رشنا، ہر دور کی اپنی ہے کربلا

حق اور باطل کی کشمکش کسی ایک زمانے تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر عہد میں اپنی نئی صورتوں اور ناجائز مطالبات کے ساتھ جلوہ گر ہوتی رہی ہے۔ گویا حق اور باطل کی تکرار ازل سے ابد تک جاری ہے۔ یہی اصل معرکہ حق ہے۔ ڈاکٹر ابرار عمر لکھتے ہیں
رشنا، ہر دور کی اپنی ہے کربلا
رشنا، ہر دور کا اپنا یزید ہے
شیرِ خدا کا فرمان ہے کہ اگر حق کو سمجھنے میں مشکل ہو تو باطل کے تیروں کی سمت دیکھو؛ جس طرف ان کا رخ ہو، وہی حق ہے۔ یہ صرف مولا کا ایک قول نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے رہنمائی کا راستہ ہے۔
کربلا کی طرف نظر دوڑائیں تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ظالم کے سامنے سینہ سپر ہونے کا استعارہ اور ایک دائمی حقیقت ہے جو ہر دور میں نئے کرداروں اور نئے میدانوں کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔ بلاشبہ جابرِ وقت کے خلاف ہر جنبش حضرت امام حسینؓ کی شہادت اور فیض ہی کا نتیجہ ہے، اور یہ جراتِ رندانہ جس نے بھی دکھائی، اس نے اصل سرمایۂ حیات کو گلے سے لگا لیا۔
آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ کے حالات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ طاقت کے نشے میں مست قوتیں ایک بار پھر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کو روندتی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس حملے کے پسِ پردہ سوچ کیا ہے؟ کیا یہ وہی سوچ نہیں جو ہمیشہ سے کمزور کو دبانے، مزاحمت کو کچلنے اور اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے؟
یہاں کربلا کا استعارہ پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق کا ساتھ دینا آسان نہیں ہوتا، اور باطل کے سامنے ڈٹ جانا قربانی مانگتا ہے۔ اور ایران نے عملی طور پر یہ دکھا دیا۔ آج ایران کی سرزمین پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی آزمائش کا ایک نیا باب ہے۔ طاقتور ممالک کی جانب سے یک طرفہ کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں بلکہ عالمی نظام کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں۔
ایسے نازک وقت میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے با اثر سیکریٹری علی لاریجانی کا مسلم دنیا کے نام پیغام ایک اہم دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں اظہارِ افسوس کرتے ہوئے لکھا ہے ”کوئی اسلامی حکومت ایران کے عوام کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی، سوائے چند غیر معمولی معاملات اور محض سیاسی بیانات تک محدود مثالوں کے۔“
ان کے اس جملے میں صرف شکوہ نہیں بلکہ ایک گہری مایوسی بھی جھلکتی ہے۔ یہ مایوسی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ امتِ مسلمہ کی اجتماعی قوت، جو کبھی اس کی پہچان ہوا کرتی تھی، آج بکھراؤ اور مفادات کی سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔ شاعرِ مشرق نے کئی دہائیاں قبل امتِ مسلمہ کی حالتِ زار بیان کر دی تھی
قافلۂ حجاز میں، ایک حسینؓ بھی نہیں
مسلمان ممالک کے نام ان کے پیغام میں استعمال کی گئی زبان سے یہ تاثر واضح ہوتا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ ایران کا موقف مسلم دنیا کی عوامی سطح پر نہ صرف پذیرائی حاصل کرے گا بلکہ امت کی موجودہ حالت کی عکاسی بھی۔ اگر خطۂ عرب کی طرف دیکھیں تو پورا علاقہ شیطان بزرگ کی گرفت میں دکھائی دیتا ہے۔ بے جا امریکی اڈے اور عسکری تنصیبات، جو اکثر مسلم ممالک کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہیں، اسی سرزمین پر قائم ہیں۔ عراق، شام، لبنان، فلسطین اور اب ایران، جس طرف بھی دیکھیں، سہولت کاری کسی نہ کسی صورت موجود ہے، چاہے وہ اڈوں کی شکل میں ہو یا مجرمانہ خاموشی کی صورت میں۔ حالانکہ امریکہ خود ایران سے دس ہزار میل دور ہے۔
اب کی بار باطل قوتوں کے مقابل ایران ہے، جو سینہ تان کر کھڑا ہے۔ ہزاروں شہادتیں ایران کے موقف کی سچائی بیان کر رہی ہیں۔ جونہی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی اڈوں پر پہلا میزائل داغا، خطۂ عرب کے امریکی تحفظ کے تصور کا شیرازہ بکھر گیا۔ نصرت صدیقی لکھتے ہیں
ایک ظلم کرتا ہے، ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے، کون سے گھرانے سے
علی لاریجانی نے اپنے پیغام میں ایک نہایت دو ٹوک سوال بھی اٹھایا ”ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں اور دوسری طرف مسلم ایران اور مزاحمتی قوتیں۔ آپ اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں؟“
یہ سوال محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک اخلاقی چیلنج ہے۔ یہ وہی سوال ہے جو کربلا کے میدان میں بھی گونجا تھا کہ حق اور باطل کے درمیان لکیر کھچ جانے کے بعد غیر جانبداری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
غور طلب نکتہ یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا کی قیادت اس چیلنج کا جواب کیوں نہیں دے پا رہی؟ کیا یہ خوف ہے، مفادات کا جال، یا وہ کمزوری و بے حسی جس نے اجتماعی فیصلوں کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے؟ حقیقت شاید ان سب عوامل کا مجموعہ ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ جو کینٹ کا اس حملے کے بعد مستعفی ہونا اور اس جنگ کو ناجائز قرار دینا ایک اہم اشارہ ہے۔ انہوں نے واضح طور پر اس حملے کو ظلم اور جبر قرار دیا، جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مغربی دنیا کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو طاقت کے اندھا دھند استعمال کو درست نہیں سمجھتے۔
لیکن انفرادی سطح پر ایسے اقدامات، چاہے کتنے ہی اہم کیوں نہ ہوں، اس وقت تک بڑی تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتے جب تک اجتماعی سطح پر شعور اور جرات کا اظہار نہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں کربلا کا پیغام ایک بار پھر ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
آج کے حالات میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سیاست ایک بار پھر طاقت کے اصولوں پر استوار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ جیسے ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، اور عالمی قوانین محض رسمی دستاویزات بن کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے کربلا کے پیغام کو اکثر محض ایک تاریخی واقعے یا مذہبی روایت تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اس کا اصل مفہوم ایک زندہ اور متحرک فلسفہ ہے۔ یہ فلسفہ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، سچ کا ساتھ دینے اور اپنے ضمیر کی آواز سننے کا درس دیتا ہے۔
اگر آج ہم اس پیغام کو سمجھ لیں تو شاید ہمیں یہ احساس ہو جائے کہ خاموشی بھی ایک موقف ہوتی ہے اور خاموشی کو ”ہاں“ ہی سمجھا جائے گا۔ اکثر اوقات یہ موقف ظلم کے حق میں جاتا ہے۔ مسلم دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی یکجہتی اور جرات مندانہ فیصلے ہیں۔ تازہ خبر یہ سامنے آئی ہے کہ علی لاریجانی کو اسرائیلی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔ ان کی شہادت یقیناً ایران انقلاب کو نئی کمک عطا کرے گی اور ایرانی قوم کو مزید مضبوطی عطا فرمائے گی۔ دین میں شہادت مومن کا بلند ترین مقام ہے، اسلامی دنیا کے عظیم فاتح حضرت خالد بن ولید کی یہ آرزو رہی تھی کہ انہیں شہادت کا رتبہ حاصل ہو۔
تاریخ صرف واقعات کو ہی نہیں بلکہ کرداروں کو بھی یاد رکھتی ہے کہ کون چراغ بنا اور کون باد مخالف کا شکار ہوا۔
کربلا کا پیغام آج بھی یہی ہے کہ حق کی راہ میں اٹھایا گیا ایک قدم، باطل کے ہزاروں قدموں پر بھاری ہوتا ہے۔ علی رایجانی اور ایرانی شہدا اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر ابرار نے یوں ہی تو نہیں کہا تھا
رشنا، ہر دور کی اپنی ہے کربلا
رشنا، ہر دور کا اپنا یزید ہے