کراچی: غریبوں کی امیر ماں اور ایک مظلوم شہر

کراچی، وہ شہر جو کبھی ایشیا کا پیرس کہلاتا تھا، آج آلودگی اور بحرانوں سے گھرا ایک مظلوم وجود بن چکا ہے۔ یہ غریبوں کی امیر ماں ہے جو لاکھوں لوگوں کو روزگار اور پناہ دیتی ہے، مگر خود اس کی رگوں کا خون چوس لیا گیا ہے۔ ماضی میں اس کا انفراسٹرکچر دنیا کے ترقی یافتہ شہروں کی طرز پر تھا، جو آج بھی رشک کا باعث ہے۔ افسوس حکمرانوں کی نا اہلی، کرپشن اور لسانی تعصب نے اس عظیم شہر کو برباد کر دیا گیا۔ آج ہم اس شہر کی صنعتی طاقت، فلاحی روح اور موجودہ بحرانوں کی کہانی سناتے ہیں، تاکہ سمجھ سکیں کہ کراچی کو بچانا پاکستان کو بچانا ہے۔ کیونکہ کراچی پاکستان کی صنعتی طاقت کا مرکز ہے۔
کراچی اور لاہور کے صنعتی مراکز کا موازنہ کریں تو لاہور کا سندر انڈسٹریل اسٹیٹ صرف 1,760 ایکڑ پر پھیلا ہے، فیصل آباد کا صنعتی علاقہ 3,000 سے 3,500 ایکڑ کے درمیان ہے۔ مگر کراچی کے سامنے یہ سب چھوٹے ہیں۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا تقریباً 10,000 ایکڑ پر محیط ہے۔ پورٹ قاسم کا انڈسٹریل زون 15,474 ایکڑ تک پھیلا ہوا ہے، جو ڈاؤن اسٹریم صنعتی اور بندرگاہ سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کا کل علاقہ تقریباً 18,600 ایکڑ ہے (مین پلانٹ 10,390 ایکڑ) ۔ سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ) کا رقبہ 9,700 ایکڑ کے قریب ہے۔ یہاں تک کہ KPT ڈاؤن اسٹریم ایریا بھی 470 ایکڑ پر ہے۔ یہ علاقے نہ صرف مینوفیکچرنگ کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرتے ہیں اور ٹیکس کا خزانہ بھرتے ہیں۔ کراچی پاکستان کی بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈالتا ہے، قومی جی ڈی پی کا 20 سے 25 فیصد، اور وفاقی ٹیکس میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ 2024۔ 25 میں LTO کراچی نے ریکارڈ 3,256 ارب روپے جمع کیے، جو قومی مجموعے کا تقریباً 28 سے 30 فیصد ہے (مجموعی طور پر شہر کی ٹیکس شراکت 50 فیصد سے زیادہ ہے ) ۔ آئی ٹی سیکٹر کا بڑا حصہ بھی یہیں ہے، ہزاروں سافٹ ویئر کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ کثیر القومی کمپنیاں اور کارپوریٹ سیکٹر کی بڑی تعداد، بینکنگ کا ارتکاز بھی کراچی میں ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ہے، مگر اس دل کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
کراچی کو ایک فلاحی شہر بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس شہر کی روح صرف صنعت تک محدود نہیں، فلاحی کاموں میں بھی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن، جے ڈی سی سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اور چھیپا جیسی بڑی تنظیمیں یہیں سے وجود میں آئیں اور پورے ملک میں پھیل گئیں۔ یہاں خیراتی کاموں کی تعداد عالمی سطح پر بے مثال ہے۔ تاریخی طور پر یہ شہر 20 سے 30 ممالک سے بین الاقوامی طلبہ اور زائرین کو متوجہ کرتا تھا۔ ایران، فلسطین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک سے لوگ آتے تھے۔ کراچی یونیورسٹی، طارق روڈ اور جھیل پارک کے قریب علاقے غیر ملکیوں کے لیے رہائش اور مطالعہ کے مراکز تھے۔ یہ کشش کراچی کی زندہ دلی کی علامت تھی، مگر آج یہ سب ختم ہو چکا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی ایشیا کا پیرس سے آلودہ اور ناکام شہر بن گیا ہے۔ یہ وینٹی لیٹر پر ہے، دنیا کے گندے ترین شہروں میں شمار ہو گیا ہے جس کا ذمہ دار کون؟ یقیناً حکمرانی کی ناکامی، ادارہ جاتی تباہی اور مصالحت کی پالیسیوں نے چوری اور مداخلت کی راہ ہموار کی۔ انفراسٹرکچر تباہ، ٹرانسپورٹ ناکام، قانون و ترتیب کا فقدان، انجینئرنگ نگرانی کی کمی۔ زمینوں پر قبضہ، بھتہ خوری، رشوت اور ملی بھگت عام ہونا اس شہر کی بربادی کی بڑی وجہ ہے۔
اس شہر کے ساتھ اتنا ناروا سلوک رکھا گیا ہے کہ کوئی ماسٹر پلان نہیں، حالانکہ آبادی 200,000 سے بڑھ کر 2023 مردم شماری کے مطابق تقریباً 20.3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ پانی، بجلی، گیس، سیوریج اور سڑکیں ناکافی ہیں۔ آبادی کا اضافہ تقریباً 3.6 سے 4 فیصد سالانہ ہے (قومی اوسط 2.55 فیصد سے زیادہ) ، یعنی لاکھوں نئے لوگ، جن میں 700,000 سے 1 ملین ہجرت کرنے والے شامل ہیں۔ یہ دباؤ شدید ہے۔ سیکیورٹی کے خلا، بے روزگاری، غربت اور صحت کی کمی جرائم اور انتہا پسندی کو بڑھاتی ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے اس شہر کے تعلیم یافتہ نوجوان بیرون ملک جا بسے ہیں۔ بچے لندن یا امریکہ میں پڑھتے اور رہتے ہیں۔ خاندانی بنگلے خالی، مقامی کاروبار کمزور۔ مگر کامیاب مثالیں بھی ہیں جہاں مربوط منصوبہ بندی سے زیادہ کثافت والی ترقی ممکن ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کی انتظامی حیثیت تبدیل کریں۔ اسے وفاقی علاقہ خود خودمختار بنائیں، ہانگ کانگ طرز کا نظام متعارف کرائیں، مالیاتی دارالحکومت قرار دیں یا سردیوں کا دارالحکومت۔ اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کریں، ضروریات کا جائزہ لیں، وسائل ناپیں اور آبادی کے اضافے سے ہم آہنگ ماسٹر پلان نافذ کریں۔ یہ سب کرنے کے لئے جہاں کراچی کے تمام سٹیک ہولڈرز کا بغیر کسی رنگ نسل مذہب مسلک کے اکٹھا ہونا ضروری ہے وہیں اگر کراچی کے لوگ بطور سول سوسائٹی کے ایک پیج پر آ جائیں تو کوئی نہیں روک سکتا۔ جس دن کراچی ٹھیک ہو گیا، پاکستان ہاتھ پھیلانا چھوڑ دے گا اور دوبارہ دینے والا بن جائے گا۔ یہ وقت اتحاد کا ہے، کیونکہ کراچی کا احیاء پاکستان کا احیاء ہے۔
