میرے مطابق

پاکستانی مسیحیوں اور شیڈول کاسٹ کی کاغذی نسل کشی

azam mairaj

پاکستان میں مسلمانوں کے علاوہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی تعداد 87,711,380 ہے، جن میں 9 سے 10 مذہبی گروہ شامل ہیں۔ ان میں سے 99 فیصد دھرتی کے بچے ہیں، جن کے اجداد ہزاروں سال سے یہاں بستے آئے ہیں۔ تین بڑے مذہبی گروہ ہیں : مسیحی، شیڈول کاسٹ ہندو (پسے ہوئے طبقات)، اور ہندو جاتی (اونچی ذاتوں والے ہندوؤں کے متوسط اور امیر طبقات) ۔ باقی مذہبی گروہوں کی آبادی بہت کم ہے۔

پاکستان میں سات مردم شماریوں میں مسیحی مجموعی اقلیتی آبادی کا اوسط 46 فیصد رہا، لیکن 2017 کی مردم شماری میں اچانک یہ شرح کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی۔ ایک زاویے سے دیکھا جائے تو پہلی پانچ مردم شماریوں میں مسیحی مجموعی ہندو آبادی (شیڈول کاسٹ + جاتی) سے اوسطاً 20,982 زیادہ تھے، جبکہ تین بار اوسطاً 162,140 کم تھے۔ لیکن 2017 میں اچانک یہ کمی 1,802,822 تک پہنچ گئی، اور 2023 میں مسیحی آبادی مجموعی ہندو آبادی سے 1,916,428 کم دکھائی گئی۔

ان دونوں زاویوں سے 2023 کی مردم شماری کے سرکاری اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ایک زاویے سے مسیحیوں کی 734,047 کی نسل کشی ہوئی، جبکہ دوسرے زاویے کے مطابق 1,754,288 افراد کی کاغذی نسل کشی ہو چکی ہے۔ اس کا بینفشری کون ہے؟ یہ بھی سرکاری اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ 2018 سے تحریک شناخت اس معاملے پر آواز اٹھا رہی ہے، لیکن نہ ویسٹرن یورپ، نہ یورپی یونین ممالک اور نہ ہی نارتھ امریکن ممالک کی فنڈنگ سے چلنے والی پاکستانی مسیحیوں کی این جی اوز نے کبھی اس مسئلے پر بات کی۔ نہ ہی 2017 سے آج تک مسیحی شناخت پر سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے مسیحی سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایز نے کوئی آواز اٹھائی ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب 2017 میں یہ غلطی یا واردات ہوئی، اُس وقت وزارتِ شماریات کا وزیر بھی ایک مسیحی تھا۔

یاد رہے کہ ان سالوں کے دوران نہ پاکستان میں کوئی ایسی وبائی بیماری پھیلی تھی جو صرف مسیحیوں کو نشانہ بناتی ہو، نہ ہی مسیحیوں نے کوئی اجتماعی ہجرت کی، اور نہ ہی کوئی ایسی تحقیق سامنے آئی کہ ان سالوں میں مسیحیوں نے آبادی کی روک تھام کے پروگراموں پر غیر معمولی شدت سے عمل کیا ہو۔

ان حقائق کی روشنی میں حکومتِ پاکستان سے پرزور گزارش ہے کہ اس کاغذی غلطی کو فوری درست کیا جائے۔ اور مسیحی نمائندوں سے بھی التجا ہے کہ اس پر آواز اٹھائیں۔ این جی اوز والے بھی اس مسئلے کو اجاگر کریں۔

پاکستان کے اقلیتی شہریوں، خصوصاً مسیحیوں کو چاہیے کہ اس مسئلے کو سمجھ کر نہ صرف اس پر آواز بلند کریں بلکہ موجودہ سلیکشن سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے بھی آواز اٹھائیں۔ کیونکہ یہ مسئلہ بھی اسی بڑے مسئلے کی ذیلی پیداوار ہے۔ اگر مسیحی نمائندے اپنے لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے تو آج سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس معاملے پر شور مچا ہوتا۔

تحریک شناخت نے اقلیتی انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک مفصل لائحہ عمل تیار کر رکھا ہے۔

نیچے دیے گئے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 1981 کی مردم شماری میں یہی واردات شیڈول کاسٹ ہندوؤں کے ساتھ کی گئی تھی، اور آج بھی بینفشریز وہی ہیں جو 1981 میں شیڈول کاسٹ کی کاغذی نسل کشی کے تھے۔ دنیا بھر میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی کمیونٹی نے اپنی مالی استعداد کو استعمال کر کے اپنی عددی طاقت کو اس طرح بڑھانے کا کارنامہ سرانجام دیا ہو۔

اگر یہ نہ ہوتا تو شیڈول کاسٹ جو مجموعی اقلیتی آبادی کا اوسط چونتیس فیصد تھے وہ آج کم ازکم 2983269 ہوتے اور ہندو جاتی جو مجموعی اقلیتی آبادی کا اوسط 16 فیصد ہوتے تھے وہ آج 1403420 ہوتے۔ اس حساب سے مجموعی ہندو آبادی جو 2023 کی مردم شماری میں 5217216 ہے وہ 4385689 ہوتی۔

حکومتِ پاکستان کے لیے ایک مشورہ ہے : اگر یہ غلطی نہیں ہے اور آپ نے کسی خاص مذہبی گروہ کو کسی بھی وجہ سے پاکستان میں زیادہ دکھانا ہے تو مجموعی اقلیتی آبادی کو بڑھا کر انہیں زیادہ دکھا دیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ کبھی پسے ہوئے شیڈول کاسٹ کو کم کر کے دکھائیں، اور کبھی جمہوری غلامی کے نظام یا محرومیوں کے سوداگروں یا چاندی کے پجاریوں کی بدولت ذہنی پسماندگی میں ٹھہرے رہ جانے والے مسیحیوں کو۔

بڑھتے ہوئے آبادی کے تناسب، کبھی سترہ، کبھی اکیس سال بعد ہونے والی مردم شماریوں اور دیگر اندازوں پر دعوے بہت کیے جا سکتے ہیں، لیکن سرکاری اعداد و شمار کی پڑتال بتا رہی ہے، کہ مسیحی اصل میں یا تو پچاس لاکھ پچپن ہزار ستر ہیں، یا پھر چالیس لاکھ چونتیس ہزار اور سینتالیس، لیکن انہیں دکھایا گیا تینتیس لاکھ سات سو اٹھاسی ہے۔

لگتا یوں ہے کہ جب تک اقلیتوں کے لئے شفاف اور منصفانہ انتخابی نظام وضع نہیں ہوتا اسی طرح کبھی شیڈول کاسٹ کی اور کبھی مسیحوں کی کاغذی نسل کشی ہوتی رہے گی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Arif
Arif
6 months ago

Dear Writer and Editor
Pls ensure double recheck figures while uploading a sensitive topic
I start reading and shell shocked to read number of non Muslims in Pakistan as "87,711,380” means this is 8 Crore 77 Lakh
This is like 33% non Muslims in Pakistan
Fact is like 87 Lakh non Muslims
With such blunder, I stop reading
چاول کا ایک دانہ دیگ کے معیار کی گواہی دیتا ہے

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW