کالی بھیڑیں کالی کیوں نہیں ہوتیں

اس معاشرے کا المیہ ہے کہ مسجد، دربار، چرچ یا مندر کی سیڑھیوں سے جوتے صحن سے پنکھا اور واش روم سے ٹونٹی چوری کرنے والا تو چور ہے مگر لنگر، فنڈ، پرساد اور بھینٹ کے نام پہ اکٹھی کی جانے والی رقم ہڑپ جانے والے معزز اور لگژری لائف کے مستحق ہیں۔ کرپشن بدعنوانیاں اور غبن صرف ریشمی پیراہن میں ہی چھپ سکتے ہیں۔ میلے لباس والے کی کچی پکی کٹیا میں آنے والا کرپشن بد عنوانی کا پیسہ بھی عذاب الہٰی کی طرح نازل ہوتا ہے۔
میں نے اپنی آنکھوں سے بہت سارے درمیانے طبقے یا چھوٹے رینک کے افسر دیکھے جو کرپشن سے گھر بنگلے گاڑیاں بنا گئے لیکن ان کا انجام بھیانک ہوا۔ ایسے افسران نے خودکشیاں کیں یا ان کے بچے معذور تھے یا پھر موذی امراض میں مبتلاء لاوارث موت کی آغوش میں چلے گئے۔ کرپٹ لوگ جب موت کے قریب جاتے ہیں تو ان کے بچے ڈاکٹر کی بجائے وکیل بلانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ من پسند وصیت لکھوائی جا سکے۔
بہرحال میرا تجربہ اور حساس طبیعت کی سیکھ یہی ہے کہ پینٹ شرٹ، ٹائی کوٹ، بڑی ڈگریاں اور وہ عہدے جو عام انسان کی استطاعت اور بساط سے کوسوں دور ہیں ہر طرح کی چوری کرپشن کے بڑے اسباب ہیں برائی کا سب سے خوبصورت اور پسندیدہ مسکن بھیس اور بے جا اختیار ہے۔
چھوٹے درجے کے کسی محنتی معزز اور ایماندار اہلکار کی مہینوں کی محنت ایک بدکردار افسر لمحوں میں خاک برد کر دیتا ہے لیکن کسی ایماندار افسر کی ایمانداری میں رخنہ ڈالنے کے لیے کسی بھی کرپٹ اور برے ماتحت اہلکار کو ہزاروں بار سوچنا پڑے گا
ہزاروں یا لاکھوں کی بدعنوانی کرنے والے اہلکار کو کالی بھیڑ کہا جاتا ہے جبکہ کروڑوں اربوں کے کنٹریکٹ اور سرکاری فنڈز کھا جانے والے کو جناب۔
1990 کوآپریٹو سوسائٹیز، مہران بنک، پاکستان اسٹیل ملز، نیشنل انشورنس کمپنی میں زمینوں کی خریداری میں بے ضابطگیوں کے شدید تحفظات، رینٹل پاور پراجیکٹس کیس، بجلی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگنا، گیس اور تیل کے ریگولیٹری ادارے میں اختیارات کا ناجائز استعمال اور خورد برد کے الزامات، 2010 میں حج کرپشن سکینڈل، ایفیڈرین کوٹہ سکینڈل، پانامہ کیس، توشہ خانہ کیس، چینی آٹا بحران انکوائری، قومی احتساب بیورو اور براڈ شیٹ کمپنی کے مابین معاہدہ کے تنازعات جیسے اسکینڈلز میں ملوث لوگ بالکل کالی بھیڑیں نہیں ہیں۔
کسی بھی طرز کی کسی بھی سطح پر کی گئی کرپشن کو جسٹیفائی نہیں کیا جاسکتا نہ ہی کسی بدعنوانی کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے لیکِن حقیقت کو جھٹلانا بھی صریحاً نا انصافی اور ظلم کیے جانے کے مترادف ہو گا۔
کسی فائل کو مجاز افسر کے پاس پہنچانے کے ایک کلرک اگر چند ہزار لیتا ہے تو اسی فائل پہ دستخط کرنے والا لاکھوں یا کروڑوں۔
اگر کوئی ایس ایچ او دو چار پانچ لاکھ لے کر کسی قاتل ڈاکو یا منشیات فروش کو گرین چٹ دیتا یا شریف شہری ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتا ہے تو ایس ایچ او تک ایسے عناصر کو پہنچانے والا سپاہی یا منشی دو چار ہزار۔
واپڈا کا لائن مین کوئی میٹر لگوانے کا دس ہزار لیتا ہے تو میٹر کی منظوری دینے والا پچاس ہزار۔
گھریلو صارفین اگر چولہا جلانے کو کمپریسر لگواتے ہیں تو فیکٹری مالکان بڑے بڑے پلانٹ چلانے کو پوری پوری پائپ لائن چوری لگوا لیتے ہیں۔
پٹرول پمپ مالکان اگر لاکھوں لیٹر پٹرول اور ڈیزل ذخیرہ کرتے ہیں تو فلنگ والے ملازم دوران فلنگ پوائنٹس چوری کرتے ہیں۔
کرپشن، بدعنوانی، دھوکہ، ٹھگی اب اس معاشرے میں فیشن اور آرٹ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ المیہ یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں کالی بھیڑیں موجود ہیں المیہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے رنگ بدل دیے ہیں۔ غریب کی چوری ہمیں جرم دکھائی دیتی ہے اور با اختیار کی لوٹ مار ہمیں اختیار کاروبار مصلحت اور ”جناب“ کہہ کر گزر جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
چور تو چور ہے خواہ اس کے پاؤں میں پھٹی ہوئی چپل ہو یا مہنگے جوتے، بدن پر میلا لباس ہو یا ریشمی پیراہن، ہاتھ میں چھوٹی سی فائل ہو یا اربوں کا منصوبہ۔ کیونکہ کرپشن کی مقدار نہیں اس کا اصول اہم ہے۔
جس دن ہم نے چوری کو چوری اور بدعنوانی کو بدعنوانی کہنا سیکھ لیا اسی دن کالی بھیڑوں کے اصل رنگ سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ ورنہ سفید اون میں چھپی یہ کالی بھیڑیں پورے ریوڑ کو کھاتی رہیں گی اور ہم صرف چھوٹے چوروں کو پکڑ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرتے رہیں گے۔
فی الحال یہ ضرب المثل ضرور ہے لیکن بد قسمتی سے آج کے دور کی کالی بھیڑیں کالی نہیں ہوتیں بلکہ معاشرے کی سرخ و سفید پوش معزز شخصیات ہوتی ہیں۔
