ماحولیاتی نو آبادیات اور وندانہ شیوا

ماحولیاتی نوآبادیات محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ایک گہری تہذیبی کہانی ہے۔ ایسی کہانی جس میں زمین ایک خاموش کردار ہے، اور طاقتور اقوام اس کے مقدر کے مصنف۔ یہ وہ صورتِ حال ہے جہاں نوآبادیاتی نظام اپنی پرانی شکلیں بدل کر فطرت، وسائل اور فضا پر قبضے کی نئی حکمتِ عملی اختیار کر لیتا ہے۔ اب زمینوں پر براہِ راست جھنڈے نہیں گاڑے جاتے، بلکہ کاربن، منڈی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول قائم کیا جاتا ہے۔ اس تصور کو سمجھنے کے لیے ہمیں روایتی نوآبادیات کی یاد تازہ کرنا پڑتی ہے۔ وہ زمانہ جب طاقتور سلطنتیں کمزور خطوں کے وسائل پر قابض ہو جاتی تھیں۔ آج بھی یہی منطق کارفرما ہے، مگر انداز بدل چکا ہے۔ صنعتی دنیا اپنی ترقی کے لیے جو کاربن فضا میں چھوڑتی ہے، اس کا بوجھ موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں ان خطوں پر گرتا ہے جو اس تباہی کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ یوں ایک غیر مرئی استحصال جنم لیتا ہے۔ آلودگی کہیں پیدا ہوتی ہے، اور اس کے زخم کہیں اور نمودار ہوتے ہیں۔ قدیم استعمار پسندوں نے جب نئے براعظموں کا رخ کیا، تو ان کا مقصد صرف سیاسی غلبہ نہیں تھا، بلکہ وہ فطرت کو فتح کرنے کے جنون میں مبتلا تھے۔ انہوں نے جنگلات کو ”فالتو“ اور بنجر زمین کو ”بے کار“ سمجھا جب تک کہ اسے تجارتی منڈی میں تبدیل نہ کر دیا جائے۔ ادبی دنیا میں اس فکر کے خلاف سب سے توانا آوازیں ان علاقوں سے اٹھیں جنہوں نے براہِ راست اس تباہی کو جھیلا۔ ان آوازوں میں نومی کلائن، جیسن ڈبلیو مور، اچیلے ممبے، راب نکسن، ایڈورڈ سعید، اروندھتی رائے اور وندانہ شیوا کے نام خاص طور پر نمایاں ہیں۔ یہ تمام مفکرین اس بات پر متفق ہیں کہ ماحولیاتی بحران محض سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی نو آبادیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اثرات عالمی شمال میں پیدا ہوتے ہیں اور محسوس عالمی جنوب میں کیے جاتے ہیں، موسمیاتی بگاڑ صنعتی ممالک پیدا کرتے ہیں جبکہ خمیازہ غریب ممالک بھگتتے ہیں اور دنیا میں طاقت کا توازن یکساں نہیں رہتا بلکہ اس کا جھکاؤ امیر کی جانب ہوتا ہے۔
وندانہ شیوا ہمارے عہد کی اُن فکری آوازوں میں سے ہیں جنہوں نے زمین کو محض ایک وسیلہ نہیں بلکہ ایک زندہ متن کے طور پر پڑھنے کی دعوت دی۔ وہ سائنس دان بھی ہیں، مفکر بھی، اور ایک ایسی مزاحمتی روح بھی جو جدید سرمایہ دارانہ نظام کے مقابل فطرت اور انسان کے رشتے کو ازسرِنو مرتب کرنا چاہتی ہے۔ ان کی فکر کا آغاز لیبارٹری سے ہوتا ہے مگر انجام کھیتوں، جنگلوں اور دیہی عورتوں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے طبیعیات کی تعلیم حاصل کی، مگر جلد ہی یہ محسوس کیا کہ سائنسی ترقی اگر انسان اور فطرت کے درمیان توازن کو بگاڑ دے تو وہ ترقی نہیں، ایک لطیف تباہی ہے۔ اسی احساس نے انہیں ماحولیاتی جدوجہد کی طرف مائل کیا، جہاں انہوں نے زرعی کارپوریشنز، جینیاتی بیجوں، اور عالمی منڈی کے استحصالی ڈھانچوں کے خلاف آواز بلند کی۔
وندانہ شیوا کی تحریروں میں ”بیج“ ایک مرکزی استعارہ ہے۔ یہ صرف اگنے والی شے نہیں بلکہ ثقافت، خودمختاری اور زندگی کی تسلسل کی علامت ہے۔ ان کے نزدیک جب بیج پر اجارہ داری قائم کی جاتی ہے تو یہ کسان کے ہاتھ سے صرف روزگار نہیں بلکہ اس کی صدیوں پرانی دانش بھی چھین لی جاتی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے ”نوا دانیا“ ( نوا دانیا سے مراد نیا بیج یا نیا عطیہ ہے ) ایسی تحریک کی بنیاد رکھی، جو بیجوں کے تحفظ اور کسانوں کے حقوق کے لیے ایک عملی مزاحمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر میں سے Seed Colonizationیعنی تخمی نو آبادیات اور ”حیاتیاتی سرقہ“ جیسے تصور ات کو اخذ کیا گیا ہے۔ یہ تحریک انھوں نے 1980 کی دہائی کے اواخر میں شروع کی جس میں انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیج کسی کمپنی کی ملکیت نہیں بلکہ فطرت کا تحفہ ہے اور اس پر پہلا حق کسان کا ہے۔ یہیں سے بات حیاتیاتی سرقے تک جا پہنچی۔ اس حوالے سے ان کی کتابBiopiracy :The Plunderer of Nature and Knowledge بہت اہم ہے جو 1997 میں منظرِ عام پر آئی تھی۔
حیاتیاتی سرقہ (Biopiracy) دراصل اس خاموش لوٹ مار کا نام ہے جس میں طاقتور کارپوریٹ ادارے اور سائنسی مراکز، مقامی اور دیسی برادریوں کے صدیوں پرانے علم جیسے جڑی بوٹیوں کے نسخے، بیجوں کی اقسام، اور قدرتی وسائل کے استعمال کے طریقے کو اپنے نام سے پیٹنٹ کرا لیتے ہیں۔ یوں وہ علم جو کسی گاؤں کی دادی کے حافظے میں محفوظ تھا، یا کسی جنگل کے قبیلے کی اجتماعی دانش کا حصہ تھا، اچانک عالمی منڈی میں ایک ”ایجاد“ بن کر فروخت ہونے لگتا ہے۔ یہ تصور سب سے پہلے کینیڈا کے ”پیٹ مونی“ نے نوے کی دہائی میں متعارف کرایا اور پھر اس پر وندانہ شیوا نے کتاب لکھ کر اضافے کیے۔
ماحولیاتی اور نو آبادیاتی تناظر میں دیکھیں تو حیاتیاتی سرقہ ایک ایسا استعارہ ہے جس میں زمین کی زرخیزی اور انسان کی تخلیقی یادداشت دونوں کو ایک ہی وقت میں نوآبادیاتی گرفت میں لے لیا جاتا ہے۔ یہاں بیج محض بیج نہیں رہتا بلکہ وہ شناخت، روایت اور بقا کی علامت بن جاتا ہے اور جب اسے چرا لیا جاتا ہے تو صرف فصل نہیں، ایک تہذیب بھی بے دخل ہو جاتی ہے۔ اس تصور کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے میں بھارتی مفکرہ وندانہ شیوا کے کردار کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بایوپائریسی کو ”علمی نوآبادیات (Intellectual Colonialism) کی ایک جدید شکل قرار دیا۔ ان کے نزدیک مغربی کارپوریشنز، حیاتیاتی وسائل اور مقامی علم پر اجارہ داری قائم کر کے دراصل ایک نئی قسم کی سامراجیت کو فروغ دیتی ہیں جہاں بندوقوں کی جگہ پیٹنٹ قوانین اور لیبارٹریاں لے لیتی ہیں۔ مثال کے طور پر نیم اور ہلدی جیسے پودوں پر مغربی کمپنیوں کے پیٹنٹس نے اس بحث کو مزید تیز کیا، کیونکہ یہ علم تو برصغیر میں صدیوں سے عام تھا۔ ایسے واقعات بایوپائریسی کی واضح مثالیں ہیں، جہاں“ ایجاد ”کا دعویٰ دراصل“ قبضہ ”ثابت ہوتا ہے۔ مختصراً، بایوپائریسی صرف وسائل کی چوری نہیں بلکہ یادداشت، روایت اور ثقافتی خودمختاری پر حملہ ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں فطرت کی زبان کو منڈی کی لغت میں ترجمہ کر کے اس کی روح کو مسخ کر دیا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے تخمی نو آبادیات کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا ہے۔ سیڈ کولونائزیشن (Seed Colonization) دراصل اس عمل کا نام ہے جس میں بیج جو صدیوں سے کسان کی ملکیت، روایت اور ثقافتی تسلسل کا نشان رہا ہے، کارپوریٹ طاقتوں کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔ اب بیج زمین کی گود سے نہیں، بلکہ لیبارٹریوں کی ملکیت سے جنم لیتا ہے ؛ اس پر کسان کا نہیں، کمپنی کا حق ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس میں کسان کی مٹھی سے بیج پھسل کر کسی اجنبی قانون کی تحویل میں چلا جاتا ہے۔ کبھی یہی بیج نسل در نسل منتقل ہوتا تھا، جیسے کوئی داستان، جیسے کوئی لوک گیت، مگر اب اس پر پیٹنٹ کی مہر ثبت ہے۔ کسان جب اسے بوتا ہے تو گویا اپنی ہی زمین پر اجنبی ہو جاتا ہے، ہر فصل کے ساتھ اسے بیج خریدنا پڑتا ہے، اور یوں وہ اپنی خودمختاری سے آہستہ آہستہ محروم ہو جاتا ہے۔
واندانہ شیوا نے واضح کیا کہ بیج پر اجارہ داری دراصل خوراک پر اجارہ داری ہے، اور خوراک پر اجارہ داری انسان کی آزادی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے نزدیک یہ ایک نئی نوآبادیات ہے جہاں زمینیں تو مقامی لوگوں کے پاس رہتی ہیں، مگر ان کی زرخیزی کا اختیار عالمی کارپوریشنز کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ در حقیقت تخمی نو آبادیات اس عہد کی کہانی ہے جہاں بیج محض زرعی اکائی نہیں بلکہ اقتدار کی علامت بن چکا ہے۔ جو بیج پر قابض ہے، وہی مستقبل کی بھوک اور آسودگی کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس طرح بیج، جو کبھی زندگی کا وعدہ تھا، اب ایک معاہدہ بن گیا ہے، ایسا معاہدہ جس میں کسان کی آواز مدھم اور منڈی کی آواز بلند سنائی دیتی ہے۔
عصر حاضر میں وندانہ شیوا کی آواز کسی دریا کی مانند ہے، بظاہر نرم، مگر اپنے بہاؤ میں چٹانوں کو کاٹنے کی قوت رکھتی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ فطرت کے ساتھ تعلق محض استعمال کا نہیں، احترام اور اشتراک کا ہونا چاہیے۔ ان کی جدوجہد دراصل ایک ایسی دنیا کی تلاش ہے جہاں ترقی کا مفہوم زمین کی بقا سے جڑا ہو، نہ کہ اس کی بربادی سے۔ یوں وندانہ شیوا کا کام محض ماحولیاتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی تحریک ہے، جو انسان کو اپنی جڑوں کی طرف لوٹنے اور زمین کے ساتھ ایک نئے، مگر دراصل قدیم رشتے کو بحال کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اسی پس منظر میں وندانہ شیوا کی فکر ایک مزاحمتی بیانیہ پیش کرتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ عمل محض ماحولیاتی بحران نہیں بلکہ ایک نئی نوآبادیات ہے، جہاں بیج، پانی، جنگلات اور حتیٰ کہ مقامی علم بھی عالمی کارپوریشنز کے قبضے میں جا رہا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جس طرح ماضی میں زمینوں پر قبضہ کیا گیا، آج اسی طرح زندگی کے بنیادی ذرائع پر اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے۔
یوں موجودہ دور میں ماحولیاتی نوآبادیات ایک ایسے المیے کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس میں زمین ایک زخمی ماں کی طرح اپنے ہی بچوں کے ہاتھوں اذیت سہتی ہے۔ دریا جو کبھی تہذیبوں کے گیت گاتے تھے، اب صنعتی فضلے کے بوجھ تلے کراہتے ہیں۔ جنگلات، جو کبھی زندگی کے استعارے تھے، اب منڈی کی بھٹی میں ایندھن بن چکے ہیں۔ اور کسان، وہ قدیم کردار جو زمین کے ساتھ ایک روحانی رشتہ رکھتا تھا، اب عالمی معیشت کے شکنجے میں ایک بے بس وجود بن کر رہ گیا ہے۔ معاصر عہد میں ماحولیاتی نوآبادیات ایک ایسا بیانیہ بن کر سامنے آتا ہے جس میں فطرت اور انسان دونوں ایک ہی استحصالی نظام کے اسیر ہیں۔ یہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ترقی کے اس تصور پر نظرِ ثانی کریں جس نے زمین کو محض ایک وسیلہ سمجھ لیا ہے۔ ادبی سطح پر یہ تصور ہمیں ایک نئے شعور کی طرف لے جاتا ہے، ایسا شعور جو زمین کو صرف استعمال کی چیز نہیں بلکہ ایک زندہ، حساس اور باوقار وجود کے طور پر دیکھتا ہے۔ آخرکار، ماحولیاتی نوآبادیات ہمیں ایک بنیادی سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے :کیا انسان واقعی زمین کا مالک ہے، یا محض اس کا ایک عارضی امین؟ اسی سوال میں اس پورے بیانیے کی فکری گہرائی پوشیدہ ہے، اور شاید اسی میں اس کا ممکنہ حل بھی موجود ہے۔
