بلاگ

دور فتن کے متعلق شینا مقولے، ملک کے موجودہ سیاسی و سماجی حالات اور خواجہ حافظ کی غزل

dr naik alam rashid

جب سے تہذیب و تمدن کا آغاز ہوا اور حضرت انسان نے سیاسی و سماجی اور معاشی و تمدنی تنظیمات کی تشکیل کا آغاز کیا تو اسے محسوس ہوا کہ تنظیمات اور ادارہ جات کے استحکام اور من حیث المجموع معاشرے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کو ممکن بنانے کے لئے عدل و انصاف اور اہلیت و قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں وہی قومیں عروج حاصل کرتی ہیں جہاں اہلیت و قابلیت کو محور و مرکز قرار دیا جاتا ہے اور ہر فرد بشر کو اس کی صلاحیت کے مطابق مقام ملتا ہے۔ قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید ترقی یافتہ تہذیبوں تک اور عالمی عقلی و سماجی روایات سے لے کر مقامی اور غیر معروف کم علم روایات تک ہر جگہ اہلیت و قابلیت اور میرٹ کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ اہلیت و قابلیت اور انسان کی ذاتی صلاحیت کو نظر انداز کیے جانے والے رویے کو معاشرتی زوال کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

چنانچہ، شینا، جو کہ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی زبان ہے، میں میرٹ کی پامالی کو دور آخر یا دور فتنہ انگیز کی روایت قرار دیا گیا ہے۔ شینا میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ:

” فتینی زمانئے رو لنگی باشے، باشوکیو نہ باشے نہ باشوکیو باشے“ ۔
(Fateeni zamanairo lingi baashai, bashookiyo neh baashai neh bashookiyo baashai)

یعنی بعد کے زمانے میں (زمانۂ آخر یا دور فتن میں ) نا اہل و کم سواد شخص معتبر ٹھہرے گا، جسے بولنے کا حق ہے وہ نہ بولے گا اور جو بولنے کے قابل نہیں وہ بولے گا (یعنی اہلیت کا حامل شخص پس منظر میں چلا جائے گا اور نا اہل شخص منظر عام پر آ کر لوگوں کی قیادت کرے گا) ۔

اس مقولے میں جہاں زمانہ مابعد میں میرٹ کی پامالی کی پیش گوئی کی گئی ہے وہاں اس کے بین السطور میں معاشرتی بگاڑ اور ذہنی و نفسیاتی اضطراب و بے چینی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

آج ہمارا سماج اس مقولے کی صداقت کی گواہی دیتا ہے۔ کیونکہ موجودہ دور میں، خاص طور پر ہمارے ملک میں، سیاست سے لے کر سماجی ڈھانچے تک، میرٹوکریسی کے اصولوں کو جس بے دردی سے پسِ پشت ڈالا گیا ہے، اس نے پورے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ چنانچہ سماج کی اس صورت حال بلکہ اس کی خامیوں کا بالترتیب یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

پہلے ہمارے ملک کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ عام مشاہدے میں آیا ہے کہ سیاست میں زیادہ تر کم پڑھے لکھے اور نیم خواندہ لوگ آتے ہیں۔ پاکستان کی سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں منتخب ممبران کی اکثریت انہی افراد پر مشتمل ہے۔ یہی لوگ ملک کے قانون، معیشت و اقتصادیات، قومی و بین الاقوامی تعلقات اور دینی و ثقافتی معاملات کے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قومی اور ملکی مفاد میں فیصلہ سازی کا حتمی اختیار ان مذکورہ اداروں کو حاصل ہے۔

اسی اہمیت کے پیشِ نظر، یہ ناگزیر ہے کہ ان اداروں کی قیادت قابل، تعلیم یافتہ اور دیانتدار افراد کے سپرد ہو تاکہ ملکی معاملات احسن طریقے سے چلائے جا سکیں اور عوامی فلاح و بہبود کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو۔

علامہ اقبال نے اسی بنیاد پر مذہبی تشریح کا اختیار (اجتہاد) محض روایتی علماء کے طبقے کے بجائے عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو سونپنے کی تجویز دی تھی، اس امید کے ساتھ کہ اس ایوان میں دینی و دنیوی علوم سے آراستہ، تجربہ کار، متقی اور بے داغ کردار کے حامل افراد منتخب ہو کر آئیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے قیامِ پاکستان اور بالخصوص بانیِ پاکستان کی رحلت کے بعد ، اس زریں اصول کو بتدریج پامال کیا گیا۔ دوسری جانب، پڑوسی ملک ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں کے پارلیمانی نظام، جس کا طریقہ کار یہاں زیر بحث نہیں، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں اراکین کی اکثریت (تقریباً 80 سے 90 فیصد) پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کی حامل ہے، جو کسی بھی ریاست کی ترقی میں تعلیم یافتہ قیادت کی اہمیت کا بین ثبوت ہے۔

جبکہ پاکستان کی صورت حال یکسر مختلف ہے۔ یہاں اسمبلیوں سے باہر فوج اور دوسرے سول اداروں میں اعلیٰ عہدوں کے لئے امیدواروں کے انتخاب کے معیاری اصول موجود ہیں اور انہیں سنجیدگی سے رو بہ عمل بھی لایا جاتا ہے۔ بلکہ فوج کے سپاہی سے لے کر پولیس کے کانسٹیبل تک اور حتیٰ کہ کسی ادارے کے چپراسی سے لے کر سیکیورٹی گارڈ تک کے امیدواروں کے لئے میٹرک کی تعلیم لازمی قرار دی جاتی ہے اور ان امیدواروں کو ٹیسٹ اور انٹرویو کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے تب جا کر امیدوار بھرتی کیے جاتے ہیں۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ ایک طرف تو عام سرکاری ملازمت کے لیے تعلیمی قابلیت اور ڈگریاں مانگی جاتی ہیں، مگر دوسری جانب ملک و ملت کے فیصلے کرنے والے ایوانوں سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے تعلیمی سند کی کوئی شرط سرے سے موجود ہی نہیں۔ ماضی قریب میں ایک فوجی ڈکٹیٹر نے مذکورہ اسمبلیوں کا انتخاب لڑنے والے امیدوار کے لئے بی اے کی شرط رکھی تھی لیکن جمہوریت کی علمبردار ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر اس شرط کو ختم کر دیا۔ یہ دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ بلکہ سچ کہا جائے تو یہ ایک طرفہ تماشا ہے۔

جس طرح ملک کے سیاسی اور انتخابی نظام میں خرابیاں موجود ہیں بالکل اسی طرح دیگر شعبوں، بالخصوص دینی تعلیم و تعلم اور تعبیرات کے حوالے سے غیر صحتمند رجحانات اور ناقص طریقہ ہائے کار (منہاجیات) جڑ پکڑ چکے ہیں۔ چنانچہ یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ بعض مذاہب و مسالک میں مذہبی فیصلے وہ لوگ کر رہے ہیں جن کا دین سے گہرا تعلق نہیں، نیز پیچیدہ مذہبی تشریحات ایسے افراد ’بڑے دھڑلے‘ سے کر رہے ہیں جن کی اپنی علمی حیثیت واجبی سی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ عناصر ان جید علماء اور محققین کی آراء کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے جنہوں نے اپنی عمرِ عزیز دینی و دنیوی علوم کے مطالعے اور تحقیق و تفحص میں صرف کر دی ہے۔ ایسے میں مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدگی اختیار کرتے ہیں۔ خاص طور پر آج کل سوشل میڈیا پر مذہبی اور دیگر حساس معاملات پر غیر متعلقہ افراد جس غیر ذمہ دارانہ طریقے سے تحریر و تقریر کے ڈھیر لگا دیتے ہیں اس سے ماسوائے مذہبی و سماجی انتشار اور نظم و ضبط اور قانون کی عملداری متاثر ہونے کے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ نیز اس سے مذہبی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی میں خلل اندازی کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی ذہنی، فکری اور مذہبی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جب مذکورہ بالا حقائق کو پیش نظر رکھا جاتا ہے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اعلیٰ تعلیم، ”اہلیت و قابلیت پسندی“ (Maritocracy) اور ”تخصص“ (Specialization) کی اہمیت کو تسلیم کیے بغیر کوئی بھی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ انسانی زندگی کے تمدنی اور سماجی شعبوں کو ہمیشہ اہل، باصلاحیت اور متعلقہ فن کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کم پڑھے لکھے اور غیر متعلقہ افراد کسی بھی شعبے میں اتھارٹی بن بیٹھتے ہیں، تو علمی دیانت داری ختم ہو جاتی ہے اور معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

فارسی کے عظیم شاعر خواجہ حافظ شیرازی ( 1315 ء۔ 1390 ء) ، جنہیں ”لسان الغیب“ کا ٹائٹل بھی ملا ہے، ایسے خراب و خستہ زمانے کو دور فتن یا شورش دور قمر کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان کی ایک غزل کے منتخب اشعار ذیل میں درج کیے جاتے ہیں جن سے عصر حاضر کی صورت حال اور شینا زبان کے مذکورہ مقولے کی توثیق ہوتی ہے۔ حافظ فرماتے ہیں :

ایں چہ شوریست کہ در دو رِ قمر می بینم
ہمہ آفاق پُر از فتنہ و شر می بینم
ہر کسے روزِ بہی می طلبد از ایّام
مشکل ایں اَست کہ ہر روز تبر می بینم
ابلہاں را ہمہ شربت ز گلاب و قند است
قوتِ دانا ہمہ از خون جگر می بینم
اسپ تازی شدہ مجروح بزیر پالاں
طوق زریں ہمہ در گردنِ خر می بینم
دختراں را ہمہ جنگ است و جدل با مادر
پسراں را ہمہ بدخواہ پدر می بینم
ہیچ رحمے نہ برادر بہ برادر دارد
ہیچ شفقت نہ پدر را بہ پسر می بینم
پند حافظؔ بشنو خواجہ برو نیکی کن
زانکہ ایں پند بہ از دُرّ و گُہر می بینم
ترجمہ:
یہ کیسا شور و شر ہے کہ چاند کے دور میں دیکھ رہا ہوں،
ساری کائنات کو فتنہ و فساد میں ڈوبا ہوا دیکھ رہا ہے۔

ہر شخص زمانے سے بہتری اور بھلائی طلب کرتا ہے،
مگر مشکل یہ ہے کہ میں دن بدن، ہر دن کو بد سے بدتر دیکھ رہا ہوں۔

بیوقوفوں اور احمقوں کے لئے نہایت شیریں گلاب و قند کا شربت ہے،
اور عقلمندوں کی خوراک محض خونِ جگر دیکھ رہا ہوں۔

اعلیٰ عربی نسل کا گھوڑا، گدھے پر ڈالنے والے پالان سے زخمی ہو گیا ہے،
اور سونے کا طوقِ زریں تمام گدھوں کی گردن میں دیکھ رہا ہوں۔

بیٹیاں ماں سے لڑائی جھگڑا کر رہی ہیں اور بیٹوں کو بالکل باپ کا بدخواہ دیکھ رہا ہوں۔
بھائی بھائی پر قطعاً رحم نہیں کر رہا، میں باپ کو بیٹے کی شفقت سے خالی دیکھ رہا ہوں۔

اے خواجہ! حافظؔ کی نصیحت سن، جا نیکی کر،
کیونکہ میں اس نصیحت کو قیمت میں جواہرات سے بڑھ کر دیکھ رہا ہوں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW