ڈاکٹرز کی ہجرت، ایک خاموش قومی ایمرجنسی

پاکستان میں 2025 ایک ایسا سال بن کر سامنے آیا ہے جس نے ہمارے صحت کے نظام کی اندرونی کمزوریوں کو پوری شدت سے عیاں کر دیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، صرف ایک سال میں تقریباً چار ہزار پاکستانی ڈاکٹرز ملک چھوڑ گئے۔ یہ کوئی معمولی خبر نہیں، بلکہ ایک ایسا الارم ہے جو بتا رہا ہے کہ ہم بطور ریاست اور بطور معاشرہ اپنے سب سے قیمتی انسانی سرمائے کو کھوتے جا رہے ہیں۔
گیلپ پاکستان کی ڈیجیٹل اینالیٹکس رپورٹ، جو بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز امپلائمنٹ کے سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہے، واضح کرتی ہے کہ 2025 میں 3,800 سے 4,000 ڈاکٹرز نے باضابطہ طور پر پاکستان چھوڑا۔ یہ تعداد ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ تین دہائیوں تک ڈاکٹروں کی ہجرت چند سو تک محدود رہی، پھر آہستہ آہستہ یہ ایک ہزار، ڈیڑھ ہزار، دو ہزار تک پہنچی، اور اب یہ ایک مستقل اور خطرناک رجحان کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ مسئلہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہ ایک ساختی بحران ہے جو برسوں سے پنپ رہا تھا۔ ہمارے ہسپتالوں میں کام کرنے والے نوجوان ڈاکٹرز طویل ڈیوٹی اوقات، ناکافی سہولیات، اور حد سے زیادہ مریضوں کے دباؤ میں کام کرتے ہیں۔ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی آلات تک میسر نہیں ہوتے، جبکہ سیکیورٹی کے مسائل ایک الگ خوف کی فضا پیدا کیے رکھتے ہیں۔ ڈاکٹرز پر تشدد، دھمکیاں، اور ہجوم کے حملے اب کوئی نادر واقعہ نہیں رہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کیریئر کی ترقی کے راستے بھی محدود ہیں۔ اسپیشلائزیشن کے مواقع کم، تحقیق کے لیے فنڈز نہ ہونے کے برابر، اور ترقی کا نظام اکثر میرٹ کے بجائے سفارش کا محتاج نظر آتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور خلیجی ممالک بہتر تنخواہیں، پیشہ ورانہ احترام اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کریں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک نوجوان ڈاکٹر آخر کیوں نہ جانے کا سوچے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان ہر سال تقریباً بائیس ہزار نئے ڈاکٹر تیار کرتا ہے۔ ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد تین لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے، لیکن عملی طور پر صحت کا نظام پھر بھی شدید کمی کا شکار ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور اسپیشلسٹ شعبوں میں۔ اس کی وجہ صاف ہے، بڑی تعداد یا تو ملک چھوڑ چکی ہے، یا پیشے سے ہی کنارہ کش ہو گئی ہے۔
یہ ہجرت محض انفرادی فیصلوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ قومی نقصان ہے۔ ریاست ہر ڈاکٹر کی تعلیم پر بھاری سرمایہ کاری کرتی ہے۔ جب یہی تربیت یافتہ افراد بیرون ملک جا کر دوسرے ممالک کے نظام صحت کو مضبوط کرتے ہیں، تو یہ ہمارے لیے دوہرا نقصان بنتا ہے۔ ایک طرف ہم وسائل کھو دیتے ہیں، دوسری طرف عوام کو بہتر علاج کی سہولت میسر نہیں رہتی۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے محض بیانات کافی نہیں۔ فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور کام کے اوقات کو معقول بنانا ہو گا۔ ہسپتالوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کیریئر کی ترقی کے واضح اور شفاف راستے بنانا ہوں گے، تاکہ نوجوان ڈاکٹرز کو یہ احساس ہو کہ ان کا مستقبل اسی ملک میں محفوظ ہے۔ دیہی علاقوں میں تعیناتی کے لیے پرکشش مراعات اور واپسی پر خصوصی سہولتیں بھی پالیسی کا حصہ ہونی چاہئیں۔
2025 کا یہ ریکارڈ محض ایک عدد نہیں، بلکہ ایک وارننگ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو یہ رجحان مزید تیز ہو گا۔ سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹرز بہتر مستقبل کی تلاش میں کیوں جا رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم پاکستان میں ایسا مستقبل بنانے کے لیے تیار ہیں، جس کے لیے ہمارے ڈاکٹرز کو ملک چھوڑنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ وقت کم ہے، اور تاخیر کی قیمت ہمیشہ عوام ہی چکاتے ہیں۔
