فیسنگ ہسٹری ود فیس بک کے مصنف امجد محمود چشتی، ماہر تعلیم اور ایک سوچنے والا انسان
تعلیم کا لفظ اپنی بنت کے اعتبار سے تو بہت چھوٹا سا ہے اور اتفاق سے جگہ بھی بہت کم گھیرتا ہے لیکن اہم اس قدر ہے کہ اس کے بغیر جاننے بوجھنے کے عمل کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا اور بنا تعلیم تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسان ابھی پیدا ہی نہیں ہوا اور اس کی سوچنے سمجھنے والی صلاحیتیں ابھی ایک ایسی تاریک غار میں مقید و مقفل ہیں کہ جہاں ابھی سوچ کا گزر تک نہیں ہوا، انسان کی اہمیت بھی شاید اسی وجہ سے ہے کہ وہ سوچنے اور سمجھنے کا ملکہ رکھتا ہے، شعور تو خیر بالکل ہی الگ تھلگ سی چیز ہوتی ہے اور یہ جوہر نایاب بنا ریاضت تھوڑی ہاتھ آتا ہے اور اس قسم کی ذہنی مشقت ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی، امجد چشتی کا تعلیم سے ایک گہرا رشتہ استوار ہو چکا ہے، آپ ایک طویل عرصہ سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور نجانے ان کے کتنے شاگرد طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔
امجد محمود چشتی کا تعلق بھی انہی معدودے چند قبیل سے ہے جنہیں سوچنے کی لت لگ جاتی ہے، اسی علت کی وجہ سے خاصی کتابیں رقم کر چکے ہیں، زبان پر گرفت اس قدر مضبوط ہے کہ یوں لگتا ہے جملہ اور لہجہ نے ایک دوسرے کا دامن بڑی خوبصورتی سے تھام رکھا ہے، جب گفتگو کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ لفظ ان پر مہربان ہیں اور جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ ان کی ”رائیٹنگ میوز“ ان پر اس قدر مہربان ہے کہ ان پر آئیڈیاز کی برسات کرتی رہتی ہے اور یہ کیفیت اسی وقت ممکن ہو پاتی ہے جب ادبی ریاضت میں پختگی، خیالات اور تحریر کے درمیان مطابقت پذیری تشکیل پا چکی ہو۔
میں اس تعلق و قربت کو اردو کی مقبول ترین ویب سائٹ ”ہم سب“ کا فیضان کہتا ہوں کہ جس کی بدولت ہی ہم ایک دوسرے سے آشنا ہوئے، امجد چشتی تو لکھنے لکھانے اور پڑھنے پڑھانے کا ایک معتبر حوالہ ہیں لیکن ان کی کرم فرمائی کہ وہ میرے تقریباً سبھی مضامین پر کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں، ایک مستند معلم ہیں اور چک نمبر 123 میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
امجد محمود چشتی خیالات کی روانی و ترسیل کی اس معراج کو پا چکے کہ اب کچھ بھی تحریر کرنا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا، ان کی بڑی مہربانی کہ وہ مجھ ایسے طالب علم پر بڑے مہربان ہیں، ان کی کرم فرمائی کہ وہ گزشتہ روز ہمارے تعلیمی ادارہ ”دی ویژن“ تشریف لائے اور مجھے بڑی محبت اور اپنائیت سے اپنی نئی تخلیق ”فیسنگ ہسٹری ود فیس بک“ پیش کی، کتاب کے عنوانات پر ایک سیر حاصل گفتگو کی، سب سے بڑھ کر انہوں نے ایک معلم کی حیثیت سے اپنے تعلیمی تجربات اور زندگی کے نشیب و فراز ہمارے ساتھ سانجھے کیے، جب سے ان کی یہ تخلیق میرے ہاتھ لگی ہے یقین مانیں میں اس کتاب کے سحر میں ڈوبا ہوا ہوں، بالکل مختلف انداز کی ایک منفرد سی کاوش ہے، جو قاری کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔

