جی اے ٹی ایس 2024 : پاکستان میں تمباکو کے بحران کی مبہم تصویر
گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (جی اے ٹی ایس) 2024 نے تمباکو کے استعمال سے متعلق سوالوں کے جواب دینے کے بجائے پاکستان کے لیے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسے مستند قومی سروے سمجھا جاتا ہے جو ملک میں تمباکو کے استعمال، دوسروں کے سگریٹ کے دھوئیں (سیکنڈ ہینڈ سموکنگ) کے شکار افراد، ترک تمباکو نوشی کی کوششوں اور تمباکو کے استعمال سے متعلق لوگوں کے رویوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ گھریلو سروے قومی صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سٹڈیز، ٹریننگ اینڈ ریسرچ نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے منعقد کیا جس میں پاکستان بھر سے 11 ہزار 167 بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔
گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے 2024 کے مطابق پاکستان نے 2014 سے 2024 کے دوران عالمی ادارہ صحت کے فریم کنونشن برائے انسداد تمباکو نوشی کے تحت اپنے اقدامات کے ذریعے تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس پیش رفت کے باوجود ملک میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کی آبادی کا 16.1 فیصد اب بھی تمباکو استعمال کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں 2 کروڑ 27 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں جن میں سے 1 کروڑ 40 لاکھ سگریٹ نوش ہیں۔
سروے کے مطابق پاکستان کے جن مقامات کا جائزہ لیا گیا، وہاں سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کی شرح میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی۔ گھروں میں یہ شرح 48.3 فیصد سے کم ہو کر 28.8 فیصد، دفاتر اور دیگر کام کی جگہوں پر 69.1 فیصد سے 35.9 فیصد، سرکاری عمارتوں میں 64.6 فیصد سے 40.7 فیصد، نجی عمارتوں میں 77.3 فیصد سے 54.8 فیصد، صحت کے مراکز میں 37.6 فیصد سے 24.5 فیصد، ریستورانوں میں 86 فیصد سے 55.2 فیصد، شادی ہالوں میں 65.7 فیصد سے 50.3 فیصد، پبلک ٹرانسپورٹ میں 76.2 فیصد سے 45.4 فیصد، یونیورسٹیوں میں 44.2 سے 33.3 فیصد اور سکولوں میں 25.1 فیصد سے 11.5 فیصد رہ گئی۔
یہ خوش آئند امر ہے کہ ملک میں تمباکو نوشی اور سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کی شرح میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے مگر سروے میں ایک پریشان کن رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق خواتین میں تمباکو کے استعمال میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ 15 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں سے 5.9 فیصد تمباکو نوش ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تمباکو نوشی ترک کرنے کی شرح میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔ یہ شرح 24.7 فیصد سے کچھ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 24.1 فیصد ہو گئی ہے۔
یہ نتائج ایک جانب امید اور حوصلہ افزا پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں جب کہ دوسری جانب یہ تمباکو نوشی کے مکمل خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان نتائج سے تمباکو نوشی کی صورتِ حال مکمل طور پر طور واضح نہیں ہوتی۔
جی اے ٹی ایس 2024 کے نتائج پر مبنی کوئی تفصیلی رپورٹ ابھی تک جاری نہیں کی گئی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جی اے ٹی ایس 2014 میں تمباکو کے استعمال کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی تھیں، مگر اس نئے سروے کے نتائج میں ان سے متعلق معلومات شامل نہیں ہیں۔ اس میں یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ ایک سگریٹ نوش روزانہ اوسطاً کتنے سگریٹ پیتا ہے اور موجودہ بالغ سگریٹ نوش افراد نے کس عمر میں سگریٹ نوشی شروع کی۔
2014 کے سروے میں 20 سے 34 سال کی عمر کے دوران روزانہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں سے 29 فیصد کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے 17 سال کی عمر سے پہلے روزانہ سگریٹ پینا شروع کیا۔ اسی سروے کے مطابق ان تمباکو نوشوں میں سے 8.4 فیصد نے سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ معلومات اہم ہیں مگر اب یہ پرانی ہو چکی ہیں۔ لہذا، آج یہ جاننا اہم اور نہایت ضروری ہے کہ آیا سگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر میں یا روزانہ تمباکو کا استعمال کرنے والے لوگوں میں اسے ترک کرنے کی شرح میں گزشتہ دس برس کے دوران کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔
جی اے ٹی ایس 2024 میں تمباکو کے استعمال میں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے مگر اس کی وجوہات کا تعین نہیں کیا گیا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ کمی آبادی میں اضافے کے باعث سامنے آنے والے اعداد و شمار کا نتیجہ ہے یا پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیاب افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے؟ 2014 کے سروے کے نتائج میں ایک اہم بات یہ معلوم ہوئی تھی کہ روزانہ تمباکو نوشی کرنے والوں میں سے 8.4 فیصد نے اپنی اس عادت کو ترک کرنے میں حاصل کی۔ آج، مگراس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
اس سروے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں منتخب آبادی سے متعلق اہم خصوصیات شامل نہیں کی گئیں، حالاں کہ یہ تمباکو نوشی کے رجحانات کو بہتر طور پر سمجھنے اور مختلف گروہوں میں اس کے پھیلاؤ کا جائزہ لینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
2014 میں 18 سال کی عمر سے پہلے سگریٹ نوشی کرنے سے متعلق معلومات ایک تشویش ناک امر کی صورت میں سامنے آئی تھیں۔ اس وقت دیہی علاقوں میں 32.7 فیصد جب کہ شہری علاقوں میں 18.8 فیصد بالغ افراد نے 17 برس کی عمر سے پہلے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کر دی تھی۔ بدقسمتی سے، جی اے ٹی ایس 2024 کے نتائج میں اس حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
سگریٹ نوشی کی شرح کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو سگریٹ نوشی شروع کرنے اور کم نقصان دہ متبادل سمیت تمباکو کی تمام مصنوعات کے استعمال سے دور رکھا جائے۔ یہ، مگر اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب کم عمر اور نوجوان سگریٹ نوشوں کی تعداد، ان کے سماجی و معاشی پس منظر اور ان کے رہائشی علاقوں کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہوں۔
جی اے ٹی ایس 2014 میں 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں سگریٹ، حقہ اور واٹر پائپ سمیت مختلف طریقوں سے تمباکو کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے۔ آج اس عمر کے افراد سے متعلق یہ صورتِ حال واضح نہیں ہے۔ اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھیں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں تمباکو کی متبادل مصنوعات متعارف ہوئی ہیں۔ لہٰذا، اس وقت 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد سے متعلق یہ معلومات مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
آج مارکیٹ میں پہلے سے کہیں زیادہ مختلف اقسام کی تمباکو مصنوعات دستیاب ہیں۔ اس سے ایک طرف نوجوانوں کے پاس ان میں سے انتخاب کے زیادہ مواقع میسر آ گئے ہیں جب کہ دوسری طرف ان مصنوعات سے وابستہ خطرات بھی ماضی کے مقابلے میں بڑھ گئے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ نوجوانوں کا سماجی و معاشی پس منظر کیا ہے، وہ تمباکو کی کون سی مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور اس حوالے سے دیگر متعلقہ عوامل کیا ہیں۔ یہ معلومات نوجوانوں کو تمباکو کی مصنوعات کے استعمال سے دور رکھنے کے لیے موثر منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی وضع کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
بدقسمتی سے، جی اے ٹی ایس 2024 کے جاری کردہ نتائج سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کا مقصد سگریٹ نوشی اور تمباکو کے استعمال کی اصل صورتِ حال کو واضح کرنے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنا ہے۔ ان نتائج کے بجائے اگر گزشتہ برسوں کے دوران تمباکو کے استعمال سے متعلق ایک جامع رپورٹ جاری کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اس رپورٹ میں سروے میں استعمال کیے گئے انڈیکیٹر، معلومات جمع کرنے کے طریقہ کار، مکمل سوالنامے اور سفارشات کو بھی شامل کیا جاتا تو صورتِ حال کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے میں مدد ملتی۔
جی اے ٹی ایس 2024 پر ایک جامع رپورٹ جاری کرنے کی ضرورت ہے جس میں سروے کے طریقہ کار، تمباکو کے استعمال، ترکِ تمباکو نوشی اور اس کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقوں، سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے پھیلاؤ اور تمباکو کے استعمال کے معاشی اثرات کی تفصیلات شامل ہوں۔ اس کے علاوہ، اس میں میڈیا، تمباکو مصنوعات کی تشہیر و مارکیٹنگ، سگریٹ نوشوں اور غیر تمباکو نوش افراد کی تمباکو نوشی سے متعلق معلومات، رویوں اور تصورات سمیت تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے۔ یقیناً، اس رپورٹ میں سفارشات بھی شامل ہونی چاہئیں۔ سروے کے اعداد و شمار بھی عوامی سطح پر دستیاب کرائے جانے چاہئیں تاکہ محققین اور دیگر متعلقہ افراد ان کا آزادانہ طور پر جائزہ لے سکیں۔

