بلاگ

جنگ: انسانی یا غیرانسانی مظہر؟

dr RAFIQ SANDEELVI

جنگ انسانی تاریخ کا وہ پیچیدہ مظہر ہے جو بیک وقت طاقت کی خواہش بھی ہے اور انسانی ضمیر کے لیے ایک مسلسل سوال بھی۔ یہ کبھی ناگزیر ضرورت کے طور پر سامنے آتی ہے اور کبھی انسانی تباہی کی علامت بن جاتی ہے، یوں یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ جنگ انسان کی فطرت کا حصہ ہے یا اس کی ناکامی کا اظہار۔

جنگ ایک ایسی حقیقت ہے جو بیک وقت انسان کی فطرت، ضمیر اور اخلاقی شعور کو آزماتی اور معطل کرتی ہے۔ جنگ صرف دشمن کو غیر انسانی نہیں بناتی بلکہ خود جنگجو کو بھی ایک گہرے اخلاقی اور نفسیاتی بحران میں مبتلا کر دیتی ہے۔ وہ اعمال جو عام زندگی میں ناقابل قبول سمجھے جاتے ہیں، جنگ کے ماحول میں ضروری اور جائز محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ سیاسی یا عسکری تصادم ہی نہیں، ایک نفسیاتی میدان بھی ہے۔ یہاں خوف، غصہ، طاقت اور بقا کی جبلتیں اس قدر غالب آ جاتی ہیں کہ انسانی ضمیر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یوں انسان اپنی ہی اخلاقی حدود سے ٹکرا جاتا ہے، اور یہی تصادم جنگ کو ایک پیچیدہ انسانی تجربہ بنا دیتا ہے۔

جنگ کے دوران انسانی ذہن ایک مخصوص نفسیاتی عمل سے گزرتا ہے جس میں دشمن کو غیر انسانی تصور کرنا ایک لازمی حکمتِ عملی بن جاتا ہے۔ یہ ڈی ہیومینائزیشن کا عمل ہے، جس کے ذریعے فرد اپنے اخلاقی بوجھ کو کم کرنے اور تشدد کو قابلِ قبول بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ خوف، گروہی شناخت اور مسلسل پروپیگنڈا انسانی احساسات کو اس حد تک متاثر کرتے ہیں کہ ہمدردی اور اخلاقی حساسیت بتدریج کمزور پڑ جاتی ہے۔ ضمیر وقتی طور پر معطل ہو کر جنگی ضروریات کے تابع ہو جاتا ہے۔ تاہم مذہبی تعلیمات اس بے لگامی کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور جنگ کے دوران بھی عدل، اعتدال اور انسانیت کو برقرار رکھنے پر زور دیتی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے جواز کے ساتھ ایک اخلاقی حد بندی ہمیشہ موجود رہتی ہے، جسے نظر انداز کرنا معاشرتی اور انسانی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ انسان نے ہر دور میں جنگ کو کبھی ناگزیر اور کبھی جائز قرار دیا ہے۔ مختلف ادوار میں جنگیں نظریات، وسائل اور شناخت کے حصول کے لیے لڑی گئیں۔ بعض تصادم مذہب، قومیت یا سیاسی عقائد کے نام پر ہوئے جہاں ہر فریق نے اپنی اقدار کے تحفظ کو بنیاد بنایا۔ کچھ جنگیں زمین، پانی اور معاشی طاقت جیسے وسائل پر قبضے کی خواہش سے وقوع پذیر ہوئیں جبکہ بعض آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کے طور پر سامنے آئیں۔ گویا جنگ محض تشدد ہی کا نہیں، انسانی خواہشات، مفادات اور بقا کی کشمکش کا مظہر بھی ہے۔

دوسری جانب ایک مضبوط نظریاتی روایت جنگ کو بنیادی طور پر غیر انسانی اور اخلاقی طور پر ناقابل قبول قرار دیتی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق انسانی زندگی اور وقار کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخی تجربات بتاتے ہیں کہ جنگ فوجی تصادم تک ہی محدود نہیں رہتی، اس کے اثرات براہِ راست شہری آبادی تک پہنچتے ہیں۔ نہ صرف معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے بھی تباہ ہو جاتے ہیں جس سے نفسیاتی عوارض جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے جنگ کو محض سیاسی یا فوجی ضرورت کے طور پر جائز قرار دینا ایک خطرناک نقطۂ نظر بن جاتا ہے۔

مہذب دنیا میں جنگ کے حوالے سے اخلاقیات، قانون اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے متصادم رہتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور جنیوا کنونشن جیسے بین الاقوامی ادارے جنگ کو محدود کرنے اور انسانی جان و حقوق کے تحفظ کے لیے اصول وضع کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ صرف مخصوص حالات، جیسے دفاع یا انسانی بحران، میں ہی قابلِ جواز سمجھی جا سکتی ہے، اور اس کے لیے بھی واضح اخلاقی حدود مقرر ہیں۔ تاہم عملی سطح پر یہ اصول ہمیشہ یکساں طور پر نافذ نہیں ہوتے، کیونکہ ریاستیں اکثر اپنی سلامتی اور مفادات کے تحت جنگ کو ناگزیر قرار دیتی ہیں۔ یوں نظریہ اور عمل کے درمیان ایک مستقل کشمکش برقرار رہتی ہے۔ اسی طرح سول سوسائٹی، دانشور اور امن کے علمبردار مسلسل اس امر پر زور دیتے ہیں کہ جنگ کے مہلک اثرات کو کم کرنے کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مکالمے اور تعاون کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔

انسانی تاریخ اور فکر میں جنگ کا عمل دخل صرف فلسفے اور قانون تک ہی محدود نہیں رہا، اساطیر و ادب کی دنیا بھی یہ انسانی رویوں کی پیچیدگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مہابھارت کے کردار جنگ کے دوران اخلاقی اور روحانی تضاد سے گزرتے ہیں، اور ان کی کہانی بتاتی ہے کہ حقیقی جیت صرف فوجی کامیابی سے نہیں، انسانی ضمیر اور انصاف کی فتح سے ہوتی ہے۔ اسی طرح یونانی دیومالا میں ٹروجن جنگ اور ہومر کی رزمیہ نظم ایلیڈ بھی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ محض بہادری کا مظہر نہیں بلکہ غرور، غصے اور اخلاقی کشمکش کا میدان ہے، جہاں ہیرو بھی اپنی انسانیت اور بربریت کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔

اس زاویے سے غور کریں تو ادب میں جنگ کے اثرات محض ایک تاریخی واقعے تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ انسانی ضمیر، اخلاقیات اور روحانی آزمائش کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں۔ مغربی ناول میں تو جنگ کا بیانیہ میدانِ کارزار کی سطح سے بلند ہو کر انسانی شعور کی ساخت، وقت کے احساس اور لایعنیت کے تصور تک پھیل جاتا ہے۔ War and Peace میں ٹالسٹائی جنگ کو انسانی زندگی اور اخلاقی کشمکش کے اندر جذب کر دیتے ہیں، جہاں طاقت اور ضمیر ایک دوسرے کے مقابل آ جاتے ہیں۔ ارنسٹ ہمینگوے کے A Farewell to Arms میں جنگ ایک ایسے تجربے میں بدل جاتی ہے جو جسمانی تباہی کے ساتھ ساتھ جذباتی و اخلاقی خلا بھی پیدا کرتا ہے، یہاں تک کہ محبت بھی اس کے دباؤ میں شکست کھا جاتی ہے۔ Erich Maria Remarque کے All Quiet on the Western Front میں جنگ میدان سے نکل کر ایک مسلسل نفسیاتی اذیت بن جاتی ہے جو ایک سپاہی کے اندرونی وجود کو توڑ دیتی ہے جبکہ Joseph Heller کے Catch۔ 22 میں یہ ایک ایبسرڈ اور بیوروکریٹک نظام کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جہاں انسان نجات کی ہر کوشش کے باوجود اسی جال میں مزید پھنستا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح Slaughterhouse۔ Five میں جنگ زمانی شکستگی، ٹروما اور وجود کی بے معنویت کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے میں مدغم ہو کر انسانی شعور کی داخلی ترتیب کو منتشر کر دیتے ہیں۔

یورپی ناول کے مقابل ایشیائی ناول پر ایک نظر ڈالیں تو Sakae Tsuboi کے Twenty Four Eyes میں جنگ ایک مختلف ثقافتی اور سماجی سیاق میں ابھرتی ہے، جہاں یہ براہِ راست محاذ کے بجائے روزمرہ زندگی، انسانی رشتوں اور اجتماعی معصومیت کے تدریجی زوال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہاں جنگ کے اثرات اس کے ختم ہو جانے کے بعد زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے، اور یہی خاموشی اس کے اثرات کو زیادہ گہرا اور ہمہ گیر بنا دیتی ہے۔ عبداللہ حسین کے ”اداس نسلیں“ میں بھی جنگ اور تاریخ محض پس منظر نہیں رہتے، ایک فعال داخلی تجربہ بن جاتے ہیں، جن کے ذریعے اجتماعی زوال اور انسانی المیے کی تہہ دار صورتیں ابھرتی ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار نعیم فوج میں شمولیت اختیار کر کے جنگ کی ہولناکیوں سے گزرتا ہے، اور یہ تجربہ اس کے شعور میں ایک ناقابلِ فراموش اخلاقی صدمے کی صورت ثبت ہو جاتا ہے۔ اسی طرح خالد حسینی کے ”دی کائٹ رنر“ کا مرکزی کردار امیر بھی جنگ کو ایک داخلی تجربے کے طور پر جھیلتا ہے، جہاں افغانستان کی جنگی صورتِ حال اس کے اندر احساسِ جرم کی ایک مستقل کیفیت پیدا کر دیتی ہے، اور یہی بوجھ اسے نجات کی تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔ یوں دونوں کرداروں کے ہاں جنگ ایک ایسے باطنی کرب میں ڈھل جاتی ہے جو ان کی شناخت اور ضمیر کی تشکیل کو متاثر کرتا ہے۔

فکشن کی ان دو چار مثالوں سے باور آتا ہے کہ ادب جنگ اور اثراتِ جنگ کو ایک آئنے کے طور پر منعکس کرتا ہے جس میں انسان اپنے ضمیر کی تاریکی اور روشنی دونوں کو دیکھتا ہے۔ حقیقت میں ہر تصادم ایک انسانی کہانی ہے کہ طاقت کی فتح کبھی ضمیر کی فتح نہیں ہو سکتی۔ مرتا ہوا انسان ہو یا جلی ہوئی زمین، جنگ کی تباہی ادب کے صفحات پر زندہ گواہی بن کر باقی رہتی ہے۔ دشمن صرف دشمن ہی نہیں، انسان بھی ہوتا ہے جس کی تکلیف ہر اس ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے جو زندہ ہو۔ جنگ اصلاً انسان کے اندر اخلاقی شعور کی آزمائش ہے، اور اسی آزمائش میں اس کی انسانیت یا حیوانیت اور شجاعت یا بربریت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ جنگ سے متعلقہ ادب کی مزاج بندی کرتا ہے۔

یہیں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ اگر جنگ غیر انسانی ہے تو انسان اسے ہر دور میں ناگزیر کیوں سمجھتا رہا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان جنگ کو ہمیشہ آخری حل اور بقا کے ذریعے کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ ریاستیں، گروہ اور معاشرے جب اپنے مفادات، سلامتی یا نظریات کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں تو جنگ کے تباہ کن نتائج کے باوجود اسے ایک ناگزیر انتخاب کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔

اسی تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اگر جنگ انسانی فطرت کا حصہ بھی ہے اور انسانی تباہی کا سبب بھی، تو کیا انسان واقعی اسے قابو میں لا سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنا شاید ایک مثالی تصور ہو، لیکن تاریخ اور انسانی تجربہ یہ بتاتے ہیں کہ اسے محدود بھی رکھا جا سکتا ہے اور قابو میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ فیصلہ پھر بھی یہی رہتا ہے کہ جنگ پر قابو پانے والا انسان، خود اپنے اوپر قابو رکھ پاتا ہے یا نہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW