قحط اور نسل کشی : جب بھوک جنگی ہتھیار بن جائے

امریکہ کے اسکولوں میں لنچ کا وقفہ بچوں کے لیے یقیناً خوشگوار ہوتا ہو گا۔ لیکن ایک اسکول میں لنچ کے وقت کچھ دنوں کی عارضی ڈیوٹی کے دوران میرا دل کئی بار رویا۔ یہاں بچے اپنا لنچ اکثر بغیر چھوئے یا ایک آدھ ہی چیز لے کر باقی کھانا بیدردی سے کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں۔ آدھے گھنٹے بعد لنچ روم میں دودھ، جوس، پھل اور سبزیوں سے اٹے کوڑے دان ہوتے اور میری آنکھوں کے سامنے دنیا کے بھوک سے بلبلاتے بچے۔ سوڈان، غزہ، افغانستان، کشمیر، صومالیہ، مالی، چاڈ، یمن، جنوبی سوڈان، کانگو، شام، ایتھوپیا، ہیٹی اور بھی جانے کتنے ہی ممالک ہیں جہاں بچے بھوکے سوتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ آٹھ ارب لوگوں کی بھوک مٹانے کے لیے دنیا میں وافر غذا پیدا ہوتی ہے، 733 ملین افراد (ہر گیارہ میں سے ایک ) یومیہ بھوک کا شکار ہیں۔ آئی پی سی Acute Malnutrition Scale (غذا کی فراہمی کی درجہ بندی کا عالمی پیمانہ، اکتوبر 2024 ء) کے مطابق، دنیا میں ایک اعشاریہ تیتیس ملین افراد کو قحط کی صورتحال کا سامنا ہے۔ اور یہ بھی شرمناک حقیقت ہے کہ دنیا میں مرنے والے کل بچوں میں آدھی اموات کا سبب ناقص اور ناکافی غذا ہے۔
قحط انسانی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ گو اب دور جدید میں قدرتی آفات جیسے خشک سالی، سیلاب، زلزلہ وغیرہ کے ہاتھوں کم اور انسانوں کے ہاتھوں پیدا کردہ (مین میڈ) قحط زیادہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ جن کا سبب سیاسی تنازعات، خانہ جنگی، آمریت اور تسلط کی جانے والی جنگیں ہیں۔ جہاں جنگی ہتھیاروں کے مقابلے میں انسانی بھوک سب سے طاقتور ہتھیار کی صورت اختیار کر کے نسل کشی اور نسلی ٹراما کا سبب بنتی ہے۔
انسانوں کے ہاتھوں پیدا ہونے والے قحط تاریخ کا ہولناک اور عبرتناک باب ہیں جن کے نتیجہ میں شدید بھوک، لاغری اور اس کے سبب لاحق بیماریوں کے حملوں نے کروڑوں انسانوں کی جانیں لیں۔ محض چند مثالیں مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ یوکرین کا قحط۔ جس میں 1932 سے 1933 ء کے دوران کل 13 فیصد آبادی فنا ہوئی۔
2۔ قحط بنگال : دوسری جنگ آزادی کے وقت بیسویں صدی میں ایشیا کا بدترین قحط بنگال کا تھا۔ جس کے سبب 1943 ء میں تیس لاکھ افراد نے جان گنوائی۔ اس وقت ہندوستان میں برطانوی راج تھا۔ جنگ عظیم کے سبب معاشی بدحالی، افراد زر کے ہاتھوں مہنگائی کے علاوہ مورخین اس قحط کا ایک سبب برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی ہندوستانیوں کے خلاف نسل دشمن پالیسیوں کی بنیاد پہ کیے گئے فیصلے ہیں۔ اس وقت کہ جب کلکتہ کی سڑکیں ڈھانچہ زدہ نیم مردہ اجسام اور لاشوں سے پٹی تھیں، بنگال کا غلہ برطانوی فوجیوں کے لیے ذخیرہ کرنے کی غرض سے ہزاروں کشتیوں میں لاد کے برطانیہ بھیجا جا رہا تھا۔ جس طرح آج نیتن یاہو غزہ کے قحط سے منکر ہے۔ چرچل کو بھی جب قحط کی صورتحال کا بتایا گیا تو اس نے اس کا سبب ہندوستانیوں کی کثرت اولاد کو قرار دیا۔ اور پوچھا ”اگر اتنی ہی (غذا کی) کمی ہے تو مہاتما گاندھی ابھی تک کیسے زندہ ہے؟“
3۔ چین کا قحط 1959 سے 1961 ء تک جاری رہا جس میں 30 ملین افراد مرے۔ جو انسانی تاریخ کا سب سے عظیم قحط ہے۔
4۔ جنوبی سوڈان کا قحط: 2017 ء میں یو این نے انسان کے ہاتھوں ہونے والا قحط قرار دیا۔ جس کا سبب خانہ جنگی ہے۔ جس میں ایک لاکھ افراد مرے تو لاکھوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا تھا۔
آج جہاں دنیا کے بہت سے اور خطوں کو قحط کا سامنا ہے، وہاں اسرائیل اور فلسطین کے طویل تنازعے کے سبب غزہ پٹی میں اسرائیل حکومت کی انسان دشمن اور سفاک پالیسیوں کے سبب قحط کی صورتحال کو اگر ”جدید دور کی ہولوکاسٹ“ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس شدید غذائی قلت کے ذمہ دار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہیں۔ اس وقت اسرائیل فوج کے ہاتھوں غزہ پٹی کے مکانات، تعلیمی اداروں، ہسپتال، پانی کی سپلائی اور سیورج کا نظام تہس نہس ہو چکا ہے۔
اسرائیل حماس جنگ کے ہاتھوں پہلے ہی سات اکتوبر 2023 ء سے آج تک باسٹھ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی اموات اور لاکھوں زخمی ہیں۔ لیکن سب سے بدترین صورتحال غذا اور میڈیکل اشیاء کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔ جس کی اسرائیلی فوج کی جانب سے مارچ اور مئی کی وسط تک کھانے اور ضروری اشیاء کی رسد پہ مکمل بندش نے علاقے میں قحط کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ اس طرح اسرائیل نے جنگ جیتنے کے لیے بم، میزائل اور بندوق کی گولیاں ہی نہیں، بھوک کو ہتھیار بنا کر فلسطینی قوم کی نسل کشی کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔
19 اگست، فلسطینی ہیلتھ منسٹری کے مطابق غذائی قلت سے ہونے والے قحط میں مرنے والے 266 لوگوں میں 122 بچے شامل ہیں۔ جبکہ یونیسف کی تازہ رپورٹ کے مطابق جنگ میں کل مرنے والے بچوں کی تعداد، 19000 تک پہنچ گئی ہے۔
جدید دور کا انسان لاکھ اپنی ترقی کا دعویٰ کرے لیکن دنیا کے کسی بھی خطے میں قحط سے انسانوں، بالخصوص بچوں کا بن کھلے مرجھا جانا انسان کی سفاکی اور اخلاقی تنزلی کی بدترین مثال ہے۔ بھوک کا المیہ آنے والی کئی نسلوں بلکہ شکم مادر میں پلنے والے بچوں پہ بھی اپنے منفی اثرات جسمانی، ذہنی اور جذباتی سطح پہ مرتب کرتا ہے۔
آئی پی سی Acute Malnutrition Scale اسکیل جو بڑھتی ہوئی غذائی قلت کا عالمی پیمانہ ہے اور پانچ مدارج پہ مشتمل ہے، (پہلا درجہ قابل قبول غذائیت ہے اور پانچواں درجہ انتہائی تشویشناک حد تک غذائی عدم تحفظ) کے مطابق اس وقت غزہ کی صورتحال بالکل آخری پانچویں تباہ کن درجہ پہ ہے۔ جو پوری آبادی کے فاقوں یا قحط کی صورت ہے یعنی غذائیت بخش خوراک کی شدید قلت کے ساتھ دیگر بنیادی ضروریات کا مکمل فقدان۔
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے۔ اس حوالے سے بچوں پہ غذائی قلت اور قحط کے اثرات پہ بات کرنا اہم ہے۔
بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں کا جسم بھوک کو تادیر سہارنے کا متحمل نہیں ہوتا۔ لہذا فاقہ یا قلت غذا کے ابتدائی مرحلے میں جسم جینے کی کوشش میں اپنی شکر برقرار رکھنے اور کیلوریز کے حصول کے لیے جگر میں ذخیرہ شدہ شکر، گلاکوجن کو توڑنے کے علاوہ جسم کی پروٹین اور چکنائی کے اجزا کو بھی توڑتا ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ اس سے زیادہ سخت ہے جسے acute malnutrition کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے کم عمر بچے بمشکل ہی اس اسٹیج پہ پہنچتے ہیں۔ درمیانی غذائی قلت کے بعد اگر 30 فیصد سے زیادہ آبادی شدید غذائی قلت کے درجہ پہنچ جائے تو اسے ”قحط زدہ“ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو اس وقت ہم غزہ اور کچھ دوسرے ممالک میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
بچوں میں خاص کر پانچ سال تک کے بچوں میں فاقوں کے دیرپا جسمانی، طبی، ذہنی اور جذباتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جسمانی علامات۔
قحط سے متاثر بچوں میں جسمانی علامات واضح طور پہ نظر آتی ہیں۔ پروٹین اور طاقت کی کمی کی صورت میں بدن اپنے ہی عضلات کی پروٹین کو استعمال کرنے لگتا ہے۔ ایسے بچے عضلات کی کمی کے باعث ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آنے لگتے ہیں۔ اس حد تک کہ ان کی پسلیاں اور مہرے گنے جا سکتے ہیں۔ ہاتھ، پیر، سینے اور پیٹ کے مسلز کی کمی کے اثرات چہرے پہ بھی نظر آتے ہیں۔ کمسن بچے کا معصوم چہرہ بھی ایک بوڑھا لگنے لگتا ہے۔ اس کے جسم کی کھال خشک، نرم اور پتلی ہوجاتی ہے۔ جسم میں پانی اور چکنائی کی کمی کی وجہ سے آنکھوں کے گرد حلقے اور آنکھیں ابلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ بال خشک، بد رنگے، دو شاخہ اور جھڑنے لگتے ہیں، کھال کی رنگت پیلی اور کبھی ان پہ ہلکے یا گہرے دھبے پڑ جاتے ہیں۔ جسم کی فعلیاتی تبدیلی، پروٹین کی ٹوٹ پھوٹ اور انفیکشن کی وجہ سے جسم میں پانی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور اس کا پیٹ میں اخراج ہونے کے سبب پیٹ پھول جاتا ہے۔
ضروری غذائی اجزا کی کمی کی وجہ سے بچوں کی جسمانی نشوونما ٹھٹھر جاتی ہے اور جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے سبب باعث بچہ باآسانی مختلف انفیکشنز کا شکار ہو سکتا ہے۔ خون میں ہیموگلوبن کی کمی کے علاوہ ہاضمہ کا نظام درہم بھرم ہونے کی وجہ سے دست اور جسم میں پانی کی کمی اور نقاہت طاری ہوجاتی ہے۔ اس صورتحال میں اکثر بچے اظہار سے قاصر اور ان کی آنکھیں خالی اور بے جان نظر آتی ہیں۔
قحط کے طویل المیعاد نفسیاتی، ذہنی اور جذباتی اثرات۔
بھوک میں جان سے گزر جانے والے بچوں کے ٹراما تو ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہو جاتے ہیں۔ لیکن جنگ اور قحط میں زندہ بچ جانے والے بچوں کے المیوں کی ہولناکیوں کا تو سوچنا بھی محال ہے جن کی بھوک اور جنگ سے وابستہ المناکی کے اثرات صرف ان تک ہی نہیں رہتے بلکہ سائنسی تحقیق کی رو سے کئی نسلوں میں منتقل ہوتے ہیں۔
غذائیت کی کمی خاص کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں کی سیکھنے، سوچنے، سمجھنے، زبان سیکھنے کی صلاحیت کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ تعلیم سے عدم توجہی، کمزور یادداشت اور دوسرے بچوں کے مقابلہ میں ہدایات سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عمومی طور پہ اسکول میں اتنے کامیاب نہیں ہوتے۔ جس کے بعد کی زندگی میں منفی اثرات ملازمت کے حصول اور سماجی معاشی حالات پہ پڑتے ہیں۔
ان بچوں کی منفی سوچ اور رویہ ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ اور متاثرہ بچوں پہ نوجوانی میں خودکشی کی سوچوں کا غلبہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر، موڈ ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور منشیات کا استعمال بھی بچپن کے ٹراما کی منفی علامت ہے جو بلوغت میں جذباتی آسودگی اور دکھ سے فرار کی صورت ہے۔
ابتدائی زندگی کے زہریلے اسٹرس کے اثرات سے بعد میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریاں مثلاً ٹی بی، ٹائپ ٹو ذیابیطس، بلڈپریشر، کینسر اور دمہ جیسے امراض کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق اور سائنسی بنیاد پہ اس کے شواہد ہیں کہ ابتدائی زندگی میں جب بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے ماحولیاتی ٹراما مثلاً بھوک، جنگیں، بے سروسامانی اور دوسرے عوامل کے باعث ہمارے رویے کا اثر ہماری جینز (موروثیت) کے اظہار پہ ہوتا ہے۔ وہ ڈی این اے پہ ”نشانات“ مرتب کرتے ہیں جنہیں ”ایپی جنیٹکس“ کہا جاتا ہے۔ ان مارکر زدہ جینز یا ایپی جنیٹکس کا اثر ہماری اگلی نسل کی صحت اور رویے میں منتقل ہوجاتا ہے۔
اس طرح ممالک پہ مسلط کی ہوئی جنگیں، ملکی تنازعات اور خانہ جنگی کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ یہ سوچنا بھی تکلیف دہ ہے کہ فلسطین، سوڈان، یوکرین وغیرہ جیسے ممالک جہاں بھی ایسے حالات ہیں وہاں کی نسلوں پہ کتنے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہوں گے۔ ان بچوں کو بچانے، جنگ کو بند کروانے اور سارے ممالک کو نیتن یاہو اور ٹرمپ جیسے لیڈران کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ ضروری ہے۔ جب تک امن پہ مبنی پالیسیوں پہ اتفاق نہ ہو، کمزور کی شنوائی اور حق کی آواز نہ پھیلے اس وقت تک اپنے احتجاج کا علم اٹھائے رکھیں۔ خوشحال سماج اور انسانیت کی بقا کے لیے ہمیں ذہنی، جذباتی اور جسمانی طور پہ ٹھٹھرے ہوئے معذور بچوں کے بجائے صحتمند بچے چاہیے ہیں۔ ان کی آواز بنیے کہ ظلم کے خلاف خاموشی جرم ہے۔
نوٹ: (اس مضمون کی تیاری میں متعدد انٹرنیٹ ذرائع سے استفادہ کیا ہے۔ )

بہت ہی معلوماتی مضمون
المیہ یہ شکل اختیار کر چکا ہے کہ ہمارے دل پتھر ہو گئے ہیں۔ غزہ ایک داستانِ مسلسل کی مانند امت کے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح انڈیلا جا رہا ہے مگر دلی ہنوز دور است ، بھوک اور افلاس کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ باقی امت کے لئیے محض ایک واقعہ لا یعنی بن گیا ہے
یہ اور کچھ نہیں صرف نسل کشی ہے