کالم۔

علامتی سیاست یا حقیقی ترقی؟ پختون نیشنلزم کے لیے نئے دور کے چیلنجز

Quraysh Khattak

پاکستانی سیاست کے پیچیدہ اور ہمہ جہت منظرنامے میں پختون نیشنلزم ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں ماضی کی جدوجہد اور مستقبل کے تقاضوں کے درمیان ایک واضح فکری خلیج نظر آتی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں پختون قوم پرست سیاست نے بعض اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کے تصور کو تقویت ملی، جبکہ سابقہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے ”خیبر پختونخوا“ رکھنا ایک بڑی تاریخی و سیاسی کامیابی قرار پائی۔ یہ دونوں اقدامات وفاقی ڈھانچے میں پختون شناخت کے آئینی اعتراف کی علامت بنے، تاہم اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان علامتی فتوحات نے عام پختون کی زندگی میں وہ حقیقی تبدیلی پیدا کی ہے جس کا خواب ایک صدی قبل خدائی خدمتگار تحریک کے بانیوں نے دیکھا تھا؟

کسی بھی قوم کی سیاسی شناخت کی توثیق بلاشبہ اہمیت رکھتی ہے، مگر یہ عمل بذاتِ خود عوام کی سماجی و معاشی حالت سدھارنے کی ضمانت نہیں دیتا۔ اگر شناخت کی سیاست ٹھوس معاشی اصلاحات سے ہم آہنگ نہ ہو تو وہ محض علامتی حاصلات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ چنانچہ پختون قوم پرست سیاست کے سامنے اب اگلا بڑا چیلنج صرف شناخت کا تحفظ نہیں، بلکہ پختون عوام کی معاشی اور سماجی زندگی میں ایک پائیدار انقلاب برپا کرنا ہے۔ یہ تبدیلی اسی صورت ممکن ہے جب سیاست کا محور جذباتی نعروں اور تاریخی شکایات کے بجائے انسانی ترقی کے حقیقی اہداف کی طرف منتقل ہو۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی وہ کلیدی شعبے ہیں جن کے بغیر سیاسی خودمختاری کا تصور ادھورا ہے۔ اگر قوم پرست بیانیہ عام آدمی کے معیارِ زندگی اور نوجوانوں کے مستقبل کو اپنی اولین ترجیح نہیں بناتا، تو یہ تحریک عوامی جڑوں سے کٹ کر ایک محدود دانشورانہ بحث بن کر رہ جائے گی۔

اسی تناظر میں پختون علاقوں کے قدرتی وسائل کا مقدمہ بھی ازسرِ نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا معدنیات، پانی اور توانائی کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے۔ ماضی میں قوم پرست سیاست کا سارا زور وفاق سے ان وسائل میں منصفانہ حصے کے مطالبے پر رہا، جو یقیناً ایک جائز آئینی حق ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس بحث کو صرف حصہ مانگنے سے آگے بڑھا کر وسائل کی موثر مینجمنٹ کی طرف لایا جائے۔ صرف یہ دعویٰ کرنا کافی نہیں کہ وسائل ہمارے ہیں، بلکہ اصل چیلنج ان وسائل کو پختون عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ قوم پرست قیادت کو ماہرینِ معاشیات اور ٹیکنو کریٹس کے ساتھ مل کر ایسے عملی ماڈلز وضع کرنے چاہئیں جو مقامی صنعت کاری، جدید کان کنی اور توانائی کے منصوبوں میں عالمی سرمایہ کاری کو راغب کر سکیں کیونکہ معاشی خود کفالتی ہی دراصل کسی قوم کی حقیقی خوشحالی اور اقتصادی خودمختاری کی بنیاد ہوتی ہے۔

عالمگیریت اور ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور نے پختون سیاست کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ آج لاکھوں پختون دنیا بھر میں مقیم ہیں اور یہ ”ڈائسپورا“ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دے رہا ہے جو جغرافیائی سرحدوں سے آزاد ہے۔ یہ صورتحال جہاں پختون قوم کے لیے ایک عالمی آواز فراہم کرتی ہے، وہیں کچھ پیچیدگیاں بھی پیدا کر رہی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پختون اکثر عالمی فورمز پر مقامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن بسا اوقات ان کا بیانیہ پاکستان کے زمینی حقائق اور پیچیدہ سیاسی حرکیات سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ وہاں سے کی جانے والی سخت گیر یا جذباتی سیاست مقامی قیادت کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، جس سے ریاست اور قوم پرست قوتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا ہے۔ قیادت کو چاہیے کہ ڈائسپورا کی اس توانائی کو محض نعروں کے بجائے معاشی سرمایہ کاری، تعلیمی روابط اور عالمی لابنگ کے لیے استعمال کرے۔

پاکستان کی وفاقی سیاست کی تاریخ میں پختون قوم پرست جماعتوں کا کردار ایک تضاد کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف یہ جماعتیں پارلیمانی نظام کا حصہ بن کر اقتدار میں شریک ہوتی ہیں یا شریک ہونے کہ خواہش رکھتی ہیں، جبکہ دوسری طرف ان کے بیانیے میں ریاست کے بارے میں شدید عدم اعتماد جھلکتا ہے۔ یہ فکری تضاد نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل میں بھی ابہام پیدا کرتا ہے۔ اس تضاد کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ احتجاجی سیاست کی جگہ تعمیری اور جمہوری ادارہ جاتی سیاست کو فروغ دیا جائے۔ وفاق کے اندر رہتے ہوئے حقوق کی جدوجہد کرنا کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن ہے۔ جب قوم پرست جماعتیں مل کر آئین اور وفاقی ڈھانچے کی مضبوطی کی بات کریں گی، تو ان کے مطالبات کا اخلاقی و سیاسی وزن بڑھ جائے گا۔

آج کا پختون نوجوان انٹرنیٹ کے ذریعے عالمی دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ وہ اپنی ثقافت پر فخر تو کرتا ہے لیکن وہ ترقی کی عالمی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ اگر قوم پرستی صرف ماضی کی شکایتی داستانوں تک محدود رہی تو یہ نوجوانوں کے لیے اپنی کشش کھو دے گی۔ پختون نیشنلزم کو اب معاشی قوم پرستی (Economic Nationalism) کی شکل اختیار کرنی ہوگی، جس کا مطلب نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ شناخت کی سیاست کو ترقی کا زینہ بننا چاہیے، نہ کہ ایک ایسی دیوار جو ہمیں دنیا سے الگ کر دے۔ پختون نیشنلزم کے مستقبل کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی تاریخی روایات اور جدید جمہوری اصولوں کے درمیان کتنا کامیاب توازن قائم کرتا ہے۔ اگر یہ۔ پختون قوم پرست سیاست خود کو ایک مربوط ترقیاتی وژن میں ڈھال لیتی ہے، تو یہ نہ صرف پختون علاقوں کی تقدیر بدل دے گی بلکہ پاکستان کی وفاقی جمہوریت کے لیے بھی ایک مضبوط ستون ثابت ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پختون نیشنلزم اپنی شناخت، جمہوریت اور معاشی ترقی کو ایک نئے اور تعمیری سیاسی قالب میں ڈھال کر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Saleem Khan
Saleem Khan
2 months ago

خیبرپختونخوا ہو یا دوسرا صوبہ ہو،قوم پرست قوم کی نہیں اپنے مفادات کے لیے کام کرتی ہے ،قوم پرست سارے جاگیر دار ہیں اور انگریز کے بنائے ہوئے جاگیردار ٹولہ کھبی بھی غریب عوام کی بھلائی نہیں کرتا ،یہ نسل درنسل موریسی خاندانی سیاست اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے ،پنجاب کا مراعات یافتہ طبقہ بھی جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگا رہا ہے ،جو غریب پنجابی کے ساتھ سو فیصد دھوکہ ہے،قوم پرستی ایک فریب ہے

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW