ماضی اور آج کی عید، بچپن کی یادیں
ماضی اور آج کی عید میں کتنا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ بچپن میں پورا سال عید کے انتظار میں گزرتا تھا، مختلف اقسام اور رنگ برنگے عید کارڈز خریدے، بنائے جاتے اور رشتے داروں اور دوستوں کو عید سے کئی روز پہلے ہی ارسال کر دیتے۔ عرصہ ہو گیا اب عید کارڈز بنانے، خریدنے اور بیچنے کی برسوں پرانی روایت دم توڑ گئی ہے اور اپنے ساتھ ہی عید کی خوشیاں، اشعار اور مبارک بادیں لے گئی ہے۔ عید کارڈز پر شعر لکھے بغیر، عید کارڈز ارسال نہی کیے جاتے تھے۔ جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔
گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
تم سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی
ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں انجیکشن
عید والے دن دیکھنا لڑکیوں کے فیشن
سویاں پکی ہیں
سب نے چکھی ہیں
تم کیوں رو رہے ہو
تمہارے لیے بھی رکھی ہیں
عید آئی ہے زمانے میں
میرا یار گر گیا غسل خانے
تمہاری دید ہی ہماری عید ہے
اب بیٹھے بٹھائے عید ہو جاتی ہے، نہ چاند دیکھتے ہیں نہ خوشی کے شادیانے بجتے ہیں، یار لوگ سال پہلے ہی رمضان المبارک اور عیدالفطر کی تاریخیں بتا دیتے ہیں، ساتھ ہی مبارکیں اور بشارتیں بھی دینا شروع ہو جاتے ہیں۔
زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب عید کا چاند دیکھنے کے لیے سب لوگ بڑے جوش و خروش سے سر شام اپنی اپنی چھتوں پر چڑھ جاتے اور وہ دیکھو وہ دیکھو کی آوازیں آنا شروع ہو جاتیں، چاند نظر آتے ہی ہر کوئی نظر آ گیا، نظر آ گیا کہنا شروع ہو جاتا اور ساتھ ہی لوگ گلے ملتے ہوئے عید مبارک عید مبارک کہنے لگ جاتے۔ سائرن بجا کر اور پٹاخے پھوڑ کر باقاعدہ چاند رات کا اعلان کیا جاتا۔
سب سے زیادہ خوشی بچوں کو ہوتی، کافی دن پہلے کے خریدے ہوئے جوتوں اور کپڑوں کو ایک بار پھر دیکھ کر اور پہن کر دوبارہ ڈبوں میں بند کر دیتے اور صبح عید کا انتظار کرتے کرتے سو جاتے، عید کی نماز پڑھ کر سب سے عیدی وصول کرتے۔ عید پر ملنے والی ساری عیدی صرف ہماری ملکیت نہیں ہوتی تھی بلکہ اس میں سے بھی گنی چنی رقم پکڑا دی جاتی اور کل عیدی ہوتی بھی کتنی تھی یہ ہی کوئی سو یا دو سو روپے۔ عیدی دینے والے بھی بڑے سیانے ہوتے تھے، بچوں کی عیدی والدین کو دے جاتے، تاکہ ان کو پتا چل جائے کہ کتنی عیدی دی ہے۔ آج کل ساری کی ساری عیدی بچوں کی ہوتی ہے اور وہ والدین کو اس اچھی خاصی رقم کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے ہیں۔
والدین کے ہاتھ سے تھوڑی سی عیدی وصول کر کے برگر اور شیزان کی بوتل سے دل بہلاتے۔ چنا چاٹ کھانے کے بعد ایک بندوق اور عینک لے کر سارا دن اس سے کھیلتے رہتے۔ عید کا ہر دن گزرتے ہوئے اداسی ہو جاتی کہ اب پھر برگر بوتل اور نئے کپڑے آئندہ سال عید پر ہی ملیں گے، دل کرتا تھا کہ عید کا دن ایسے ہی ٹھہر جائے اور کبھی نہ گزرے۔
عید الفطر گزرتی تو عید الاضحیٰ کا انتظار شروع ہو جاتا۔ اکثر اس موقعہ پر گھر کا پالا ہوا بکرا یا چھترا عید پر ذبح کرتے۔ سارا سال اس کی خوب دیکھ بھال اور خدمت کرتے۔ کی دن تک بکرے یا چھترے کی جدائی کی وجہ سے اداسی رہتی تھی۔
اب بچوں کا ہر دن عید اور ہر رات شب برات ہوتی ہے، ہر روز نئے کپڑے اور جوتے ملتے ہیں، برگر، پیزا، ہر قسم کا کھانا اور ٹھنڈے مشروبات گھر بیٹھے آ جاتے ہیں۔ نہ کھلونوں کی کمی اور نہ پیسوں کی، نہ عید کے آنے کی خوشی نہ جانے کی اداسی۔ نہ اب عید کارڈز بنتے ہیں اور نہ کسی کو بھیجتے ہیں، بس فون یا برقی پیغام رسانی سے عید مبارک کہہ دی جاتی ہے۔ ماں باپ بچوں کے پیچھے پیچھے دوڑتے پھرتے ہیں کہ یہ کھا لو وہ کھا لو، لیکن انہیں پب جی کمپیوٹر اور موبائل سے فرصت ہی نہیں ملتی۔ انہیں نہ عید کا وہ اشتیاق ہے، نہ وہ خوشی اور نہ وہ اداسی ہے جو ہمیں اپنے بچپن میں ہوتی تھی۔


آپ نے ماضی کے خوب صورت یادوں کا بہترین احاطہ کیا ہے ،بہرحال ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
محمد خالد محمود بھائی تحریر سراہنے کا بہت شکریہ