کراچی کی اکھڑتی سانسیں : 2025 کا ماحولیاتی عذاب اور ہمارا مستقبل

اگر آپ 2025 میں کراچی میں مقیم رہے ہیں، تو آپ نے موسمیاتی تبدیلی کو صرف دیکھا نہیں بلکہ اسے اپنے پھیپھڑوں اور اپنی جلد پر محسوس کیا ہے۔ دہائیوں سے ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کا ذکر یوں کرتے رہے جیسے یہ کسی دور افتادہ منظر نامے پر ابھرتا ہوا کوئی سست طوفان ہو۔ لیکن سال 2025 نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ طوفان ہمارے ساحلوں سے ٹکرا چکا ہے اور اس نے پاکستان کی معاشی شہ رگ کو بقا کی جدوجہد کے ایک کٹھن محاذ میں بدل دیا ہے۔ جون کی ریکارڈ توڑ گرمی سے لے کر دسمبر میں چھائی آلودگی کی زہریلی چادر (Toxic Shroud) تک، کراچی اس وقت ایک ایسی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی سے نبرد آزما ہے جس سے نمٹنے کی سکت کسی ہسپتال کے نظام میں نہیں۔ دو کروڑ سے زائد نفوس کا یہ شہر محض ایک سکونتی مرکز نہیں رہا، بلکہ یہ حیاتِ انسانی کے لیے نامہربان ہوتے ہوئے ماحول میں بقا کی آخری حدوں کو پرکھنے والی ایک خوفناک تجربہ گاہ بن چکا ہے۔
سال 2025 کو موسمیاتی ہچکولوں (Weather Whiplash) کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس کا آغاز فروری کی غیر معمولی گرمی سے ہوا جب درجہ حرارت تاریخی اوسط سے تقریباً ایک درجہ زیادہ رہا۔ جون تک پہنچتے پہنچتے جنوبی سندھ میں پارہ 52 ڈگری سینٹی گریڈ کی جھلساتی ہوئی سطح کو چھو گیا۔ اسی مہینے کے صرف ایک ہفتے میں گرمی سے ہونے والی اموات میں ہوشربا اضافہ ہوا اور کراچی کے مردہ خانوں میں 560 سے زائد لاشیں لائی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ درجہ حرارت جو دنیا میں کہیں اور محض قابلِ برداشت سمجھا جاتا ہے، یہاں جان لیوا کیوں بن جاتا ہے؟ اس کا جواب شہری رقبے میں کنکریٹ کے اس بے لگام اضافے میں پوشیدہ ہے۔ کراچی اربن ہیٹ آئی لینڈ (Urban Heat Island) کے اثرات کا شکار ہے جہاں محض دو سالوں میں شہری ہریالی میں ہونے والی 12 فیصد کمی حبس اور تپش کو برقرار رکھنے کا باعث بنتی ہے۔
جیسے ہی ہم مون سون کے موسم میں داخل ہوئے، شہر کو بارش کے ایک ایسے پیٹرن کا سامنا کرنا پڑا جو غیر متوقع بھی تھا اور شدت آمیز بھی۔ جب ایک ہی سپیل میں تقریباً 230 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، تو نتیجہ صرف سڑکوں کے ڈوبنے کی صورت میں نہیں نکلتا؛ بلکہ یہ صفائی کے پورے نظام کے سینیٹری کولیپس (Sanitary Collapse) کا باعث بنتا ہے۔ کراچی میں، جہاں سیوریج لائنیں اور پینے کے پانی کے پائپ ایک دوسرے کے متوازی چلتے ہیں، ان بارشوں نے پانی سے پیدا ہونے والے جراثیم میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا۔ ستمبر 2025 تک سرکاری ہسپتالوں میں گیسٹرو کے کیسز میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ کھڑا پانی مچھروں کی مستقل آماجگاہ بن گیا، اور ڈینگی اور ملیریا موسم کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ ہماری کچی آبادیوں میں مستقل ڈیرے ڈال چکے ہیں۔
شاید 2025 کے آخر میں سب سے خوفناک تبدیلی کراچی کی سردیوں کا نیا روپ تھا۔ وہ خوشگوار ساحلی خنکی اب زہریلی دھند (Toxic Fog) میں بدل چکی ہے۔ دسمبر 2025 میں، ائر کوالٹی انڈیکس (AQI) اکثر 400 کے ہندسے کو عبور کرتا رہا، جسے تکنیکی طور پر خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ یہ محض قدرتی دھند نہیں ہے ؛ یہ صنعتی اخراج، تعمیراتی دھول اور کچرے کے دھوئیں کا ایک جان لیوا مرکب ہے جو ٹمپریچر انورژن (Temperature Inversion) کی وجہ سے فضا میں قید ہو جاتا ہے۔ ہسپتالوں نے فضائی آلودگی کی ان بلند ترین سطحوں کے دوران سانس کی تکلیف کے باعث ایمرجنسی روم کے دوروں میں 40 فیصد اضافے کے اعداد و شمار رپورٹ کیے۔ شہر کے ممتاز طبی مراکز کے ماہرینِ امراضِ سینہ نے انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز (ILD) میں اضافے کو نوٹ کیا ہے، یہ ایک ایسی حالت ہے جو کبھی شاذ و نادر ہی سامنے آتی تھی لیکن اب ان مریضوں میں بھی ظاہر ہو رہی ہے جنہوں نے کبھی سگریٹ نہیں پی، صرف اس لیے کہ جس ہوا میں وہ سانس لے رہے ہیں وہ بذاتِ خود کینسر کا سبب بننے والے عناصر سے بھری ہوئی ہے۔
اس موسم سرما نے ایک اور غیر روایتی خطرے سے بھی متعارف کرایا: شدید سردی کی لہریں۔ اگرچہ کراچی میں اوس جمنے کا کوئی معمول نہیں ہے، لیکن درجہ حرارت میں اس اچانک کمی نے ناپختہ مکانات اور کچی بستیوں میں رہنے والی آبادی کو شدید متاثر کیا۔ قومی ادارہ برائے صحتِ اطفال (NICH) میں بچوں میں نمونیا کے مرض کے باعث داخلے کی شرح سب سے بڑی وجہ بن کر سامنے آئی، جو سانس کے جملہ امراض کا 37 فیصد تھا۔ جب آپ اس شدید سردی کو خطرناک حد تک آلودہ ہوا کے ساتھ ملاتے ہیں، تو یہ پھیپھڑوں کے لیے ایک بدترین طوفان (Perfect Storm) بن جاتا ہے۔ سرد ہوا آلودگی کے پھیلاؤ کو سست کر دیتی ہے، اسے زمینی سطح پر ہی رکھتی ہے جہاں ہمارے بچے سانس لیتے ہیں۔
2025 کے اعداد و شمار ہمیں ایسے چبھتے ہوئے سوالات کے ساتھ چھوڑ گئے ہیں جو ہمارے پالیسی سازوں سے جواب کا تقاضا کرتے ہیں۔ کچرا جلانے پر پابندی لگانے سے پہلے ابھی اور کتنے بچوں کا دم گھٹنا باقی ہے؟ مزدوروں کے لیے ہیٹ بریکس کو قانونی حق بنانے سے پہلے ہمیں اور کتنے مزدوروں کو دھوپ میں گرتے ہوئے دیکھنا ہو گا؟ اگرچہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، لیکن کراچی اس ماحولیاتی نا انصافی کی پوری قیمت چکا رہا ہے۔ عالمی صنعتی ممالک کے پیدا کردہ کاربن اخراج کے نتیجے میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہماری ساحلی نمی اور حدت کے جان لیوا امتزاج کو جنم دے رہا ہے، جبکہ ہم اس عالمی تباہی میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالنے کے باوجود اس کے بدترین اثرات سہنے پر مجبور ہیں۔ اب ہم موسمیاتی تبدیلی اور پبلک ہیلتھ کو الگ الگ محکموں تک محدود نہیں کر سکتے۔ 2026 میں بقا کے لیے، ہمیں اسموگ پروٹوکولز کو نافذ کرنا ہو گا اور اربن فلڈنگ (Urban Flooding) کے بڑھتے ہوئے خطرات کے مستقل حل کے لیے نکاسیِ آب کی قدرتی گزرگاہوں کی بحالی اور تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنانا ہو گا۔ کراچی کو آج اپنا ہیلتھ انفراسٹرکچر تبدیل کرنا ہو گا، ورنہ یہ کل بھی اپنے شہریوں کو اسی طرح دفناتا رہے گا۔
