بلاگ

عملی امتحان یا ایک اجتماعی مذاق؟

Intikhab Ulfat

چند روز پہلے ایک کالج کے ایک سینئر استاد سے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات پر گفتگو ہو رہی تھی۔ تدریس اور امتحانات کا طویل تجربہ رکھنے والے اس استاد نے ایک ایسی بات کہی جسے سن کر پہلے ہنسی آئی، پھر افسوس ہوا اور آخر میں یہ سوال ذہن میں ابھرا کہ اگر واقعی صورتِ حال ایسی ہے تو ہم یہ سب کر کیوں رہے ہیں؟

بات انٹرمیڈیٹ کے عملی امتحانات کی تھی۔ استاد کہنے لگے کہ نظری امتحانات کے دوران ہماری مستعدی دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ نگرانی ہے، ویجیلنس ہے، سپر ویجیلنس ہے، مراکز کی جانچ ہے، عملے کی تعیناتی ہے اور نقل روکنے کے لیے طرح طرح کے انتظامات ہیں۔ کہیں اچانک دورہ، کہیں امیدواروں کی تلاشی اور کہیں امتحانی عملے کی نگرانی۔ گویا پورا نظام اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ امتحان کی شفافیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔

لیکن ذرا عملی امتحان کی دہلیز پار کیجیے۔ وہاں پہنچتے ہی جیسے ہمارے سارے اصول، ساری نگرانی اور ساری امتحانی غیرت رخصت پر چلی جاتی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ عملی امتحان سے پہلے سفارش آتی تھی: ”بچہ اچھا ہے، ذرا وائیوا میں خیال رکھیے گا۔“ پھر سفارش نے ترقی کی۔ اب بعض جگہ بات وائیوا تک محدود نہیں رہی۔ درخواست یہ ہوتی ہے کہ بس فلاں ایک پریکٹیکل دے دیجیے۔ اور لطف یہ کہ جس پریکٹیکل کے لیے اتنی تگ و دو کی گئی، بعض امیدوار اس کی ریڈنگ تک خود لینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم کس چیز کا امتحان لے رہے ہیں؟

میرے سینئر ساتھی نے بتایا کہ جب وہ بطور ایکسٹرنل کسی کالج جاتے ہیں تو بچوں سے کہتے ہیں : ”بھائی، اگر کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تو پوچھ لو۔“ مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالب علم کم از کم تجربہ سمجھ لے، آلہ پہچان لے، ریڈنگ لینا جان لے اور یہ بتا سکے کہ آخر وہ کر کیا رہا ہے۔ مگر بعض اوقات کیفیت یہ ہوتی ہے کہ سوال پوچھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ طالب علم ایسی بے نیازی کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہے آخر پندرہ نمبر ہی تو ہیں۔

یہ جملہ معمولی نہیں۔ یہ ہمارے امتحانی نظام پر ایک مکمل تبصرہ ہے۔ عملی امتحان کا مقصد کبھی یہ نہیں تھا کہ طالب علم لیبارٹری میں آئے، تیار شدہ سیٹ اپ دیکھے، کسی دوسرے کی مدد سے چند ریڈنگز لکھے، فائل دکھائے اور نمبر لے کر گھر چلا جائے۔ عملی امتحان دراصل اس بات کی جانچ ہے کہ کتاب میں پڑھی ہوئی سائنس ہاتھ، آنکھ، مشاہدے اور پیمائش تک پہنچی بھی ہے یا نہیں۔

سائنس کا طالب علم اگر آ لات کے استعمال سے ناواقف ہے، تخمین نہیں کر پائے، گراف نہ بنا سکے یا تجربے کی بنیاد نہیں سمجھتا ہو، تو اس کے عملی امتحان میں اچھے نمبر کس قابلیت کی سند ہیں؟ عملی تربیت سائنس کا بنیادی حصہ ہے۔ سائنس صرف کتاب میں لکھی تعریفوں کا نام نہیں۔ سائنس مشاہدہ ہے، پیمائش ہے، تجربہ ہے، غلطی کو سمجھنا ہے، نتیجہ اخذ کرنا ہے اور اپنے نتیجے کا دفاع کرنا ہے۔ اگر یہ سب نہیں تو پھر عملی امتحانات کا لفظ ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم اس رسمی کارروائی پر وقت بھی صرف کرتے ہیں، پیسہ بھی اور انسانی وسائل بھی۔ اندرونی و بیرونی ممتحن مقرر ہوتے ہیں، امتحانی شیڈول بنتے ہیں، لیبارٹریاں مختص ہوتی ہیں، عملہ بیٹھتا ہے، کاغذات تیار ہوتے ہیں اور پورا انتظامی ڈھانچہ حرکت میں آتا ہے۔ اگر آخر میں تقریباً سب کو پہلے سے متوقع نمبر ہی دینے ہیں تو اتنا تکلف کیوں؟

صاف کہہ دیجیے کہ عملی امتحان نہیں ہو گا اور پندرہ نمبر کالج کے داخلی ریکارڈ، مسلسل جانچ یا کسی واضح فارمولے کے تحت دے دیے جائیں گے۔ کم از کم وقت اور وسائل تو بچیں گے۔

لیکن اگر عملی امتحان رکھنا ہے تو پھر اسے امتحان بنائیے۔ طالب علم کو تجربہ خود کرنا چاہیے۔ آلہ خود لگانا چاہیے۔ ریڈنگ خود لینی چاہیے۔ نتیجہ خود اخذ کرنا چاہیے۔ ممتحن کو چند بنیادی سوالات ضرور پوچھنے چاہئیں۔ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ امیدوار کو معلوم بھی ہے کہ اس نے کیا کیا اور کیوں کیا۔

اس کے لیے کسی طالب علم کو رسوا کرنے یا غیر ضروری طور پر فیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ مقصد خوف پیدا کرنا نہیں، قابلیت جانچنا ہے۔ ایک اچھا ممتحن طالب علم کو سہولت دے سکتا ہے، سوال کو آسان الفاظ میں دہرا سکتا ہے اور گھبراہٹ کم کر سکتا ہے، مگر جواب خود نہیں دے سکتا اور نہ ہی تجربہ امیدوار کی جگہ انجام دے سکتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہمیں نمبر چاہئیں یا قابلیت۔

ایک طرف ہم شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں پریکٹیکل اسکلز نہیں، صنعت کہتی ہے کہ فارغ التحصیل افراد کو دوبارہ تربیت دینا پڑتی ہے، جامعات کہتی ہیں کہ نئے آنے والے طلبہ کی بنیادی سائنسی مہارتیں کمزور ہیں ؛ دوسری طرف انہی مہارتوں کو جانچنے کے سب سے اہم مرحلے کو ہم رسمی کارروائی بنا دیتے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟

طلبہ بھی آخر اسی نظام کو پڑھ لیتے ہیں جس میں انہیں رکھا جاتا ہے۔ جب انہیں معلوم ہو جائے کہ عملی امتحان میں کچھ خاص نہیں ہونا، تو وہ تجربہ کیوں سیکھیں؟ جب ریڈنگ کہیں سے مل سکتی ہے تو آلہ سمجھنے کی زحمت کیوں کریں؟ جب وائیوا رسمی ہے تو تصور سمجھنے کی ضرورت کیا ہے؟

امتحان صرف طالب علم کو نہیں جانچتا؛ امتحان طالب علم کو یہ بھی بتاتا ہے کہ کیا چیز سیکھنے کے قابل سمجھی جاتی ہے۔ اگر ہم عملی مہارت کو سنجیدگی سے جانچیں گے تو طالب علم اسے سنجیدگی سے سیکھے گا۔ اگر ہم خود اسے مذاق بنائیں گے تو طالب علم سے احترام کی توقع کیوں رکھیں؟

لہٰذا دو ہی راستے ہیں۔ یا عملی امتحانات کو واقعی عملی امتحان بنایا جائے : واضح معیار، تربیت یافتہ ممتحن، حقیقی تجربہ، مختصر مگر بامعنی وائیوا، شفافیت اور سفارش سے مکمل آزادی۔

یا پھر ہمت کیجیے اور یہ رسم ختم کر دیجیے۔ وقت بھی بچائیے، پیسہ بھی اور وسائل بھی۔ لیکن خدا کے لیے ایک ایسی سرگرمی کو ”امتحان“ کہنا بند کیجیے جس میں نہ مناسب طور پر علم جانچا جائے، نہ مہارت اور نہ فہم۔

امتحان کی ساکھ صرف سخت نگرانی سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کی ساکھ اس یقین سے قائم ہوتی ہے کہ جو نمبر کاغذ پر لکھا گیا ہے، اس کے پیچھے واقعی کوئی قابلیت موجود ہے ورنہ پندرہ نمبر دے دیجیے۔ یہ پورا تماشا کیوں؟

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW