں آ رہی ہیں اور آپ کے ساتھ والے کمرے کے رہائشی بے آرام ہو رہے ہیں۔ مہربانی فرما کر شور مت کریں۔ میں نے بہتیرا یقین دلانے کی کوشش کی کہ کوئی شور نہیں ہو رہا مگر آخر میں وہ تقریباً ڈانٹ کر چلی گئی کہ شور نہ کریں۔

خیر کمرے میں آ کر سوچا شاید کال کے دوران میری آواز بلند ہو گئی تھی جو کہ پڑوسی کو ناگوار گزری۔ خیر میرے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ ہمارے تو محلے میں نائی کی دکان پر سارا دن اونچی آواز میں ریڈیو بجا کرتا ہے ہم نے تو کبھی برا نہیں بنایا۔ نصیبو کے سارے گانے ازبر ہو چکے۔

صبح ناشتے پر ایک ہندوستانی پروفیسر صاحبہ نے بتایا کہ رات ان کے کمرے میں منیجر نے آ کر ان سے یہ شکایت کی کہ آپ کے کمرے سے شور کی آوازیں آ رہی ہیں جس پر میں نے اپنی بات بھی بتائی اور ہم دونوں ہنسنے لگ گئے اور ہمارا مشترکہ فیصلہ یہ تھا کہ یہ جاپانی سنکی لوگ ہیں۔ پاکستانی اور ہندوستانی کم ہی کسی بات پر متفق ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسی بات تھی۔ ناشتہ کے فوراً بعد ہم نکل کھڑے ہوئے۔ بمشکل ٹرین پکڑی کہ جاپان میں ٹرین اپنے وقت پر ہی آتی ہے۔ محترمہ کو لاہور کے بارے میں بہت تجسس تھا اور وہ لاہور کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں۔ سو میں نے بھی لاہور کا گائیڈ بن کر جس قدر مبالغہ آرائی ہو سکتی تھی لاہور کے بارے میں کی۔ باتیں کرتے کرتے مجھے یہ احساس ہوا کہ ہم دونوں کے علاوہ کوئی آواز نہ تھی، میں نے دائیں بائیں دیکھا سبھی جاپانی خاموشی سے سفر کر رہے تھے کوئی سوچوں میں گم تھا تو کوئی اپنے موبائل میں اور کوئی کسی کتاب میں یا اخبار میں۔ پروفیسر صاحبہ سے میں نے کہا کہ حضور آواز آہستہ کر لیں۔ ہم نیم بے ہوش لوگوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پھر جب ہم مطلوبہ اسٹیشن پر اترے تب بھی میں نے محسوس کیا کہ سوائے لوگوں کے پیروں کی چاپ کے اگر کوئی دوسری آواز تھی تو وہ دو پڑوسیوں کی تھی۔ ٹوکیو میں ایک ہفتہ قیام کے دوران میں نے یہی سیکھا کہ بھیا سفر خاموشی سے ہی کرنا بہتر ہے۔ ہم پاکستانی اور ہندوستانی بولنے کے شوقین اور با آوازِ بلند بولنے کے عادی مریض ہیں۔ چاہے ہماری آوازیں دوسروں کی سماعت پہ گراں ہی کیوں نہ گزرتی ہوں ہماری بلا سے۔

جب مجھے جنوبی کوریا جانے کا اتفاق ہوا تو میرا قیام قدرے طویل تھا اور میں اکیلا بھی تھا اور کوئی ہم زبان نہیں تھا تو جس ٹرین یا بس کے سفر میں جاتا تو میں صرف مشاہدہ ہی کرتا میں نے شاذ ہی کسی کو دوران سفر بولتے دیکھا۔ اونچا بولنے کا تصور تو تھا ہی نہیں۔

پاکستان میں ہم بس، ویگن یا ریل کوئی سفر کر لیں ہمیں ساتھ والے مسافروں کی بہت ساری معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ کس کی بیگم امید سے ہیں، کن کی طلاق ہونے والی ہے، کس کا بیٹا جورو کا غلام ہے، کس کی اولاد ناخلف ہے، کس کی بیگم بد زبان ہے، کس کا بیٹا نشئی اور کس کا خاوند دوسری خواتین میں دلچسپی لیتا ہے۔ آپ سننا نہ بھی چاہیں تو یہ معلومات آپ کے کانوں تک آتی رہیں گی۔ کیونکہ دوران سفر ہم بولتے چلے جاتے ہیں بلا تکان، بنا رکے۔ ذاتی باتیں نہ ہوں تو سیاسی معاملات زیر بحث ہوتے ہیں اور ظاہر ہے ایسے معاملات میں فریقین کم ہی متفق ہوتے ہیں۔

چند دن پہلے ایک ڈاکٹر صاحب کو دکھانے کے لیے جانا پڑا ہے باری کے انتظار میں ایک گھنٹہ لگ گیا۔ یہاں بھی ایک صاحب موجود تھے جنہوں نے مسلسل کال ملائے رکھی۔ کسی نہ کسی سے با آواز بلند تفصیلات کا تبادلہ ہوتا رہا۔ کچھ خود نمائی اور کچھ بنیادی اخلاقی اقدار کا فقدان سب نے مل کر ہمیں ان کے قسطوں پر فرج اور ٹی وی بیچنے کے کاروبار سے خوب روشناس کیا اور ایک دو پیروں کا بھی ہمیں پتہ چل گیا جن کے تعویذ تیر بہدف ہیں۔

کچھ مسافر عوامی ٹرانسپورٹ پر سوار ہوتے ہی کال ملا لیتے ہیں ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ اسلام آباد سے آتے ہوئے ہوا ہمارے ساتھ والی نشست کے مسافر نے آن لائن بزنس کی کالیں لینی شروع کر دیں، 15 سے 20 منٹ تک تو ہم نے برداشت کیا پھر ہم نے درخواست کی کہ حضور اجازت ہو تو سو لیں؟ انہوں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے ہمیں بخوشی سونے کی اجازت دے دی، یہ کہا آپ سو لیں کس نے منع کیا ہے۔ گزارش کی حضور آپ خاموش ہوں گے تو فدوی سو پائے گا۔ بادل نخواستہ وہ خاموش ہوئے اور خوش قسمتی سے دور ایک خالی نشست پر چلے گئے تب کہیں جا کر ہماری گلو خلاصی ہوئی۔

عوامی مقامات پر ہمارا رویہ انتہائی خراب ہے ہماری اخلاقی اقدار کافی نا گفتہ بہہ ہیں۔

بطور معاشرہ ہمیں بہت سارے معاملات میں سخت تربیت کی ضرورت ہے جیسے دوران سفر دوسروں کے آرام کا خیال، ٹریفک کے قوانین کا احترام، جگہ جگہ تھوکنے اور پان کی پیک پھینکنے سے گریز، دوسروں کو راستہ دینا، جگہ دینا اور اس جیسی کئی باتیں۔

ان سب کی تربیت بہت ضروری ہے اور ہمیں اس تربیت کو پہلی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک کے طلبہ و طالبات کے لیے لازم کر دینا چاہیے تاکہ ہم اچھے اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW