کالم۔گوشہ ادب

اگر لامین یامال ہمارے ہاں پیدا ہوتا…

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر لامین یامال ہمارے معاشرے میں پیدا ہوتا تو آج کہاں ہوتا؟

کیا وہ بھی دنیا کے عظیم ترین اسٹیڈیمز میں لاکھوں تماشائیوں کے نعروں کے درمیان فٹبال پر اپنا جادو چلا رہا ہوتا؟ کیا یورپ کے بڑے کلب اس کے ایک دستخط کے لیے بے تاب ہوتے؟ کیا دنیا اس کی رفتار، اعتماد، تخلیقی صلاحیت اور غیر معمولی کھیل پر حیران ہوتی؟

شاید نہیں۔

زیادہ امکان یہی تھا کہ وہ بھی لاکھوں دوسرے باصلاحیت بچوں کی طرح زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہوتا۔ شاید اپنے والد کی طرح رنگ و روغن کا کام کرتا، یا چونکہ اس کی والدہ ایک ویٹریس تھیں، اس لیے کسی چھوٹے سے ہوٹل یا ڈھابے میں "باہر والا”   ہوتا۔ ممکن ہے موٹرسائیکل پر پیٹرول اور ڈیزل کی بوتلیں لٹکائے سمگلنگ کے ذریعے روزی کمانے کی کوشش کر رہا ہوتا، یا کسی ورکشاپ، دکان یا فیکٹری میں مزدوری کر رہا ہوتا۔

اگر اس کے والدین بہت دور اندیش اور بے حد پُرامید ہوتے تو شاید برسوں کی جمع پونجی خرچ کرکے اسے کسی سرکاری ملازمت کے لیے تیار کرتے۔ فارم، ٹیسٹ، انٹرویوز، ویری فکیشن، سفارشیں اور نہ ختم ہونے والا انتظار… شاید قسمت مہربان ہوتی تو کسی دفتر میں کلرک یا چپراسی کی نوکری مل جاتی۔ اور اگر وہ غیر معمولی ذہانت، فولادی اعصاب اور ناقابلِ یقین محنت کا مالک نکلتا تو کسی مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر اسسٹنٹ کمشنر یا سیکشن آفیسر بن جاتا۔

پھر پورا خاندان خوشیاں مناتا، مٹھائیاں تقسیم ہوتیں، مبارک باد کے بینر لگتے، اور معاشرہ اسے کامیابی کی آخری منزل قرار دیتا۔ اس لیے نہیں کہ اس نے اپنی صلاحیت کی معراج حاصل کی، بلکہ اس لیے کہ ہمارے ہاں کامیابی کی تعریف چند مخصوص سرکاری عہدوں تک محدود ہو چکی ہے۔

یہی ہماری اصل المیہ ہے۔

ہم نے کامیابی کو اتنا محدود کر دیا ہے کہ گویا انسان کی تمام صلاحیتوں کی منزل صرف ایک ہی دروازہ ہے۔ اگر کوئی اس دروازے سے گزر جائے تو کامیاب، اور اگر نہ گزر سکے تو اس کی دوسری تمام صلاحیتیں بے معنی سمجھی جاتی ہیں۔ حالانکہ دنیا کی ترقی اس سوچ سے نہیں، بلکہ ہزاروں مختلف شعبوں میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صلاحیتوں سے ممکن ہوئی ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے نوجوان باصلاحیت نہیں ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نظام ان صلاحیتوں کو تلاش کرنے، ان کی تربیت کرنے اور انہیں مواقع فراہم کرنے سے معذور ہے۔ اسی لیے لاکھوں نوجوان ایک ہی راستے پر دوڑ رہے ہیں۔ ایک ہی امتحان، ایک ہی قطار، ایک ہی منزل، اختیارات کی کرسی۔

جس کے پاس وسائل، تعلقات یا قسمت ہے، وہ آگے نکل جاتا ہے، جبکہ باقی لوگ برسوں کی محنت کے باوجود مایوسی، بے یقینی اور محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی محرومی پھر غصے میں بدلتی ہے، غصہ بے اعتمادی پیدا کرتا ہے، اور بے اعتمادی پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

لامین یامال کی اصل خوش قسمتی صرف اس کی غیر معمولی صلاحیت نہیں تھی۔ دنیا میں بے شمار بچے ایسی صلاحیت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی اصل خوش قسمتی یہ تھی کہ وہ ایسے معاشرے میں پیدا ہوا جہاں نظام خود صلاحیت کی تلاش میں نکلتا ہے۔ جہاں کوچ گلیوں، اسکولوں اور مقامی مقابلوں میں بچوں کو ڈھونڈتے ہیں۔ جہاں کھیل کی اکیڈمیاں موجود ہیں، جدید تربیت موجود ہے، مقابلے موجود ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ یقین موجود ہے کہ اگر تم میں صلاحیت ہے تو ایک دن تم ضرور اپنی منزل تک پہنچو گے۔

وہاں کسی بچے سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ اس کا باپ کون ہے یا کیا کرتا ہے۔ وہاں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ خود کیا کر سکتا ہے۔

، میں نے اس بار  ورلڈ کپ کا فائنل لیاری میں ایک بڑی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر دیکھا تھا۔ میرے سامنے نوجوانوں کا ایک سمندر تھا۔ ہر چہرہ امید سے روشن تھا۔ کسی کی آنکھوں میں لامین یامال بننے کا خواب تھا، کوئی میسی، رونالڈو، نیمار یا ایمباپے جیسا بننا چاہتا تھا۔

ان چہروں کو دیکھ کر مجھے خوشی بھی ہوئی اور خوف بھی۔

خوشی اس لیے کہ خواب اب بھی زندہ ہیں۔

اور خوف اس لیے کہ میں جانتا تھا، ان میں سے بہت سے خواب اس لیے نہیں مریں گے کہ ان بچوں میں صلاحیت کم ہوگی، بلکہ اس لیے کہ ان کے سامنے ایک  دیوار کھڑی ہوگی۔

ان سے پہلے بھی ہزاروں نوجوان انہی خوابوں کے ساتھ میدانوں میں اترے تھے۔ انہوں نے بھی دوڑ لگائی، پسینہ بہایا، قربانیاں دیں، مگر کچھ فاصلے کے بعد ان کے سامنے ایک ایسی دیوار آ گئی جس کا نام ہمارا نظام ہے۔ وہیں ان کی رفتار رک گئی، وہیں ان کے خواب تھک گئے، اور وہیں ان کی زندگیاں کسی اور سمت مڑ گئیں۔

ہمارے ہاں بھی ایسے کھلاڑی پیدا ہوئے جن میں عالمی معیار تک پہنچنے کی صلاحیت موجود تھی، مگر کسی نے روزگار کی خاطر کھیل چھوڑ دیا، کوئی معمولی ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا، کوئی ورکشاپ میں کام کرنے لگا، کوئی نشے کی نذر ہو گیا، اور کچھ لوگ آج بھی اپنی جوانی کے سنہرے دنوں کی کہانیاں سناتے ہوئے چائے خانوں میں بیٹھے مل جاتے ہیں۔

یہ صرف فٹبال کی کہانی نہیں۔

یہی داستان سائنس کی لیبارٹریوں میں بھی ہے، ادب کے صفحات میں بھی، موسیقی کے سروں میں بھی، فنونِ لطیفہ میں بھی، کاروبار میں بھی، ٹیکنالوجی میں بھی اور تحقیق کے میدانوں میں بھی۔ ہمارے ہاں صلاحیتوں کی کمی نہیں، مواقع کی کمی ہے۔ خوابوں کی کمی نہیں، ان خوابوں تک پہنچنے والے راستوں کی کمی ہے۔

میں نوجوانوں سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں، کیونکہ خواب دیکھنے والی قومیں ہی مستقبل تخلیق کرتی ہیں۔ لیکن جب ایک نوجوان کا خواب ٹوٹتا ہے تو صرف ایک فرد ناکام نہیں ہوتا، بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ ایک کھلاڑی کم ہو جاتا ہے، ایک سائنس دان پیدا نہیں ہو پاتا، ایک موجد خاموش ہو جاتا ہے، ایک فنکار گم نام رہ جاتا ہے، اور ایک کاروباری ذہن کبھی پروان نہیں چڑھتا۔

اسی لیے میری گزارش نوجوانوں سے نہیں، ان” بزرگوں "سے ہے جن کے ہاتھ میں اس ملک کے فیصلے ہیں۔

خدا کے لیے اس قوم کے بچوں کے لیے صرف ایک کھڑکی مت چھوڑیے۔ بے شمار دروازے کھولیے۔ کھیل کے میدان آباد کیجیے، جدید اکیڈمیاں قائم کیجیے، تحقیق کے مراکز مضبوط کیجیے، صنعت کو فروغ دیجیے، فنونِ لطیفہ کی سرپرستی کیجیے، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کیجیے، اور ایسا نظام بنائیے جہاں ہر بچہ اپنے خاندانی پس منظر سے نہیں بلکہ اپنی صلاحیت، محنت اور کردار سے پہچانا جائے۔

جس دن اس ملک کا ایک غریب بچہ یہ یقین کر لے گا کہ اس کی منزل اس کے باپ کا پیشہ نہیں بلکہ اس کی اپنی قابلیت طے کرے گی، اسی دن اس ملک کی تقدیر بدلنا شروع ہو جائے گی۔

ورنہ ہم ہر چند سال بعد کسی نئے لامین یامال، کسی نئے میسی، کسی نئے سائنس دان، کسی نئے موجد یا کسی نئے فنکار کو دنیا میں چمکتے دیکھ کر یہی کہتے رہیں گے کہ "کاش وہ ہمارے ہاں پیدا ہوا ہوتا۔”

حالانکہ حقیقت شاید اس سے بھی زیادہ تلخ ہوگی۔

وہ ہمارے ہی درمیان پیدا ہوا ہوگا، مگر ہمارا نظام اسے اس مقام تک پہنچنے ہی نہیں دے سکا۔

وہ کہاں پہنچا یہ بتانے کی ضرورت نہیں سب کو معلوم ہے

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
ڈاکٹر خالد سہیل
Dr k sohail
1 day ago

Wonderful reflection of how we cut wings of our young people and then complain that they do not fly

ڈاکٹر رخشندہ پروین
Rakhshinda
13 hours ago

Geography is destiny

Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW