میرے مطابق

داستان چھوڑ آئے : رحیم گل کی داستان حیات

fazal tanha gharshin

رحیم گل دوسری جماعت میں تھا جب ان کی ماں کا انتقال ہوا۔ ماں کے انتقال کے بعد والد نے ان کی بہترین پرورش کی۔ رحیم گل بچپن ہی میں میلوں، ٹھیلوں، سیر و تفریح اور آوارہ گردی کا شوقین تھا۔ انھوں نے ایک کتا ’بجو‘ بھی پالا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بلبل، بٹیر، تیتر، چکور، کبوتر اور مرغ بھی پال رکھا تھا۔ چھرے والی بندوق سے سسی، پرندوں اور خرگوشوں کا شکار کرنا اور قریبی کھیتوں سے خربوزے اور تربوز چرا لینا بھی ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

رحیم گل اپنے والد کا نہایت تابع فرمان بیٹا تھا اور کسی قیمت پر ان کو ناراض کرنا نہیں چاہتا تھا۔ انھوں نے زندگی میں کئی محبتیں کیں، مگر کسی بھی واقعے کا ذکر اپنے والد سے نہیں کیا۔ انھوں نے پہلی محبت ایک ہندو لڑکی رام پیاری سے کی، دوسری محبت زرینہ سے کی، تیسری محبت افزودہ سے کی، چوتھی محبت سارا سے کی، پانچویں محبت تن تارا سے کی، چھٹی محبت گیتا سے کی، ساتویں محبت فہمیدہ سے کی، اور آخر میں راشدہ سے دوسری شادی کرلی۔

رحیم گل کی پہلی شادی ان کے والد کی مرضی سے ہوئی، جس کو رحیم گل بے جوڑ شادی کا نام دیتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ والد نے میری شادی کر کے مجھے جہنم کدے میں دھکیل دیا۔ انھوں نے جتنی بھی محبتیں کی ہیں اور جتنے بھی خطوط لکھے ہیں، وہ پڑھنے کے قابل ہیں۔ مگر کرنل کی بیٹی فہمیدہ سے محبت کی کہانی بہادری اور شجاعت کی ایک زندہ مثال ہے، اور اس کے بعد اس محبت کو اقدار اور ماں کی ممتا پر قربان کرنا ذہنی بلوغت، دانش مندی اور سمجھ بوجھ کی اعلیٰ مثال ہے۔ اسی طرح گیتا کو جب ان سے حمل ٹھہرتا ہے اور اپنے نامرد شوہر سنہا کو اکیلا چھوڑنا نہیں چاہتی، تب بھی رحیم گل چپکے سے گیتا کو خدا حافظ کہہ کر چلا جاتا ہے۔ تن تارا رحیم گل کی جدائی میں خود کشی کرتی ہے، اور وہ بعد میں تن تارا ہی کے نام سے ایک نہایت کامیاب ناول لکھ لیتا ہے۔

میٹرک کے بعد وہ تین سال تک والی بال، فٹ بال، کبڈی اور شکار کرنے میں مصروف رہا۔ پھر پولیس میں بھرتی ہوا۔ کوہاٹ گیا۔ مگر پولیس راس نہ آئی اور فوج جوائن کرلی اور ملتان گیا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ سارا، تن تارا اور گیتا سے محبت اسی دوران میں ہوئی۔

فوج میں تین سال گزارنے کے بعد وہ گاؤں لوٹا۔ سیاست میں دل چسپی لینا شروع کی، مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، لاہور سے زمیندار اخبار جاری کیا، والد وفات پا گیا، جمع پونجی ختم ہو گئی، اخراجات بڑھ گئے، زمین بیچ دی اور ایک دکان کھول لی۔ مگر دکان نہ چل سکی اور دوبارہ فوج جوائن کر لی۔ کرنل کی بیٹی فہمیدہ سے محبت اس دوران میں ہوئی۔ مگر انھوں نے اقدار اور ممتا کی خاطر اپنی محبت کی قربانی دی۔

ایک اعلیٰ افسر سے لڑائی کی وجہ سے ان کو جبری ریٹائر کرایا گیا اور ایک بار پھر معاشی بدحالی بڑھ گئی۔ یوں انھوں نے فلموں میں کام کرنا اور افسانے لکھنا شروع کیا۔ یہاں پھر نہ ختم ہونے والی محبتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ شمسہ، سلطانہ اور راشدہ سے محبت ہونے لگی۔ اس دوران میں وہ بیمار ہوتا ہے، ان کی چھے پسلیاں نکال دی جاتی ہیں، تین آپریشن ہوتے ہیں اور آخر کار وہ تندرست ہوتا ہے۔ تندرست ہونے کے بعد راشدہ سے شادی ہو جاتی ہے۔

ان کی تحریریں دل چسپ، رواں اور شگفتہ ہیں۔ منظر نگاری، محاکات اور تخیل ان کے ناولوں میں آب و تاب پر ہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں میں عموماً واحد متکلم کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ ان کی تحریروں پر پٹھانی لب و لہجے کا اثر بہت عیاں ہے۔ انھوں نے اکثر اپنے ذاتی تجربات کو افسانوی رنگ دیا ہے۔ انھوں نے غربت اور امارت دونوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اسی طرح انھوں نے عاشق اور معشوق دونوں کی حیثیت میں زندگی گزاری ہے۔ لیکن ایک درجن محبتوں کے باوجود وہ حقیقی محبت سے محروم رہا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ان کو اکثر غیر مسلم یعنی ہندو، سکھ، عیسائی اور احمدی لڑکیوں سے محبت ہوئی ہے۔ وہ خود کو ہر قسم کی پابندیوں سے مبرّا سمجھتا ہے اور صرف محبت کو اپنا عقیدہ اور مذہب گردانتا ہے۔ ان کی سوانح عمری سے لگتا ہے کہ وہ ایک نہایت سخت جان اور شکست نہ ماننے والا انسان ہے۔ انھوں نے پہلی شادی، جو والد کی مرضی سے ہوئی تھی، کے بارے میں بھی سچ سچ لکھا ہے کہ وہ اس شادی سے بیزار ہے اور بے چاری بیوی کی معمولی معمولی باتوں پر ان کو غصہ آتا ہے۔

اپنی سوانح عمری کے ساتھ انصاف کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ رحیم گل کافی حد تک اس معرکے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے اپنی شخصیت کو کافی حد تک قاری کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ اور اس بے نقابی سے نمودار ہونے والی ادبی شخصیت کا چرچا بھی خوب کیا ہے۔ ان کی تمام تخلیقات اور کتابیں نہایت دل چسپ اور پڑھنے کے قابل ہیں۔

انھوں نے اپنی سوانح عمری کو ناول کے طرز پر لکھا ہے۔ مصنف نے قاری سے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے، اور جو کچھ کہا ہے، سچ سچ کہا ہے۔ اگر مصنف کو اوائل عمری میں محبت مل جاتی، تو آج وہ ایک نڈر سپاہی، تجربہ کار افسانہ نگار، کامیاب ناول نگار اور سچا عاشق نہ ہوتا۔ جنت کی تلاش، تن تارا را، داستاں چھوڑ آئے، سرحدی عقاب، پورٹریٹ، وہ اجنبی اپنا، ترنم، خدوخال، پیاس کا دریا، زہر کا دریا اور وادی گماں میں، ان کی چند بہترین تخلیقات ہیں۔ ہو سکے تو ان کی تخلیقات پڑھیں اور محظوظ ہوں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
ناہید
ناہید
2 hours ago

مجھے تو سب کچھ افسانہ لگا

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW