گلوبل ویلیج میں مسالک کا مستقبل

جب ہم دنیا میں مختلف آسمانی مذاہب کی بات کرتے ہیں تو عیسائیت، یہودیت اور اسلام پر نظر رک جاتی ہے۔ مگر جس طرح عیسائیت میں تین بڑے فرقے رومن کھیتولک، آرتھو ڈوکس اور پروٹسٹنٹ ہیں، یہودیت میں بھی تین بڑے فرقے آرتھوڈوکس یہودیت، کنزرویٹیو یہودیت اور ریفارمسٹ یہودیت ہیں بالکل اسی طرح اسلام میں بھی دو بڑے فرقے اہل سنت اور اہل تشیع ہیں۔ پھر اہل سنت میں چار فقہی مسالک حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی ہیں جبکہ اہل تشیع میں اثنا عشری، اسماعیلی وغیرہ متعدد گروہ ہیں۔ اگرچہ اہل سنت کے ان مسالک میں مزید فرقے بھی وجود رکھتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں لوگ سختی سے اپنے اپنے فرقے کے پیروکار ہیں مثلاً اہل حدیث، بریلوی، دیو بندی وغیرہ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ درجہ بالا تمام مسالک اور فرقوں میں ہر فرقے کے علماٗ کسی نہ کسی طرح اپنے مسلک یا فرقے کو سب سے افضل اور راہ راست پر سمجھتے ہیں اور ان کا سارا زور دوسرے مذاہب سے تقابل کی بجائے دوسرے مسالک سے تقابل پر صرف ہوتا ہے۔ ان مسالک کے زیادہ تر پیرو کار علماٗ کا زیادہ زور قرآن و حدیث کی بجائے اپنے سابقین کے اقوال پر ہوتا ہے اور وہ صرف ان احادیث کو پیش کرتے ہیں جو ان کی فقہ کے مطابق درست ہو وہ اپنے مقتدیوں اور عوام کو دوسرے مسلک یا فرقہ کے علماٗ کے پاس جانے یا ان کو سننے تک کی اجازت نہیں دیتے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک نے اسلام کو اپنے فرقے تک محدود کر دیا ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں ان مسالک کی ابتدا بھی آقائے نامدار ﷺ کی رحلت سے تقریباً چار سو سال بعد شروع ہوئی۔ مگر اب لگتا ہے کہ وہ زمانہ گزر چکا ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ آج سے صرف 15 سال پہلے یعنی دو ہزار دس تک اسلامی دنیا میں سوشل میڈیا کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا۔ مسلمانوں کی اکثریت اپنے اپنے باپ دادا کے پہنچائے ہوئے دین اور مسلک پر سختی سے کاربند تھے۔ مناظروں، مقابلوں اور فتووں کا دور دورہ تھا۔ مگر پھر دنیا میں ٹیکنالوجی کا انقلاب آیا اور جامعہ ازہر، مدینہ و مکہ، دیوبند، بریلوی سمیت دنیا کے جانے مانے علماٗ و فضلاٗ اور مذہبی سکالر ہر مرد و زن کی جیب تک پہنچ گئے۔ نوجوانوں نے تعلیم حاصل کی، ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور اے آئی اور گوگل ٹرانسلیٹ نے زبان کی رکاوٹ کو اڑا کر رکھ دیا۔ اب جبکہ بندہ کسی بھی مذہبی مسئلے پر جامعہ ازہر کے شیخ احمد الطیب اور ڈاکٹر نظیر محمد عیاد، مدینہ یونیورسٹی کے شیخ الاسلام ربی المدخالی اور صالح المغامسی دیوبند کے عزیزالرحمن عثمانی اور کفیل الرحمن نشاط عثمانی کے علاوہ، ڈاکٹر اسرار، ڈاکٹر طارق مسعود، جاوید احمد غامدی، اینجینئر محمد علی مرزا، مولانا وحید الدین اور مولانا محمد اسحق سمیت ہزاروں علماٗ کو نہ صرف دیکھ اور سن سکتے ہیں بلکہ کسی بھی اختلافی مسئلے پر سب کی آرا سن کر خود فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ کس نے قرآن و حدیث کے مستند حوالے دیے اور کس کی رائے زیادہ صائب ہے۔ تو وہ اپنے گلی محلے کی ناظرہ سمیت دو چار فقہی کتابیں پڑھنے والے مولوی کو کیوں سنیں؟ جس کو مدرسے میں دنیاوی علوم سائنس اور ٹیکنالوجی سے بے خبر رکھ کر باقی فرقوں کے علماٗ کو سننے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ جو خود وسعت نظر، اسلام کی حقانیت، اعلی و ارفع مقاصد سے محروم ہے۔ ملا کی دوڑ مسجد تک کے مصداق وہ صرف ظاہری شکل و صورت اور لباس کو اسلام سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے تک کے روادار نہیں۔ مگر منبر و محراب پر قابض ہر ایک خود کو وارث نبی کہلانے کے دعویدار ہیں۔
جدید دورمیں نوجوانوں اور مسالک پر سختی سے کاربند مولوی صاحبان کے درمیان دوری پیدا ہو گئی ہے۔ اور یہ نوشتہ دیوار ہے کہ اکیسویں صدی کے تعلیم یافتہ نوجوان فرقہ پرست مولویوں کے مذہب کی خودساختہ تشریحات ماننے اور اپنانے کو تیار نہیں۔ ٹیکنالوجی کی بدولت نوجوانوں کی اپنی علمی پرواز گلی محلے کے مولوی صاحب سے بہت بلند ہے۔ اس لیے میری نظر میں وقت آ گیا ہے کہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی کو اسلام کی حقانیت اور اعلی و ارفع مقاصد کو سمجھنے اور اپنانے کے لئے استعمال کریں۔ وہ اسلام کے بنیادی فرائض، حقوق اللہ و حقوق العباد اور اخلاقیات کو اپنا کر بدعات اور نفرتوں سے کنارہ کشی کریں۔ فقہی اور فروعی اختلافات کو نظر انداز کر کے قرآن و حدیث کی پیروی کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلام کے دشمن بھی اسی سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنے مذموم مقاصد اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پر ان علماٗ کو فالو کریں جو دوسروں سے دوری و نفرت کی بجائے دوسروں کو سننے اور دلیل و ثبوت کے ساتھ اپنی بات سمجھانے کا طریقہ اپنائے ہوئے ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ لاکھوں نوجوان پہلے ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس لیے زیادہ امکان یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلک کی سختی سے پیروی قصہ پارینہ بن جائے گی۔ اور نئی نسل مسلکوں سے آزاد ہو کر اسلام کو فالو کرنے کی کوشش کرے گی۔ اگرچہ اس سے کئی نیم ملاؤں کی دکانداریاں بند ہونے کا خطرہ ہے مگر میرے خیال میں یہ اسلام کی آفاقیت اور حقانیت کے لئے فائدہ مند ہو گا۔

