میرے مطابق

کیا وزیرِ اعلیٰ کے براہِ راست کنٹرول سے پنجاب میں کرپشن کا باب بند ہو گا؟

rana iqbal hassan

پنجاب میں کرپشن کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنے اور اداروں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کے لیے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایک اہم تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت محکمہ اینٹی کرپشن کو ہوم ڈیپارٹمنٹ سے نکال کر براہِ راست سی ایم آئی ٹی کے ماتحت کیا جائے۔ اگر حکومت اس تجویز پر عمل کرتی ہے تو اینٹی کرپشن کا ادارہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو براہِ راست جوابدہ ہو گا اور اس کے اختیارات میں واضح اضافہ ہو جائے گا۔ دیکھا جائے تو یہ تبدیلی انتظامی لحاظ سے کافی بڑی ہے کیونکہ اب تک اینٹی کرپشن ہوم ڈیپارٹمنٹ کے اندر رہ کر کام کر رہا تھا جہاں کئی سطحوں پر منظوری اور تاخیر کی وجہ سے کیسز اکثر التواء کا شکار ہو جاتے تھے۔ سی ایم آئی ٹی میں منتقل ہونے سے فیصلے جلدی ہوں گے، نگرانی مضبوط ہو گی اور بڑے کیسز میں مداخلت کے امکانات کم ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیٹی نے اسے کرپشن کے خلاف موثر کارروائی کے لیے ضروری قدم قرار دیا ہے۔

تاہم اجلاس کے دوران ایک اور نکتہ بھی زیرِ بحث آیا جس نے سب کی توجہ کھینچی۔ ارکان نے تشویش ظاہر کی کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن افسران کو ان کے اپنے محکموں میں کرپشن یا بدانتظامی کی وجہ سے سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے وہی ڈیپوٹیشن پر اینٹی کرپشن یا سی ایم آئی ٹی جیسے حساس اداروں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر انہی محکموں کے خلاف انکوائریاں شروع کر دیتے ہیں جہاں وہ پہلے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے نہ صرف ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے کیونکہ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ احتساب کرنے والا خود مشکوک ماضی کا حامل ہے۔ اسی لیے کمیٹی نے زور دیا کہ نگرانی اور احتساب کے کام پر مامور اداروں میں صرف ایسے افسران تعینات کیے جائیں جن کی ساکھ غیر متنازعہ ہو، جن کا ریکارڈ صاف ہو اور جو میرٹ پر منتخب ہوں۔ جب تک یہ شرط پوری نہیں ہو گی محض ڈھانچے کی تبدیلی سے خاطر خواہ نتائج نہیں ملیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اینٹی کرپشن واقعی سی ایم آئی ٹی کا حصہ بن جاتا ہے تو اس کے تین بڑے اثرات مرتب ہوں گے۔ پہلا یہ کہ اختیار کے ارتکاز سے کارروائیوں میں تیزی آئے گی اور بیوروکریٹک رکاوٹیں کم ہوں گی۔ دوسرا یہ کہ جواب دہی کا نظام بہتر ہو گا کیونکہ اب ہر رپورٹ اور ہر کارروائی کا سرچشمہ ایک ہی ہو گا۔ تیسرا یہ کہ عوام میں یہ تاثر جائے گا کہ حکومت کرپشن کے خلاف سنجیدہ ہے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے تیار ہے۔ لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی موجود ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ سیاسی اثر و رسوخ کا ہے۔ جب کوئی ادارہ براہِ راست وزیرِ اعلیٰ کے ماتحت آ جائے تو اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو نکل سکتے ہیں۔ مثبت پہلو یہ کہ کام میں تیزی آئے گی اور فیصلے بروقت ہوں گے۔ منفی پہلو یہ کہ اگر اندرونی چیک اینڈ بیلنس نہ رکھے گئے تو ادارہ کسی ایک شخص کی ترجیحات کے تابع ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سی ایم آئی ٹی کے اندر شفافیت کے اصول وضع کیے جائیں، ڈیجیٹل شکایات کا نظام بنایا جائے، ہر کیس کی پیش رفت کو آن لائن ٹریک کیا جائے اور پارلیمانی کمیٹی ہر سہ ماہی میں کارکردگی کا جائزہ لے۔ اسی طرح ڈیپوٹیشن کے دروازے کو جزوی طور پر بند کر کے مستقل کیڈر بنانا ہو گا جس کی تربیت صرف احتساب اور انویسٹیگیشن کے لیے ہو۔ ترقی اور تعیناتی کا معیار سروس ریکارڈ اور کیسز کے نتائج پر ہونا چاہیے نہ کہ سفارش پر۔

پنجاب کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی کی ہے۔ عام شہری یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ قانون چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں کرتا۔ اگر اینٹی کرپشن واقعی با اختیار بن کر غیر جانبدار انداز میں کام کرے تو نہ صرف کرپشن میں کمی آئے گی بلکہ سرکاری محکموں کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی کیونکہ خوف اور جواب دہی ملازمین کے رویے کو بدل دیتی ہے۔ لہذا یہ تجویز خوش آئند ہے لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت اسے کتنی دیانتداری سے نافذ کرتی ہے۔ اگر تعیناتیاں میرٹ پر ہوئیں، نگرانی شفاف رکھی گئی اور سیاسی مداخلت سے بچا گیا تو یہ قدم پنجاب کی گورننس میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ ورنہ صرف نام کی تبدیلی سے زمینی حقائق نہیں بدلیں گے اور عوام کا مایوسی کا پرانا بیانیہ برقرار رہے گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW