
فروری میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں سے پہلے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری سفر کا کوئی تنازعہ نہیں تھا۔ تاہم اس جنگ کے دوران پاسداران انقلاب نے اس تنگ آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر کے وہاں سے ہر قسم کی بحری آمد و رفت بند کردی۔ اس طرح ایران میں سخت گیر ملا رجیم ختم کرنے یا ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور سے تباہ کرنے کے مقصد سے شروع ہونے والی جنگ اب آبنائے ہرمز کے مستقبل سے منسلک ہو چکی ہے۔
ایران بہر صورت اس گزرگاہ پر اپنی اتھارٹی قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے ’خلیج فارس آبنائے اتھارٹی‘ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ اس راستے سے گزرنے والا ہر جہاز اس اتھارٹی سے اجازت لے کر وہاں سے گزر سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے یہ راستہ استعمال کرنے والے جہازوں کو ایرانی حکام کو فیس یا محصول بھی ادا کرنا ہو گا۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں نکتہ 5 کے تحت تسلیم کیا ہے کہ ایران علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اس آبی راستے کے مستقل انتظام پر اتفاق رائے پیدا کرے۔ اسی یادداشت میں البتہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے تک اس راستے سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی قدغن عائد نہیں ہوگی۔
ایران تاہم اس شق کی اپنے طور پر یہ تشریح کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کی خود مختاری تسلیم کرلی گئی ہے، اس لیے جو جہاز ایرانی حکام کو اطلاع دیے بغیر یا اس کے مقررہ راستے کے علاوہ گزرنے کی کوشش کرے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔ اسی اختلاف رائے نے اب ایک ایسے تنازعہ کی شکل اختیار کرلی ہے جس کے طول پکڑنے سے ایران امریکہ کے درمیان امن معاہدہ کی ہر امید دم توڑ سکتی ہے۔ اگرچہ فریقین نے ابھی تک ایک دوسرے پر حملے کرنے اور سخت بیانات جاری کرنے کے باوجود باہمی مواصلت کا راستہ کھلا رکھا ہے اور دوحہ میں دونوں ملکوں کے درمیان بالواسطہ ٹیکنیکل مذاکرات بھی جاری رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے اب یہ تصویر واضح ہونے لگی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل کرا کے اس پر اپنا خود مختارانہ کنٹرول قائم رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس کی شروع کی ہوئی جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر کے ممالک اس راستے سے مسلمہ فری شپنگ کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری درحقیقت امریکہ پر عائد ہوگی۔ اس طرح یہ بھی واضح ہو گا کہ ’گئے تھے نماز بخشوانے، روزے گلے پڑ گئے‘ کے مصداق امریکہ ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنے کا دعویٰ کرتا تھا لیکن اپنی مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے ایک مسلمہ بحری راستے کا کنٹرول ایک ناقابل اعتبار ملک و حکومت کے اختیار میں دینے پر مجبور ہو گیا۔ اسی لیے امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل دسترس قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ پاسداران انقلاب نے اگر اس گزرگاہ پر اپنے اختیار کی ضد جاری رکھی تو مشرق و سطیٰ میں جنگ غیر معینہ مدت تک طویل ہو سکتی ہے۔ اور اس کے نتائج کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں امریکہ نے آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران اور علاقے کے ممالک کے تعاون سے کوئی میکنزم کی شرط شاید اس لیے قبول کی تھی کہ عمان اور دیگر ممالک ایران کو متوازن اور اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر لیں گے یا ایرانی حکام کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس معاملہ پر مناسب افہام و تفہیم کے بغیر واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ ممکن نہیں ہو گا۔ البتہ اب تہران نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ ایران امن معاہدہ سے زیادہ آبنائے ہرمز پر اختیار میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایرانی حکام کا خیال ہے کہ اس طرح وہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کر کے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کر سکیں گے۔ دوسرے اس راستے پر کنٹرول کی وجہ سے اس راستے سے اپنا تیل و گیس و دیگر سامان بھیجنے والے خلیجی ممالک پر ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکے گا۔ ایران اس طرح امید لگائے بیٹھا ہے کہ وہ مشرق و سطیٰ کو امریکی اثر سے ’پاک‘ کر کے وہاں اپنا رسوخ بڑھا سکے گا اور تمام عرب ممالک اسے علاقے کی ناقابل تسخیر طاقت تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ تاہم عرب ممالک کے بارے میں اندازے قائم کرتے ہوئے ایرانی حکومت یہ بھول رہی ہے کہ اس کی خود مختاری کو اصل خطرہ اسرائیل کی طرف ہے اور عرب ملکوں کے ساتھ تنازعہ بڑھا کر درحقیقت وہ علاقے میں امریکی اثر و رسوخ کے علاوہ اسرائیل کی پوزیشن مضبوط کرنے کا سبب بنے گا۔
اس دوران عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا متبادل راستہ فراہم کیا تھا لیکن ایران اسے ماننے پر آمادہ نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ عمان بھی اسے نظرانداز کر کے بین الاقوامی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں سہولت فراہم نہیں کر سکتا۔ اس طرح بین الاقوامی پانی پر جو آزادی و خود مختاری ایران خود اپنے لیے طلب کر رہا ہے، وہ عمان کا وہی حق و اختیار ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز میں جس بحری جہاز کو گزشتہ روز نشانہ بنایا گیا تھا، وہ عمانی آبی حدود میں تھا لیکن ایران نے اس پر حملہ کیا۔ ایرانی لیڈر اس دوران عمان میں سلطنت آف عمان اور قطر کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام کے سوال پر بات چیت بھی کرتے رہے ہیں لیکن ایران بہر صورت آبنائے ہرمز پر مکمل خود مختاری کا مطالبہ کر رہا ہے اور وہاں سے گزرنے والی بحری ٹریفک سے محصول وصول کرنے پر مصر ہے۔ جبکہ عمان اس طریقہ کو ماننے پر آمادہ نہیں اور نہ ہی دیگر خلیجی ممالک آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل خود مختاری کا اصول مانتے ہیں۔
اب اقوام متحدہ کی میری ٹائم کونسل نے بھی آبنائے ہرمز کو ایرانی تسلط میں دینے کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ کسی ملک کو اس گزرگاہ پر ایرانی مداخلت کا حق تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم ایران اس کونسل کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی ان معاہدوں کو مانتا ہے جن کی وجہ سے یہ کونسل قائم کی گئی تھی اور بین الاقومی بحری ٹریفک کی نگرانی کرتی ہے۔ مختصراً امریکی حملے کے نتیجے میں ایران کے پاسداران کو یہ احساس ہوا ہے کہ وہ چند چھوٹی گن بوٹس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ہراساں کر کے پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ اور شاید امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک سے اپنی شرائط منوانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ مقصد حاصل کرنے سے پہلے ایران کو جنگ، طویل تنازعہ اور ہمسایہ عرب ممالک سے تصادم کی صورت حال کا سامنا کرنا ہو گا۔
امریکی حکومت اگرچہ اس جنگ سے نکلنا چاہتی ہے لیکن اگر ایران نے آبنائے ہرمز پر تنازعہ کو طول دے کر امریکہ کی مشکلات میں اضافہ کیا تو اس کے لیے جنگ کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں بچے گا۔ ایسی صورت میں ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے اور اس پر عائد معاشی پابندیوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس سوال پر تنازعہ میں ایران کو کسی علاقائی یا یورپی ملک کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ حالانکہ اسرائیلی و امریکی حملے کو متعدد ممالک نے جارحیت قرار دیا تھا۔ اس طرح ایران اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے امریکہ کی ناجائز جنگ کو جائز جنگی کارروائی میں تبدیل کر سکتا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کے بغیر اپنا تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے تلاش کر لیے ہیں تاہم بحرین، کویت و قطر اس راستے سے ہی اپنے بحری جہاز گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے آبنائے ہرمز پر ایران کی یک طرفہ بالادستی قبول کرنا آسان نہیں ہو گا۔ عمان ابھی تک ایران کے ساتھ ہمدردانہ و دوستانہ تعلق استوار کیے ہوئے ہے لیکن وہ آبنائے ہرمز کے اپنے حصے پر ایران کی مداخلت کیوں برداشت کرے گا؟ ابھی تو امریکی حملوں کی وجہ سے ایران اسے ’ظالم و مظلوم‘ کا تنازعہ بنا کر پیش کر لیتا ہے۔ تاہم امریکہ نے اگر اس تنازعہ سے تنگ آ کر یہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا تو عرب و یورپی ممالک کے لیے آبنائے ہرمز میں ایرانی شرائط پر بحری جہاز رانی قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس طرح یہ تنازعہ بہر حال جاری رہے گا۔
آبنائے ہرمز پر خود مختاری حاصل کرنے کے جوش میں ایران کو ایک طویل جنگ اور وہاں کے لوگوں کو غیر معینہ مدت کے لئے شدید مالی مشکلات کے لیے تیار رہنا ہو گا۔
