میرے مطابق

مادر وطن کی محبت، جذبات سے ماں کی گود تک

Faheem Ahmad Khan

ہم پاکستانی قوم جذبات کی ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں محبت اکثر اپنے آبائی ملک سے زیادہ خطہ کے دوسرے ممالک سے کرتے ہیں۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ کبھی ہم نے اپنے سکولوں، کالجوں اور سرکاری املاک کو آگ لگا کر اپنے ہی ملک کے خلاف احتجاج کیا، کبھی بیرونی لیڈروں کی حمایت میں سڑکیں بند کیں اور کبھی اپنے ہی بھائیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ گزشتہ دنوں گلگت بلتستان اور سکردو میں جو کچھ ہوا، پاکستانی املاک، سکولوں اور کالجوں کو آگ لگانا اور دو فوجیوں کو زندہ جلا دینا، وہ کوئی واقعہ نہیں بلکہ ہماری قومی سوچ کا ایک تکلیف دہ آئینہ ہے۔ اسے دیکھ کر ہر وہ شخص جو اپنے وطن کو ماں سمجھتا ہے، راتوں کی نیند گم کر بیٹھتا ہے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کب ہم ایک سچی محب وطن قوم بنیں گے؟

زمانہ طالبعلمی میں ہمارے جلوسوں کا موضوع امریکہ مردہ باد، صدام حسین زندہ باد ہوتا تھا ہم سے پہلے تعلیم حاصل کرنے والوں کا موضوع قذافی، امام خمینی، شاہ فیصل، یاسر عرفات اور ہمارے بعد تعلیم حاصل کرنے والوں کا موضوع اسامہ بن لادن کی محبت ہوتا تھا۔ کئی طلبہ یا ان کے والدین نے اپنے یا بچوں کے نام بھی انہی ناموں پر رکھ لیے۔ ہم نے اپنے بچوں اور علاقوں کے نام تک ان شخصیات سے منسوب کر دیے۔ اگر کوئی ان پر تنقید کرتا تو رشتے، تعلقات کو قربان کر کے جان لینے کے درپے ہو جاتے۔ یہ محبتیں کبھی مذہبی عقیدے کی بنیاد پر تھیں تو کبھی سیاسی جذبات کی۔ مگر نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلا: ہم نے اپنے گھروں، اپنے شہروں اور اپنے ہی ہم وطنوں کو نقصان پہنچایا۔ حاصل کیا ہوا؟ کچھ بھی نہیں۔

آج بھی جب علاقائی کشیدگی بڑھ رہی ہے تو ہم تین دھڑوں میں تقسیم ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے افغانستان کو کچھ ہوا تو پاکستان کو آگ لگا دیں گے، دوسرا کہتا ہے ایران کو کچھ ہوا تو ہم اپنا ملک جلا دیں گے اور تیسرا سعودی عرب کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ یہ تقسیم جذبات کی بنیاد پر ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملکوں کے درمیان تعلقات جذبات پر نہیں بلکہ اپنی اپنی قومی ترجیحات اور مفادات پر قائم ہوتے ہیں۔ ماضی میں جب افغانستان اور ایران نے برملا اور سعودی عرب نے پوشیدہ طور پر پاکستان کے خلاف موقف اختیار کیا تو کیا ان ممالک کے پاکستان میں آباد پرستاروں نے ان ممالک سے سوال کیا کہ ہم تو تمہاری محبت میں پاکستان کے امن کو داؤ پر لگانے، املاک کو آگ لگانے اور اپنے ہی پاکستانی بھائیوں کو مرنے مارنے کو تیار ہیں، تم نے ہمارا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ کیا ان ممالک میں آباد کسی افغانی، ایرانی یا سعودی نے پاکستان کی حمایت یا محبت میں اپنی حکومت کے خلاف کوئی احتجاج کیا؟ کیا ان کے شہریوں نے اپنے ملک کی املاک توڑیں یا پاکستان کی خاطر اپنے ہی لوگوں پر ہاتھ اٹھایا؟ جواب ہے نہیں۔

دوسری طرف ہمارا اپنا ملک ہے جس نے ہمیں شناخت دی، عزت دی، وقار دیا، روزگار دیا اور پاسپورٹ کی شکل میں پہچان دی۔ یہ وہ ملک ہے جس کی فوج ہر مشکل میں ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ مگر ہم اغیار کی محبت میں اسی ملک کی جڑیں کمزور کر رہے ہیں۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ جن ممالک کی ہم اتنی پرجوش محبت کرتے ہیں وہ ہمیں بغیر ویزے کے اپنے ملک میں داخل ہونے تک کی اجازت نہیں دیتے۔ جبکہ پاکستان نے ہمیں ماں کی مانند پالا ہے۔

ایک سچا محب وطن وہ ہے جو اپنے عقیدے، نظریے اور ذاتی رجحانات سے زیادہ اپنے ملک، اس کی اساس، اس کے اداروں اور بالخصوص پاک فوج سے محبت کرتا ہے۔ کیونکہ وطن ماں کی مانند ہے۔ ماں کے لئے کوئی عقیدہ نہیں بدلتا، کوئی نظریہ نہیں بدلتا۔ وہ صرف ماں ہوتی ہے۔ اسی طرح پاکستان ہماری ماں ہے۔ اس کی حفاظت، اس کی ترقی اور اس کے اداروں کی مضبوطی، اس کی املاک کی حفاظت اور اس کے شہریوں کی جان، مال، عزت کی حفاظت ہی ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ جذبات اچھے ہیں مگر جب وہ قومی مفادات کے خلاف چل پڑیں تو وہ تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم جذباتیت سے نکل کر ایک سچی محب وطن قوم بنیں۔ اپنے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کریں، اپنی فوج اور اداروں کا احترام کریں اور یہ سمجھیں کہ وطن کی محبت کا مطلب ہے سب سے پہلے پاکستان۔ جب ہم اس سوچ کو اپنا لیں گے تو پھر کوئی بیرونی شخصیت یا ملک ہمارے دل میں اس مقام پر نہیں آ سکے گا جو صرف ہمارے وطن کا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW