گتھی سلجھتی ہے

میں منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ ہوں۔ اس ناتے میرا کام نشے کی لت میں مبتلا بھانت بھانت کے لوگوں کی کہانیاں سننا اور انفرادی اور گروپ تھرپی کی مدد سے ان کا علاج کرنا ہے۔ میری پاس آنے والے سب کلائنٹس کا مشترکہ مسئلہ منشیات کا بے قابو استعمال ہے جو ان کی زندگیوں کو اس حد تک متاثر کرتا ہے کہ گفتگو کی تھرپی، دوا اور دوسرے وسائل ضروری ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے عام حالات میں انفرادی تھرپی کا کام میرے آفس میں اور گروپ تھرپی بڑے گروپ روم میں ہی انجام دی جاتی ہے۔ لیکن کووڈ کی وبا کے دو سال کے دورانیہ میں، میں نے ایک ایسے ادارے میں ملازمت اختیار کی جو کلائنٹس کو یہ خدمات زوم پہ فراہم کرتا تھا۔ گھر میں اپنے کمپیوٹر یا سیل کے سامنے۔ اس ملازمت کے دوران ہی میرا تعارف لزلی سے ہوا۔ جس کی عمر ہوگی لگ بھگ چھپن برس، شراب کے ساتھ اوپیائیڈ کا استعمال اس کا مسئلہ تھا جس کے لیے وہ مستقل علاج میں تھی۔ گو اس نے خاصے عرصے سے کسی نشہ کو نہیں چھوا تھا مگر اپنے کو منشیات سے دور رکھنے کے لیے علاج کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ حفظ ماتقدم کے طور پہ۔
یورپین نژاد لزلی مجھے تعارفی سیشن میں ہی بھا گئی۔ شاید اسے بھی میں اچھی لگی۔ اور یوں ہم دونوں نے ایک دوسرے کو بہت خوشدلی سے قبول کیا۔ کلائنٹ اور تھرپسٹ کے بیچ اگر اعتماد اور قبولیت کا رشتہ نہ پیدا ہو سکے تو بات نہیں بنتی۔ مسائل کی گرہیں نہیں کھل پاتیں اور علاج کا عمل شروع میں کچے حمل کی طرح ضائع ہوجاتا ہے۔ لزلی اپنے انفرادی سیشن کے لیے وقت سے کچھ منٹ پہلے ہی زومُ پہ مسکراتی ہوئی میری منتظر رہتی۔ مجھے بھی اس سے گفتگو کرنا اس کے مسائل سننا بھلا لگتا۔ وہ بہت خوش مزاج اور دردمند انسان تھی۔ اپنے آٹسٹک نواسے کی بے بی سٹنگ بہت دل و جان سے کرتی اور اس بات پہ بہت شکرگزار رہتی کہ باوجود اس کی ماضی کی غلطیوں کے اس کی بیٹی نے نہ صرف اسے معاف کر دیا بلکہ اپنے دونوں بچوں کی بے بی سٹنگ کے لیے اس پر اعتماد بھی کرتی ہے۔ حالانکہ ماضی میں اپنے بے قابو نشے کی وجہ سے وہ جیلوں کی سزا تک بھگت چکی تھی۔ اپنے نشے کی لت کی وجہ سے لزلی نے اپنی بیٹی کو وہ توجہ نہ دی جو اس کا حق تھا۔ شوہر سے ابتدا ہی میں اس کا ناتا ٹوٹ چکا تھا۔ اس مختصر تعلق کے نتیجے میں بس ایک ہی اولاد ہوئی جسے پالنے میں اس کے والدین نے بھرپور مدد کی۔ وہ نشہ کی حالت میں کبھی سڑکوں پہ ہوتی تو کبھی شراب خانوں تو کبھی ڈوپ ہاؤس میں۔ ”اسکے باوجود میری ماں اور سوتیلے باپ نے کبھی مجھے نہیں چھوڑا۔ میرا ہاتھ تھامے رکھا۔“
مجھ سے ملاقات سے کچھ عرصے قبل ہی لزلی کے سوتیلے باپ کا انتقال ہوا تھا۔ وہ بہت گہرے صدمے میں تھی۔ باپ کا ذکر کرتے ہوئے بے اختیار اس کے آنسو بہنے لگتے۔ اس کی تدفین کی رسومات کے انتظامات اس نے ویسے ہی انجام دیے جیسے کوئی اولاد اپنے سگے باپ کے لیے ادا کرے۔
ایک بات جو ہمیشہ اس کو کھٹکتی رہتی اور جس کا اظہار وہ بار بار کرتی وہ یہ تھی کہ ”میری تربیت تو بہت اچھے گھر میں ہوئی نہ شراب اور نہ ہی کوئی اور منشیات اور نہ ہی کسی قسم کی زیادتی خصوصاً جنسی تشدد جو عموماً سوتیلے رشتوں میں بچیوں کو کم عمری میں جھیلنا پڑتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا میں نے تیرہ برس کی عمر میں شراب کیوں پینی شروع کی؟“ وہ اکثر اپنے غیر ذمہ دار رویہ کے متعلق سوال کرتی۔ جھنجھلاتی اور ان برسوں کا رونا روتی جو نشے نے چھین لیے تھے۔
ایک دن میں نے اس کے سگے باپ کے متعلق پوچھا جس کا ذکر اس نے محض اس حد تک ہی کیا تھا کہ ”میرا سگا باپ میری زندگی کا حصہ نہیں رہا تھا۔ یہ میرے سوتیلے باپ تھے جنہوں نے مجھے باپ کا غیر مشروط پیار دیا۔ مجھے پڑھایا لکھایا اور میری خطاؤں کو درگزر کیا۔“ یہ سب کہتے ہوئے اس کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں۔ لیکن پھر جانے کس رو میں ایک سیشن کے دوران اس نے اپنی زندگی کی کہانی کا وہ حصہ سنانا شروع کیا جو ابھی تک دہرایا نہیں گیا تھا۔
”جب میں دس سال کی تھی تو اپنی ماں کے ساتھ کسی امیر علاقے کی گیراج سیل میں جانا ہوا۔ میری ماں نے ہمیشہ ہی ان اسٹیٹ اور گیراج سیلوں سے کوڑیوں کے داموں سامان خرید کر میری ہر ضرورت پوری کی۔ کبھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ ہم دونوں ماں بیٹی اس بڑے سے گھر کے احاطے میں سامان دیکھ ہی رہے تھے کے اچانک ایک ادھیڑ عمر کی ایک عورت میری ماں کی جانب لپک کے آئی اور اسے گلے لگا کے زار و قطار رونے لگی۔ وہ ان سے معافی مانگ رہی تھی۔ مجھے معاف کردو میں نے تمھارے ساتھ بہت زیادتی کی تھی۔ بس ایک بار کہہ دو کہ تم نے مجھے معاف کر دیا۔“
یہ عورت میرے سگے باپ کی ماں اور میری دادی تھی۔ اور یہ بڑا سا مکان اسی کا تھا جہاں سے اس کی دوسرے اسٹیٹ منتقلی سے قبل سیل ہو رہی تھی۔ وہ امیر تھی اور میری ماں غریب گھر کی بیٹی۔ عرصے قبل میری ماں اور باپ دونوں ہی ایک چھوٹے سے قصبہ میں رہتے تھے۔ جہاں چرچ کی سرگرمیوں کے دوران دونوں ایک دوسرے سے قریب ہوئے اور پیار کرنے لگے۔ دونوں کم عمر، ٹین ایجرز تھے اس عمر میں دولت، رنگ مذہب اور نسل کی تفریق نہیں صرف پیار ہی نظر آتا ہے۔ کم عمری کے باوجود دونوں شادی کرنا چاہتے تھے۔ میری ماں بہت اچھی، نیک، خوب صورت لیکن کم حیثیت گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ ادھر میری دادی اپنے دولت مند بیٹے کو ایک معمولی گھرانے کی لڑکی کو سونپنے پہ ہرگز آمادہ نہ تھی۔ اس نے اس پیار کے بندھن کو توڑنے کی پوری کوشش کی لیکن اس وقت تک میری ماں مجھ سے حاملہ ہو گئی تھی۔ دادی بہت تلملائی۔ اس نے میری ماں کو دھمکیاں دیں اور کہا کہ میرے بیٹے کی زندگی سے نکل جاؤ بھلے اس کی اولاد کو رکھ لو۔ اب مجھے نہیں پتہ کہ میری ماں اور باپ نے کیوں اس بات کو قبول کیا لیکن میری بظاہر کمزور ماں نے مجھے ترجیح دی۔ اور وہ خاموشی سے میرے باپ کی زندگی سے نکل گئی۔ اور ہر قسم کا ناتا توڑ دیا۔ کچھ سال بعد میری ماں نے ایک بہت نیک دل انسان سے شادی کرلی جس نے ماں کو محبت اور عزت کے ساتھ مجھے بھی دل سے اپنایا۔ ”
”ارے تو اس سیل نے اتفاقیہ ہی سہی تمھیں تمھارے باپ سے ملا دیا؟“ میں نے پوچھا۔ ”ہاں میں نے پہلی بار اپنے بہت ہینڈسم باپ کو دیکھا۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ بہت پیاری چار اور چھ سال کی عمریں ہوں گی۔ مجھے اپنا باپ بہت اچھا لگا۔ لمبا چوڑا اور مضبوط۔ مجھے اس کے ساتھ تحفظ اور فخر کا احساس ہوتا۔ اس نے بھی مجھ سے محبت اور قربت کا اظہار کیا۔ آخر کو میں اس کا خون تھی، اس کی اپنی اولاد۔ میں اپنے باپ کے قریب آتی گئی۔ البتہ میری حساس نگاہوں نے سوتیلی ماں کا بگڑتا موڈ دیکھ لیا تھا۔ میرے باپ مجھے کبھی اکیلے تو کبھی دونوں بیٹوں کے ساتھ لے جاتے۔ انہوں نے میرے اگلے دو جنم دن بھی منائے۔ بہترین ریسٹورنٹ میں۔ تحفے بھی دیے۔ جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔ ایک بار سالگرہ اپنی سوتیلی دو بہنوں کے ساتھ منائی اور دوسری بار میری ماں اور سوتیلے باپ کے ساتھ۔ شاید میرا باپ میری ماں کا سامنا کرنے سے کترا رہا تھا۔ اس کو اپنی بے وفائی پہ ندامت تھی یا کوئی اور بات۔ لیکن شاید وفا کی دولت میرے باپ کو ودیعت ہی نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ میری زندگی سے بھی اسی طرح غائب ہو گیا جیسے میری پیدائش سے قبل اپنی ماں کے دباؤ میں میری ماں کی زندگی سے۔ اور اس نے تو مجھے میری حاملہ ماں کے پیٹ میں ہی چھوڑ دیا تھا۔“ وہ تلخی سے بولی۔
”کیا میں ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟ جب تمہارے باپ نے تمھیں چھوڑ دیا تو اس وقت تم تیرہ سال کی تھیں؟“ اس نے عمر کے معاملے میں حساب کتاب کی سفاکی پہ غیر یقینی انداز میں میری جانب دیکھا۔ ”ہاں بالکل میری عمر تیرہ سال کی ہی تو تھی“ وہ ایک لمحے کو خاموش ہو گئی۔ اور پھر تقریباً چیختے ہوئے بولی ”اوہ میرے خدا تو آج پہلی بار مجھے سمجھ آیا کہ میں نے تیرہ برس کی عمر میں بے قابو شراب نوشی کیوں شروع کی تھی۔“ وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ جیسے وہ چھپن سال کی عمررسیدہ عورت نہیں بلکہ تیرہ سال کی کم عمر لڑکی ہو جس کا باپ اسے ابھی ابھی ہی اپنی بہت حساس اور نازک عمر میں چھوڑ گیا ہو۔ محبت کی بھوکی بیٹی کو ایک بار پھر دھوکہ دے گیا ہو۔ زوم پہ وہ مجھ سے کئی سو میل دور تھی مگر اس کی سسکیاں میرے سینے پہ ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں۔ میرا جی چاہا ادھیڑ عمر لزلی کے اندر بلکتی اور باپ کی محبت سے ٹھکرائی ہوئی تیرہ سالہ بچی کو گلے سے لگا لوں۔ اسے پیار سے تسلی دوں، لیکن میں نے اسے بلکنے اور آنسو بہانے کے لیے خاموشی اختیار کی۔ جانتی ہوں اگر گھاؤ گہرا ہو تو تسلی کے الفاظ بے معنی ہوتے ہیں اور ویسے بھی محبت کا خلا بھرنا آسان نہیں ہوتا۔
