میرے مطابق

وزیراعلیٰ سندھ، عوامی رابطوں سے محروم حکمرانی کے دس سال

Abdullah Usman Morai

جمہوری نظام میں کسی حکمران کی کامیابی کا اندازہ صرف ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اجلاسوں، فائلوں کی منظوری یا بڑی بڑی تقاریر سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے کتنے قریب ہے۔ ایک عظیم اور حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو اقتدار کے ایوانوں سے نکل کر گاؤں، قصبوں اور دور دراز علاقوں میں جائے، لوگوں کے درمیان بیٹھے، ان کے مسائل سنے اور ان کے دکھ درد کو خود محسوس کرے۔

صوبائی خودمختاری اور عوامی ووٹ کی طاقت سے اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والی قیادت کا بنیادی فرض پورے صوبے کے چپے چپے کی نگرانی اور خدمت کرنا ہوتا ہے۔ لیکن سندھ کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالنے سے ایک عجیب اور افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ سندھ کے موجودہ وزیر اعلیٰ کو اقتدار میں بیٹھے ہوئے تقریباً دس سال مکمل ہونے والے ہیں، لیکن ان کا زیادہ تر وقت سندھ کے دیگر اضلاع، شہروں اور دیہات کے بجائے صرف دارالحکومت کراچی میں گزرتا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں یا صرف کراچی کے میئر؟

حکمرانوں کو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سندھ صرف کراچی کی بلند و بالا عمارتوں یا کلفٹن اور ڈیفنس کا نام نہیں ہے۔ یہ تھرپارکر کے ریگستانوں، کوہستان کے پہاڑوں، ٹھٹھہ اور سجاول کے ساحلی علاقوں، لاڑکانہ، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، دادو، جامشورو، قمبر شہداد کوٹ، میرپور خاص، عمرکوٹ، بدین، سانگھڑ، نوشہرو فیروز، نواب شاہ، مورو، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، سیہون، مٹھی، اسلام کوٹ، نگرپارکر، ڈیپلو، چھاچھرو، جوہی، میہڑ، روہڑی، پنو عاقل، کوٹ ڈیجی اور ہزاروں دیہات پر مشتمل ایک وسیع، تاریخی اور متنوع صوبہ ہے۔

وزیراعلیٰ پورے سندھ کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے اور اس کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہر اس شہری تک پہنچتی ہے جو کسی دور افتادہ گاؤں میں کچی چھت کے نیچے رہتا ہو یا کسی بڑے شہر کی پکی سڑک پر۔

یہ سچ ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے دیگر حصوں کا دورہ کرتے ہیں، لیکن یہ دورے غالباً صرف چند مروجہ طریقوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جن میں کسی بڑے حادثے، سانحے یا سیلاب کی صورت میں کرائسز مینجمنٹ کرنا، انتخابات کے دنوں میں سیاسی ریلیوں اور عوامی جلسوں میں شرکت کرنا، یا پھر کسی ترقیاتی منصوبے کے فوٹو سیشن اور پروٹوکول زدہ معائنے کے لیے جانا شامل ہے۔

جب ایک وزیر اعلیٰ تقریباً دس برس اقتدار میں رہ چکا ہو تو یہ فطری سوال ذہن میں آتا ہے کہ اس نے کتنی بار تھرپارکر، کوہستان، کشمور، جوہی، نگرپارکر، ڈیپلو، کیٹی بندر، شاہ بندر یا دیگر پسماندہ علاقوں میں کھلی کچہری لگا کر عوام سے براہ راست ان کے مسائل سنے؟ کتنی مرتبہ اس نے کسانوں، ماہی گیروں، اساتذہ، خواتین، نوجوانوں اور مزدوروں کے ساتھ بغیر کسی سرکاری لاؤ لشکر اور پروٹوکول کے بیٹھ کر ان کی مشکلات جاننے کی کوشش کی؟ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو اے سی کمروں اور سرخ قالینوں سے نکل کر مٹی کی پگڈنڈیوں پر چلتی ہے، عوام کے بیچ بیٹھ کر ان کے دکھ تکلیفیں براہِ راست سنتی ہے اور موقع پر ہی حل کے احکامات جاری کرتی ہے۔

سرکاری رپورٹس اور فائلوں میں موجود اعداد و شمار تو سب اچھا ہے کی نوید سناتے ہیں، لیکن وہ عوام کے اصل دکھ درد اور زمینی حقائق کو پوری طرح بیان نہیں کر سکتے۔ اگر وزیر اعلیٰ سندھ کے دیہی علاقوں میں جا کر عام لوگوں سے براہِ راست گفتگو کرتے، تو انہیں ان بنیادی مسائل کا گہرائی سے علم ہوتا جو آج بھی سندھ کی روح کو زخمی کر رہے ہیں۔ ان دوروں کے ذریعے اسکولوں کی بدحالی اور اساتذہ کی کمی کا تدارک ممکن ہوتا اور والدین کو خصوصاً بچیوں کی تعلیم کی اہمیت پر بیدار کیا جا سکتا تھا۔ اسی طرح غیرت کے نام پر قتل کی بدبودار رسم یعنی کارو کاری، کم عمری کی شادی اور قبائلی تنازعات کے خلاف براہ راست عوامی مہم چلائی جا سکتی تھی۔

تھرپارکر اور کوہستان میں غذائی قلت اور آلودہ پانی کی وجہ سے دم توڑتے معصوم بچوں کے المیے کا خاتمہ بھی اسی صورت ممکن ہے جب حاکمِ وقت خود وہاں موجود ہو۔ کندھ کوٹ، کشمور اور شکارپور کے کچے میں ڈاکو راج اور دیہی نوجوانوں میں پھیلتی منشیات کے خلاف تب ہی سخت ایکشن ہوتا جب حکمران عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ ایک حکمران جب دیہات کے اسکولوں میں اچانک پہنچتا ہے، کسی غریب ماں کی بات سنتا ہے، کسی کسان کے کھیت میں کھڑا ہوتا ہے یا کسی مریض کے علاج کی مشکلات خود دیکھتا ہے، تب ہی اسے اصل حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ خود ان علاقوں میں جا کر تعلیم کے فروغ اور کارو کاری جیسے قبائلی ناسوروں کے خلاف لوگوں کو آگاہ کرتے، تو آج سندھ سماجی اور معاشی طور پر کہیں آگے ہوتا۔

کسی بھی وزیر اعلیٰ کے گرد مشیروں، وزیروں اور بیوروکریسی کی ایک بڑی فوج ہوتی ہے، جن کا کام انہیں صحیح مشورے دینا ہوتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے مشیر انہیں صرف افتتاحی تقریبات، سیاسی جلسوں اور میڈیا ایونٹس تک محدود رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ وہ یہ مشورہ دینے میں مکمل ناکام رہے ہیں کہ کراچی سے باہر بھی ایک سندھ تڑپ رہا ہے، جس نے آپ کو ووٹ دے کر اس کرسی پر بٹھایا ہے۔ کراچی یقیناً سندھ کا معاشی مرکز ہے اور وہاں حکومتی موجودگی ضروری ہے، لیکن اگر وزیر اعلیٰ اپنا زیادہ تر وقت وہیں گزارے تو صوبے کے دیگر علاقوں کے عوام میں یہ احساسِ محرومی پیدا ہونا فطری ہے کہ حکومت ان سے بہت دور ہے۔

اگر وزیر اعلیٰ اپنے اقتدار کا آدھا وقت بھی سندھ کے دیگر حصوں میں عوام کے درمیان گزارتے، تو انہیں مقامی لوگوں سے جو سچی محبت، احترام اور سیاسی مضبوطی ملتی، وہ ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی۔

وزیر اعلیٰ کا منصب صرف اختیارات کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ اس منصب کی اصل عزت اس وقت بڑھتی ہے جب حکمران صوبے کے دور دراز علاقوں تک خود پہنچ کر عوام کو یہ احساس دلائے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ اقتدار کے اس دور کے دس سال گزرنے والے ہیں، لیکن اب بھی وقت باقی ہے۔ اگر باقی ماندہ مدت میں سندھ کے ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر پسماندہ علاقے کے باقاعدہ دورے کیے جائیں، ہر ماہ مختلف اضلاع میں کھلی کچہریاں منعقد ہوں، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کے اچانک دورے کیے جائیں، اور عوام سے براہ راست مکالمہ شروع کیا جائے تو نہ صرف مسائل کی درست نشاندہی ہو گی بلکہ عوام کا کھویا ہوا اعتماد بھی بحال ہو جائے گا۔

یہ ایک ایسی میراث ہو گی جسے تاریخ عزت سے یاد رکھے گی۔ یاد رکھیے، اقتدار اور کرسی ہمیشہ نہیں رہتی، لیکن عوام کی محبت اور احترام نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ تاریخ انہی حکمرانوں کو عظیم قرار دیتی ہے جو اقتدار کے بند ایوانوں میں نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کے دلوں میں اپنی پہچان بناتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW