بلاگ

غذائی قلت کے شکار بچوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت کے حامل جراثیم کا پھیلاؤ

Dr Khalid Mehmood Sadiq

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں انتہائی چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ یہ تحقیق نائیجر کے ایک ہسپتال میں کی گئی ہے جس میں 2016 اور 2017 کے درمیان پانچ سال سے کم عمر شدید غذائی قلت کے شکار 1,371 بچوں کے 3,000 سے زائد فضلاتی نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان نمونوں میں موجود ای کولائی نامی جراثیم میں ایسے جینز پائے گئے جو عام طور پر استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹکس کو بڑی آسانی سے غیر موثر کر سکتے ہیں۔

چار میں سے ایک بچے میں کارباپینیمیز جینز جیسے blaNDM کے حامل بیکٹیریا موجود تھے جو کارباپینیمس نامی کچھ انتہائی طاقتور اور آخری حربے والے کے طور پر استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بھی مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں۔ دو تہائی سے زیادہ ( 69 فیصد) بچے جو داخلے کے وقت اینٹی بائیوٹکس کے اس مضبوط طبقے کے خلاف مزاحم بیکٹیریا نہیں رکھتے تھے، ڈسچارج کے وقت ان کے حامل پائے گئے۔ محققین نے خبردار کیا کہ اگر اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا ان بچوں کی آنتوں میں موجود رہے تو یہ بچے مستقبل میں نمونیا، سیپسس، اسہال اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن جیسی سنگین بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں جن میں اینٹی بائیوٹک ادویات سے علاج غیر موثر ہو گا۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں بچے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

گو یہ مطالعہ نائیجر میں ایک ہسپتال پر مرکوز تھا مگر اس صورتحال کا امکان دنیا بھر کے بہت سے ہسپتالوں میں نظر آتا ہے۔ جیسا کہ عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، جنگوں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے انسانی بحرانوں سے غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے علاج کے مراکز میں بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف قحط، تنازعات اور جنگوں کے شکار علاقوں جیسا کہ غزہ میں یہ صورتحال پیش آنے کا امکان بہت زیادہ ہے جہاں اس وقت غذائی قلت کا شدید بحران جاری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تقریباً چھ ماہ تک غزہ کو تمام سامان کی فراہمی منقطع کرنے کے بعد حال ہی میں بھوک کی وجہ سے ہزاروں بچے غذائی قلت سے شہید ہو چکے ہیں اور لاکھوں غذائی کمی کا شکار ہیں۔ یہ غذائی قلت مستقبل قریب میں بچوں می امکانی اینٹی بائیوٹک مزاحمت اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اموات جیسے مزید سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

سائنسدانوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ اور نائیجر جیسے تنازعات کے شکار علاقوں میں غذائی قلت کے شکار بچوں کو انفیکشن سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ان کے مطابق یہ کام جلد اور موثر طریقے سے نہ کیا گیا تو نہ صرف ان علاقوں میں موجود لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے بلکہ یہاں سے اینٹی بائیوٹک مزاحم جراثیم دنیا بھر میں پھیل سکتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW