میرے مطابق

غیرت، قانون اور جنگل کا اصول

ghulam shabbir

کسی عورت کی عزت پر حملہ ہو، اسے ہراساں کیا جائے، اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جائے یا اسے دھمکایا جائے تو یہ محض ایک فرد کے خلاف زیادتی نہیں بلکہ معاشرتی اخلاق، قانون اور انسانی وقار کی توہین ہے۔ اگر سرحد یونیورسٹی کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات درست ہیں تو اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلبہ کا احتجاج ان کا حق ہو سکتا ہے، مگر احتجاج کی آڑ میں کسی خاتون عہدیدار کے ساتھ بدتمیزی، دھمکی یا دست درازی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک غلط عمل دوسرے غلط عمل کو درست قرار نہیں دے دیتا۔ اگر کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے ازالے کا راستہ قانون ہے، اور اگر کسی فوجی افسر کی اہلیہ کو خطرہ لاحق تھا تو اس کی حفاظت بھی ضروری تھی؛ مگر اس سب کے باوجود قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا اصول قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔

یہاں جذبات کو سمجھنا اور اقدام کو درست قرار دینا، دو الگ باتیں ہیں۔

ایک شوہر کو یہ اطلاع ملے کہ اس کی اہلیہ کے ساتھ بدسلوکی ہوئی ہے، اسے دھمکایا گیا ہے یا اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے تو اس کا غصے میں آنا انسانی فطرت ہے۔ شوہر کی حیثیت سے اپنی اہلیہ کے تحفظ کا احساس بھی ایک فطری جذبہ ہے۔ مگر ریاستی اور قانونی نظام اسی لیے قائم کیا گیا ہے کہ انسان کے شدید ترین جذبات کے باوجود فیصلے اصول اور قانون کے مطابق ہوں۔

اگر بیان کردہ واقعے کے مطابق فوجی افسر اپنی نجی حیثیت میں یونیورسٹی پہنچے، کسی طالب علم کو خود جا کر سزا دینے کی کوشش کی، پھر حالات کشیدہ ہونے پر پستول نکالی اور ہوائی فائرنگ کی، تو اس اقدام کا قانونی جواز بہرحال ایک سوال بن جاتا ہے۔ یہ فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا کہ چونکہ افسر کی اہلیہ کے ساتھ مبینہ زیادتی ہوئی تھی، اس لیے افسر کا ہر قدم درست تھا۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے : کیا کسی شہری کو، خواہ وہ کتنا ہی غیور، با اثر یا ذمہ دار کیوں نہ ہو، قانون سے ہٹ کر خود انصاف کرنے کا اختیار حاصل ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ اختیار صرف ایک شخص تک محدود نہیں رہے گا۔ کل کوئی باپ اپنی بیٹی کے معاملے میں یہی اصول اپنائے گا، کوئی بھائی اپنی بہن کے معاملے میں، کوئی شوہر اپنی بیوی کے معاملے میں اور کوئی با اثر شخص اپنے کسی عزیز کے لیے۔ ہر شخص اپنے جذبات کو قانون کا متبادل سمجھنے لگے گا۔ اس کے بعد معاشرہ انصاف کے نظام سے نہیں بلکہ طاقت کے توازن سے چلنے لگے گا۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں غیرت اور قانون کے درمیان فرق سمجھنا ہو گا۔

غیرت اپنی جگہ ایک انسانی جذبہ ہے، مگر قانون کسی کے جذبات کا تابع نہیں ہوتا۔ قانون اس بات کو نہیں دیکھتا کہ سامنے والا شخص کتنا غصے میں تھا، اس کی نیت کتنی نیک تھی یا اسے کس قدر اشتعال دلایا گیا۔ قانون یہ دیکھتا ہے کہ اس نے کیا کیا، کن حالات میں کیا اور کیا اس کا اقدام قانونی حدود کے اندر تھا یا نہیں۔

یہ کہنا بھی کافی نہیں کہ اگر پولیس کو اطلاع دی جاتی تو شاید وہ دیر سے پہنچتی۔ اگر ریاستی ادارے بروقت تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شہریوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت مل گئی۔ اس صورت میں سوال پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی پر اٹھنا چاہیے، قانون کی ضرورت پر نہیں۔

اسی طرح یہ دلیل بھی فیصلہ کن نہیں کہ اگر افسر کی نیت تشدد کی ہوتی تو وہ اپنے ساتھ کئی جوان لے آتے۔ ممکن ہے نیت واقعی کسی کو سبق سکھانے کی نہ ہو، بلکہ صرف اپنی اہلیہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار ہو۔ مگر قانون کسی اقدام کی نیت اور اس کے نتیجے، دونوں کو دیکھتا ہے۔ اچھی نیت ہر غلط طریقۂ کار کو خود بخود درست نہیں بنا دیتی۔

اس معاملے میں ایک اور اہم پہلو بھی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے مبینہ طور پر ابتدائی شکایت کے بعد متعلقہ افسر کو معطل کیا اور انکوائری کمیٹی قائم کی۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ ادارہ جاتی سطح پر قانون کے مطابق آگے بڑھایا جا سکتا تھا۔ اگر انکوائری کے دوران کسی خاتون عہدیدار کو خطرہ لاحق تھا تو یونیورسٹی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ حکام سے سکیورٹی طلب کی جا سکتی تھی۔

اصل خرابی شاید یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہم اکثر قانونی راستے کو کمزور اور ذاتی طاقت کو فوری انصاف سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ عدالت وقت لے گی، پولیس دیر سے آئے گی، ادارے شاید کارروائی نہ کریں ؛ لہٰذا خود ہی فیصلہ کر لیا جائے۔ یہی ذہنیت معاشرے میں قانون کی بالادستی کو کمزور کرتی ہے۔

یہاں فوجی افسر کی حیثیت بھی خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ فوجی ادارہ نظم و ضبط، حکم کی پابندی اور ضبطِ نفس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایک فوجی افسر سے عام شہری کی نسبت زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی توقع کی جاتی ہے۔ اس لیے اگر وہ شدید جذباتی کیفیت میں بھی قانون کے دائرے میں رہنے کا انتخاب کرتا ہے تو یہ اس کے منصب کی حقیقی عظمت ہوتی۔

بلاشبہ یہ کہنا بھی درست نہیں کہ صرف افسر کے اقدام پر بحث کی جائے اور ان طلبہ کے مبینہ کردار کو نظرانداز کر دیا جائے۔ اگر کسی طالب علم نے خاتون کے گریبان پر ہاتھ ڈالا، اسے دھمکی دی یا تشدد کی کوشش کی تو اسے بھی قانون کے مطابق جواب دینا ہو گا۔ ایک جرم دوسرے جرم کو ختم نہیں کرتا۔ جس نے خاتون کی توہین کی، اسے بھی جواب دینا ہو گا؛ اور اگر افسر نے قانون سے تجاوز کیا تو اس کا تعین بھی قانون ہی کرے گا۔

اسی لیے اس پورے واقعے میں سب سے زیادہ ضرورت جذباتی نعروں کے بجائے شفاف تحقیقات کی ہے۔ یونیورسٹی کیمروں کی ریکارڈنگ، عینی شاہدین کے بیانات، سکیورٹی اہلکاروں کی گواہی، متعلقہ افراد کے بیانات اور دیگر دستیاب شواہد سامنے آنے چاہئیں۔ پھر جس کا جتنا قصور ہو، اتنی ہی ذمہ داری عائد ہونی چاہیے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ تعلیمی ادارے آخر کس لیے ہوتے ہیں؟ یونیورسٹی اختلاف، مکالمے، تحقیق اور شعور کی جگہ ہے، طاقت کے مظاہرے اور ہجوم کے دباؤ کی نہیں۔ طلبہ کو احتجاج کا حق حاصل ہے، مگر احتجاج کسی دوسرے انسان کے وقار کو پامال کرنے کا لائسنس نہیں۔ اسی طرح کسی استاد یا عہدیدار کو بھی اختیار حاصل نہیں کہ وہ طلبہ کے خلاف طاقت استعمال کرے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا فرض ہے کہ اختلاف کو مکالمے میں تبدیل کرے اور کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دے۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے۔

اگر ایک خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تو یہ قابلِ مذمت ہے۔ اگر اس کے ساتھ دست درازی ہوئی تو یہ سنگین جرم ہے۔ اگر اسے دھمکی دی گئی تو اس کی بھی قانونی سزا ہونی چاہیے۔ لیکن اگر اس زیادتی کے جواب میں کوئی شخص خود عدالت، خود پولیس اور خود سزا دینے والا بن جائے تو اسے بھی محض ”غیرت“ کے عنوان سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم قانون کی ریاست چاہتے ہیں یا جذبات کی ریاست۔

غیرت اگر مظلوم کی حفاظت کا جذبہ ہے تو قابلِ احترام ہے، لیکن غیرت کے نام پر قانون کو روند دینا کسی مہذب معاشرے کا اصول نہیں ہو سکتا۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ طالب علم کے لیے بھی، استاد کے لیے بھی، عام شہری کے لیے بھی اور فوجی افسر کے لیے بھی۔

ورنہ پھر سوال یہی رہ جاتا ہے :

اگر ہر شخص اپنے جذبات، غصے اور غیرت کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے تو کیا ہم واقعی ایک ریاستِ قانون میں رہ رہے ہیں، یا آہستہ آہستہ جنگل کے قانون کی طرف واپس جا رہے ہیں؟

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Fatima
Fatima
1 day ago

یہ تحریر نہ کسی زیادتی کا دفاع کرتی ہے اور نہ کسی فریق کو بلا تحقیق مجرم قرار دیتی ہے، بلکہ ایک بنیادی اصول کی طرف توجہ دلاتی ہے: ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے، مگر ظلم کا جواب قانون سے بالاتر ہو کر دینا درست نہیں۔ اگر کسی خاتون کے ساتھ زیادتی، دست درازی یا دھمکی ہوئی ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہونی چاہیے، لیکن کسی افسر یا فرد کو محض غصے، غیرت یا جذبات کی بنیاد پر خود منصف بننے

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW