میرے مطابق

بیگم کی بہادری کا سائنسی راز

usman ashiq

جام صاحب ایک شام کسی کام کے سلسلے میں بغیر بتائے رات بھر گھر نہ آ سکے۔ صبح جب واپس محلے میں داخل ہوئے تو دور سے ہی دیکھا کہ ان کے گھر کے باہر عجیب سا رش لگا ہوا ہے۔ پورا محلہ جمع تھا۔ کوئی دروازے کے پاس کھڑا تھا، کوئی دیوار سے لگا سرگوشیاں کر رہا تھا، اور کچھ لوگ ایسے چہرے بنائے ہوئے تھے جیسے ابھی ابھی کسی تاریخی جنگ سے واپس آئے ہوں۔

جام صاحب پہلے تو گھبرائے۔ دل میں خیال آیا ”یا اللہ! کہیں بجلی کا بل تو نہیں آ گیا؟ پھر خیال آیا یا شاید بیگم نے ہماری پرانی چیٹیں دیکھ لی ہوں“ ۔

وہ کانپتے دل کے ساتھ آگے بڑھے اور پوچھا ”خیر تو ہے؟ یہ کیا معاملہ ہے؟“
اتنے میں ایک آدمی جذباتی انداز میں بولا ”جام صاحب! آپ بڑی بہادر خاتون کے شوہر ہیں“ ۔
دوسرا بولا: ”بھائی، بھابھی نے تو آج شیرنی ہونے کا ثبوت دے دیا“ ۔
تیسرا بولا ”ہم نے تو آج تک ایسی دلیر عورت نہیں دیکھی“ ۔

جام صاحب حیران آخر ہوا کیا ہے؟ پتہ چلا کہ رات گھر میں چور گھس آیا تھا۔ اور جام صاحب کی بیگم نے اسے ایسا پکڑا، ایسا پکڑا، کہ بیچارہ چور بعد میں پولیس سے زیادہ رحم کی اپیل ان سے کر رہا تھا۔

محلے والوں نے بتایا: ”بھابھی نے پہلے اسے بیلن سے مارا، پھر جھاڑو سے، پھر ایک موقع پر تو چور خود کہہ رہا تھا: ’باجی! پولیس بلا لیں، یہ ذاتی دشمنی کیوں نکال رہی ہیں“ ۔

پھر پولیس آئی، چور کو لے گئی، اور جاتے جاتے ایک سپاہی تک کہہ گیا ”بہن جی! اگر کبھی پولیس میں آنے کا ارادہ ہو تو رابطہ ضرور کیجیے گا، ہمیں ایسے بہادر لوگوں کی اشد ضرورت ہے“ ۔

پورا دن جام صاحب کی بیگم کو ”بہادر خاتون“ ، ”شیرنی“ ، ”آئرن لیڈی“ اور نہ جانے کیا کیا خطابات ملتے رہے۔ جام صاحب خاموشی سے سب سنتے رہے۔ ان کے چہرے پر حیرت بھی تھی اور اندر کہیں ہلکا سا خوف بھی۔

رات ہوئی، سب سو گئے جام صاحب نے آہستہ سے پوچھا ”ویسے ایک بات بتائیں، آپ کے اندر اتنی بہادری آئی کہاں سے؟“

بیگم نے نہایت سکون سے جواب دیا: ”اصل میں رات کو بجلی گئی ہوئی تھی، اندھیرا تھا اور میں جاگ رہی تھی آپ کے انتظار میں“ ۔ جام صاحب غور سے سننے لگے۔ وہ بولیں ”جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا، مجھے لگا آپ ہیں“ ۔

جام صاحب چونکے ”پھر“ ؟

بیگم بولیں ”پھر جیسے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں، میں نے پکڑ کر ہمیشہ کی طرح مارنا شروع کر دیا“ ۔ جام صاحب کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ بیگم نے بات جاری رکھی ”وہ بیچارہ چیختا رہا، حالانکہ آپ تو اتنا شور نہیں مچاتے مگر میں یہی سمجھتی رہی کہ آج آپ بہانے کچھ زیادہ ہی کر رہے ہیں۔ پھر جب محلہ اکٹھا ہوا، لائٹ آئی، تو پتا چلا وہ آپ نہیں، چور تھا“ ۔

کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر جام صاحب نے گہری سانس لی چھت کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولے ”میں بھی سوچوں، ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ آپ اچانک اتنی بہادر ہو جائیں۔ اصل میں بیچارے چور کی قسمت خراب تھی، وہ غلطی سے ہماری جگہ روزانہ والے ’ٹریننگ سیشن‘ کا شکار ہو گیا“ ۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW