امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

”سفارت کا چراغ“
خون سے لکھتی رہی جب داستاں یہ سرزمین
آگ تھی ہر سمت، لرزاں تھا جہاں کا ہر یقین
ایسے میں اک نرم سی آواز ابھر کر آ گئی
بات کی، تدبیر کی، اور جنگ کو بھی ٹال گئی
نہ تلواروں کی جھنکار، نہ بارودوں کا شور
اک سفارت کا چراغ، بن گیا امن کا نور
یہ سبق تاریخ کا ہے، یاد رکھ اے کارواں
جیت وہی جس میں ہو انسانیت کا پاسباں
طاقتوں کے کھیل میں جو ہوش سے کام آئے
وہی رضوی قوموں کی صف میں سرخرو کہلائے
آج علی الصبح بین الاقوامی سیاست کے افق پر ایک نئی کروٹ اُس وقت نمایاں ہوئی جب امریکہ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے الٹی میٹم کو دو ہفتوں کے لیے نہ صرف موخر کر دیا بلکہ اسرائیل کو بھی کسی ممکنہ حملے سے فوری طور پر روک دیا۔ دوسری طرف ایران نے بھی پاکستان سفارتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ٹیبل ٹاک پر رضامندی ظاہر کر دی۔ یوں خونِ ناحق مزید بہنے سے وقتی طور پر رک گیا ہے۔ ان مشکل ترین لمحات میں جن سے ایران اور خطے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ خود امریکی فوجی اور اسرائیل کے عوام بھی پریشان حال تھے، پاکستان کی امن کوششوں کے سبب کم ازکم دو ہفتوں کے لیے سکھ کا سانس لے لیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کا کردار، جو ابتدا میں محتاط سفارتکاری اور خاموش حکمتِ عملی پر مبنی تھا، آج عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے اس بحران کے دوران جس بردباری، تدبر اور غیرجانبداری کا مظاہرہ کیا، وہ اس کی خارجہ پالیسی کی پختگی کا مظہر ہے۔ نہ صرف پاکستان نے کسی عسکری اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کیا بلکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کی آواز امن، مکالمے اور علاقائی استحکام کے لیے بلند ہوئی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے نہ تو کسی فریق کی اندھی حمایت کی اور نہ ہی اپنی سرزمین کو کسی پراکسی جنگ کے لیے استعمال ہونے دیا۔ اس پالیسی نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو بڑھایا اور اسے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
دوسری جانب، ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں اس جنگ کے اثرات نہایت سنگین صورت میں ظاہر ہوئے۔ داخلی انتشار، معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام نے وہاں صفِ ماتم بچھا دی۔ اس ملک کی قیادت کی غیر متوازن پالیسیوں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ غیر دانشمندانہ تعلقات نے اسے ایک بحران میں دھکیل دیا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ خارجہ پالیسی میں جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی اور قومی مفاد کو مقدم رکھنا کتنا ضروری ہے۔ پاکستان نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ایک متوازن راستہ اختیار کیا، جبکہ بعض دیگر ریاستیں اب بھی طاقت کے کھیل میں مہرہ بننے کی قیمت ادا کر رہی ہیں۔
مزید برآں، پاکستان کی عسکری اور انٹیلی جنس صلاحیتوں نے بھی خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ پاکستان نے براہِ راست جنگ میں شرکت نہیں کی، مگر اس کی دفاعی تیاری اور اسٹریٹجک پوزیشن نے ممکنہ خطرات کو محدود رکھنے میں مدد دی۔
موجودہ عالمی بحران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا اصل استعمال جنگ میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے میں ہے۔ پاکستان نے اس اصول کو اپناتے ہوئے نہ صرف خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا بلکہ خطے میں استحکام کے لیے ایک کلیدی کردار بھی ادا کیا۔
چنانچہ شرق الاوسط اور پاکستان ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے ایک ایسا کردار جو خاموش سفارتکاری، اسٹریٹجک توازن اور علاقائی استحکام کے اصولوں پر مبنی ہے۔
اس سارے مسئلے کا پس منظر بھی قارئین کے سامنے رکھنا ضروری ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں سے مشرق وسطیٰ عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک کشمکش کا میدان رہا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، اسرائیل کے سکیورٹی خدشات، اور امریکہ کی عالمی بالادستی کی پالیسی ؛ یہ سب عوامل ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سفارتی ناکامیوں اور عسکری اشتعال انگیزیوں نے ایک محدود تصادم کو وسیع جنگ میں تبدیل کر دیا۔
یہ جنگ صرف عسکری نہیں بلکہ نظریاتی، معاشی اور جغرافیائی مفادات کی جنگ بھی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔ اس بحران کے دوران پاکستان نے ایک نہایت متوازن اور دور اندیش حکمتِ عملی اپنائی۔ نہ تو اس نے کسی عسکری اتحاد کا حصہ بننے کی جلد بازی کی، اور نہ ہی کسی فریق کی غیر مشروط حمایت کی۔ اس کے برعکس، پاکستان نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے، مکالمے کو فروغ دینے اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ پاکستان کی یہ پالیسی اس کے ماضی کے تجربات کا نچوڑ ہے، جہاں وہ بڑی طاقتوں کی جنگوں میں شمولیت کے نتائج بھگت چکا ہے۔ اس بار اسلام آباد نے نیوٹرل اسٹریجٹک پالیسی کا راستہ اختیار کیا جو نہ صرف اس کے قومی مفاد کے عین مطابق ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین اور سفارتی حلقوں میں یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی نے امن، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا، جسے عالمی برادری نے سراہا۔ پاکستان کی عسکری تیاری، انٹیلی جنس صلاحیت اور جغرافیائی محلِ وقوع نے بھی اسے ایک اہم اسٹریٹجک کھلاڑی بنا دیا ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب، خطے کے ایک ہمسایہ ملک بھارت میں اس جنگ کے اثرات مختلف انداز میں ظاہر ہوئے ہیں۔ داخلی سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی نے ایک ایسی فضا پیدا کی ہے جسے ”صفِ ماتم“ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ غیر متوازن خارجہ پالیسی، جذباتی فیصلے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ غیر محتاط تعلقات کسی بھی ریاست کو داخلی بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ جہاں پاکستان نے توازن اور حکمت کو ترجیح دی، وہیں دیگر ریاستیں طاقت کی سیاست میں الجھ کر اپنے عوام کو مشکلات سے دوچار کر رہی ہیں۔
یہ جنگ عالمی طاقتوں کے توازن کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ نئی صف بندیاں، علاقائی اتحاد اور معاشی ترجیحات ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم بلکہ فیصلہ کن بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنی موجودہ حکمتِ عملی کو برقرار رکھے۔
موجودہ بحران نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا دنیا طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے یا مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے؟ پاکستان نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے، وہ نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک مثبت مثال ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دیگر ممالک بھی اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ پائیدار امن صرف جنگ کے خاتمے سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور باہمی احترام سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر دنیا نے اس سبق کو نہ سیکھا، تو صفِ ماتم صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ دیگر ممالک بھی پاکستان کی اس حکمتِ عملی سے سبق حاصل کریں اور جنگ کے بجائے امن، مکالمہ اور باہمی احترام کو فروغ دیں، کیونکہ یہی راستہ پائیدار ترقی اور عالمی استحکام کی ضمانت ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے بھی ایک اہم آزمائش موجود ہے۔ اب جبکہ اس کے کردار کو سراہا جا رہا ہے، ضروری ہے کہ یہ پالیسی وقتی ردِعمل نہ رہے بلکہ ایک مستقل حکمتِ عملی کی شکل اختیار کرے۔ علاقائی استحکام، اقتصادی خودمختاری اور سفارتی توازن، یہ تینوں عناصر پاکستان کو نہ صرف اس بحران سے محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ اسے ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر بھی ابھار سکتے ہیں کیونکہ آخرکار، دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ طاقت کے بل پر اپنی بات منوانا چاہتی ہے یا مکالمے کے ذریعے مشترکہ حل تلاش کرنا چاہتی ہے۔ اگر تاریخ نے کچھ سکھایا ہے تو وہ یہی ہے کہ بندوق کی گونج وقتی طور پر تو غالب آ سکتی ہے، مگر پائیدار امن ہمیشہ بات چیت اور باہمی احترام سے ہی جنم لیتا ہے۔
پاکستان نے فی الحال درست سمت کا انتخاب کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا باقی دنیا بھی اسی راستے کو اپنانے کا حوصلہ رکھتی ہے یا ایک بار پھر تاریخ خود کو دہرانے والی ہے۔
راقم الحروف نے اس حوالے سے پہلے کسی کالم میں لکھا تھا:
”ریاستوں کی اصل قوت ان کے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان کے فیصلوں کی بصیرت میں ہوتی ہے ؛ اور پاکستان نے اس بحران میں بصیرت کو طاقت پر فوقیت دی ہے“ ۔ یہ نقطہ نظر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید عالمی سیاست میں صرف عسکری طاقت ہی فیصلہ کن نہیں، بلکہ سفارتی دانش بھی اتنی ہی اہم ہے۔
امریکہ کی پالیسی روایتی طور پر اسرائیل کے تحفظ سے جڑی رہی ہے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کے دفاع کو اپنی بقا کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ سیاسی مفکر نوم چومسکی اس تناظر میں کہتے ہیں ”Power systems are not interested in justice; they are interested in maintaining power“ ۔
یہ اقتباس اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اصول اکثر مفادات کے تابع ہو جاتے ہیں اور یہی وہ تضاد ہے جس نے موجودہ بحران کو مزید پیچیدہ بنایا۔ پس بقول راقم الحروف ”خارجہ پالیسی جب داخلی سیاست کا آلہ بن جائے تو ریاستیں عالمی بساط پر کھلاڑی نہیں بلکہ مہرے بن جاتی ہیں“ ۔ یہ جملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر متوازن پالیسیوں کے نتائج کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ہمارا ہمسایہ بھارت اسی کشمکش میں مبتلا ہے۔
اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہر جنگ کی طرح اس تنازع کی اصل قیمت بھی عام انسان ادا کر رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے شہری خوف، عدم تحفظ اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن یہاں ایرانی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا پڑے گا کہ انہوں نے ایسی یک جہتی کا مظاہرہ کیا ہے جسے تاریخِ انسانی کبھی فراموش نہ کرسکے گی۔ کل رات ایرانی اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر پلوں اور پاور پلانٹس پر جمع ہوئے جب امریکی صدر نے انہیں اڑا دینے کا الٹی میٹم دے رکھا تھا؛ لیکن پاکستان کی کوششوں سے لاکھوں انسانوں کی جانیں قربان ہونے سے بچ گئیں۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا اور بالکل سچ کہا تھا کہ ”War is never a solutio; it is the failure of solutions۔“
یہ الفاظ اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جنگ دراصل سفارتکاری کی ناکامی کا اعتراف ہوتی ہے، نہ کہ کامیابی۔
راقم الحروف سمجھتا ہے کہ پاکستان اگر توازن کی اس پالیسی کو مستقل مزاجی سے اپنائے رکھے تو وہ نہ صرف بحرانوں سے محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ امن کے سفیر کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہ ایک ویژن ہے۔ ایسا ویژن جس میں پاکستان محض ردِعمل دینے والی ریاست نہیں بلکہ عالمی امن میں فعال کردار ادا کرنے والی قوت بن سکتا ہے۔ البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا ”Peace cannot be kept by force; it can only be achieved by understanding“ ۔
یہی وہ سبق ہے جو موجودہ بحران ہمیں سکھا رہا ہے۔ پاکستان نے فی الحال اس راستے کا انتخاب کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا باقی دنیا بھی اس سمت میں قدم بڑھاتی ہے یا ایک بار پھر تاریخ کو دہرانے کا خطرہ مول لیتی ہے۔
آخر میں نظم ”سلام اے پاکستان“ کے چند اشعار نذرِ قارئین!
سلام اے سرزمینِ صبر و تدبیر و وفا
تو نے پھر روشن کیا امن کا اک نیا دیا
جب دھواں چھانے لگا تھا ہر افق کے درمیاں
تو نے حکمت سے بجھا دی جنگ کی ہر اک فضا
نہ جھکا سر، نہ بکی غیرت، نہ بدلا راستہ
قائم رکھا تو نے اپنا و قارِ باوقار راستہ
تیری آوازِ امن کو مانا گیا ہر سمت آج
تو بنا امیدِ عالم، تو بنا اہلِ نیاز
اے وطن! تجھ پر فدا یہ جذبۂ خیر و خرد
تو ہی امن کا سفیر، تو ہی مستقبل کی فرد
