خاموشی جرم ہے (ناولٹ)
باب 1 :
گرمیوں کی ایک بوجھل رات تھی۔ شہر کی فضا میں گرمی ایسے پھنسی ہوئی تھی جیسے کسی نے وقت کو روک دیا ہو۔ عامر اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ستارے خاموشی سے چمک رہے تھے اور نیچے شہر اپنی تھکی ہوئی سانسوں کے ساتھ زندہ رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔
شہر کی گلیوں میں روشنی تو تھی، مگر امید کم تھی۔ کہیں رکشوں کی آوازیں تھیں، کہیں دور کسی چائے کے کھوکھے پر بیٹھے لوگوں کی مدھم گفتگو۔ مگر اس شور کے پیچھے ایک خاموش جمود تھا۔
عامر نے بچپن سے اس شہر کے دو چہرے دیکھے تھے۔ ایک وہ جہاں بلند دیواروں کے پیچھے خوشحالی تھی، اور دوسرا وہ جہاں کچی بستیوں میں بھوک اور محرومی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ یہ تضاد اس کے دل میں سوال بن کر ابھرتا رہتا تھا۔ اور آج انہی سوالوں نے اسے ستاروں کے نیچے لا بٹھایا تھا۔
باب 2 :
یونیورسٹی عامر کی زندگی کا وہ موڑ ثابت ہوئی جہاں اس کے اندر چھپی بے چینی نے شکل اختیار کی۔ وہاں اس نے پہلی بار ایسے لوگوں کو دیکھا جو کھل کر سوال کرتے تھے۔ وہ طلبہ کی نشستوں میں شامل ہونے لگا، مباحثوں میں حصہ لینے لگا اور آہستہ آہستہ احتجاجی تحریکوں کا حصہ بن گیا۔
جلوس نکلتے، نعرے لگتے، اور عامر کی آواز بھی ان آوازوں میں شامل ہو جاتی۔ اس نے اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ اس کے الفاظ تیز اور سچے تھے۔ مگر سچ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ جلد ہی اس نے محسوس کیا کہ ہر سچ کے مقابلے میں ایک طاقت کھڑی ہوتی ہے جو اسے دبانے کی کوشش کرتی ہے۔
باب 3 :
حکومت اختلاف برداشت کرنے کو تیار نہیں تھی۔ جو سوال کرتا، اس پر الزام لگا دیا جاتا۔ جو لکھتا، اس کی آواز بند کرنے کی کوشش کی جاتی۔ ایک دن عامر کے ایک قریبی دوست کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ ریاست کے خلاف لوگوں کو بھڑکا رہا تھا۔
یہ واقعہ عامر کے لیے ایک جھٹکا تھا۔ بہت سے لوگ پیچھے ہٹنے لگے۔ کچھ نے خاموشی اختیار کر لی۔ شہر میں خوف کی ایک دیوار کھڑی ہو چکی تھی۔ مگر عامر کے دل میں ایک عجیب ضد پیدا ہو گئی تھی۔
وہ خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔
باب 4 :
اسی ضد نے ایک نئی راہ نکالی۔ عامر نے چند دوستوں کے ساتھ مل کر خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ کبھی کسی کے گھر، کبھی کسی ویران گودام میں لوگ جمع ہوتے۔ وہ مختلف طبقوں سے تعلق رکھتے تھے طلبہ، مزدور، شاعر اور استاد۔
وہ گھنٹوں بحث کرتے، منصوبے بناتے اور خواب دیکھتے۔ آخرکار انہوں نے اپنی تحریک کو ایک نام دیا:
”اٹھان“
جلد ہی شہر کی دیواروں پر نعرے نمودار ہونے لگے۔ خفیہ پمفلٹ راتوں کو گلیوں میں بکھر جاتے۔ لوگ سرگوشیوں میں اس تحریک کا ذکر کرنے لگے۔
باب 5 :
جب حکومت کو اس تحریک کا احساس ہوا تو اس نے سخت کارروائی شروع کر دی۔ چھاپے پڑنے لگے۔ ایک رات پولیس نے ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کر دیا۔ عامر کسی طرح بچ نکلا، مگر اس کے کئی ساتھی گرفتار ہو گئے۔
تشدد اور اذیت کی خبریں سن کر عامر کے دل میں ایک لمحے کے لیے شک پیدا ہوا۔ کیا یہ جدوجہد واقعی کامیاب ہو سکتی ہے؟
اسی لمحے اسے ایک شاعر کا جملہ یاد آیا: ”انقلاب ایک دن میں نہیں آتا، وہ وقت کے ساتھ جنم لیتا ہے۔“ یہ خیال اس کے لیے نئی طاقت بن گیا۔
باب 6 :
چند ہفتوں بعد تحریک نے خود کو دوبارہ منظم کیا۔ لوگوں کا حوصلہ ٹوٹنے کے بجائے اور بڑھ گیا۔ مظاہرے بڑے ہونے لگے اور شہر کے مختلف حصوں میں مزاحمت کی آواز سنائی دینے لگی۔
عامر کے الفاظ ایک نعرہ بن گئے۔ نظام میں پہلی بار دراڑیں محسوس ہونے لگیں۔
ایک رات عامر دوبارہ اپنی چھت پر بیٹھا تھا۔ آسمان پر ستارے پہلے کی طرح چمک رہے تھے۔ مگر آج اس کے دل میں مایوسی نہیں تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ شہر کے افق پر ایک نئی صبح جنم لے رہی ہے۔
انقلاب ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ مگر امید نے جنم لے لیا تھا۔ اور کبھی کبھی امید ہی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔
باب 7 :
تحریک آہستہ آہستہ شہر کی رگوں میں دوڑنے لگی تھی۔ ابتدا میں یہ صرف چند لوگوں کی محفل تھی، مگر اب گلیوں اور چائے خانوں میں اس کا ذکر ہونے لگا تھا۔
ایک شام عامر اور اس کے ساتھی ایک پرانے گودام میں جمع تھے۔ کمرے میں ہلکی سی بلب کی روشنی تھی۔
علی، جو ایک مزدور یونین سے تعلق رکھتا تھا، بولا ”لوگ باتیں تو کر رہے ہیں، مگر انہیں یقین نہیں کہ کچھ بدل سکتا ہے۔“ عامر نے خاموشی سے سب کی طرف دیکھا۔ ”یقین ہم پیدا کریں گے۔ انقلاب پہلے دلوں میں پیدا ہوتا ہے، سڑکوں پر بعد میں آتا ہے۔“ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
یہ خاموشی دراصل ایک نئے عزم کی ابتدا تھی۔
باب 8 :
عامر جانتا تھا کہ صرف نعرے کافی نہیں ہوتے۔ اس نے دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ اس کے مضامین خفیہ طور پر مختلف اخبارات اور رسالوں تک پہنچنے لگے۔ کہیں اس کا نام چھپ جاتا، کہیں کسی فرضی نام سے شائع ہو جاتا۔
اس کے الفاظ تیز تھے۔ وہ لکھتا تھا: ”ایک شہر جہاں غریب بھوک سے لڑ رہا ہو اور امیر طاقت سے، وہاں خاموشی سب سے بڑا جرم ہوتی ہے۔“ یہ الفاظ نوجوانوں میں مقبول ہونے لگے۔ لیکن حکومت بھی خاموش نہیں بیٹھی تھی۔
خفیہ اداروں کی نظریں اب عامر کی تلاش میں تھیں۔
باب 9 :
ایک رات عامر کو خبر ملی کہ پولیس اس کی تلاش میں اس کے گھر پہنچ چکی ہے۔ وہ فوراً شہر کے دوسرے حصے میں اپنے دوست حارث کے گھر چلا گیا۔
حارث نے دروازہ کھولتے ہی کہا عامر، اب تمہارا یہاں رہنا خطرناک ہے۔ ”
عامر مسکرایا انقلاب کبھی محفوظ جگہوں سے نہیں آتا۔ ”حارث نے گہری سانس لی۔
”مگر زندہ رہنا بھی ضروری ہے۔“ یہ بات عامر کے دل میں کہیں بیٹھ گئی۔
باب 10 :
اٹھان تحریک کے کارکن راتوں کو شہر کی دیواروں پر نعرے لکھنے لگے۔
”انصاف ہمارا حق ہے“
”خاموشی جرم ہے“
صبح جب لوگ کام پر نکلتے تو یہ نعرے ان کی نظروں میں امید جگا دیتے۔
ایک دن عامر نے دیکھا کہ ایک بوڑھا مزدور دیوار پر لکھے نعرے کو دیر تک دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا ”کاش یہ سچ ہو جائے۔“
یہ الفاظ عامر کے دل میں گونجتے رہے۔
باب 11 :
تحریک کی طاقت بڑھنے لگی تھی۔
ایک دن یونیورسٹی میں ہزاروں طلبہ نے احتجاج کیا۔
پولیس نے لاٹھیاں برسائیں، مگر لوگ منتشر ہونے کے بجائے اور مضبوطی سے کھڑے ہو گئے۔ عامر مجمع کے سامنے کھڑا تھا۔
اس نے بلند آواز میں کہا یہ شہر ہمارا ہے۔ ہم اس کے مستقبل کے مالک ہیں۔
ہجوم نے نعرہ لگایا۔
”انقلاب! انقلاب!“
یہ آواز دور تک پھیل گئی۔
باب 12 :
کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد شہر کا ماحول بدلنے لگا تھا۔ لوگ اب ڈر کے بجائے سوال کرنے لگے تھے۔
ایک رات عامر دوبارہ اپنی چھت پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔
ستارے پہلے کی طرح خاموش تھے۔ مگر اس بار عامر کے دل میں سکون تھا۔ اسے معلوم تھا کہ انقلاب صرف حکومتیں بدلنے کا نام نہیں ہوتا۔
انقلاب دراصل لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہے۔
اور وہ روشنی اب شہر میں پھیلنے لگی تھی۔
باب 13 :
تحریک اب صرف چند لوگوں کا خواب نہیں رہی تھی۔ شہر کے مختلف حلقوں میں اس کی گونج سنائی دینے لگی تھی۔ اسی دوران عامر کی ملاقات ایک نوجوان صحافی سارہ سے ہوئی۔
سارہ ایک آزاد خیال اور بے باک صحافی تھی۔ وہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے سے نہیں ڈرتی تھی۔ ایک شام وہ عامر سے ملی اور بولی: ”میں نے تمہارے مضامین پڑھے ہیں۔ لوگ انہیں پڑھ رہے ہیں۔ اور سوچ رہے ہیں۔“
عامر نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ”سوچنا ہی انقلاب کی پہلی سیڑھی ہے۔“
سارہ نے کہا ”اگر تم تیار ہو تو میں اس آواز کو مزید لوگوں تک پہنچا سکتی ہوں۔“ یہ ملاقات تحریک کے لیے ایک نئی سمت ثابت ہونے والی تھی۔
باب 14 :
سارہ نے اپنے اخبار میں ایک مضمون شائع کیا جس میں اس نے شہر میں بڑھتی ہوئی نا انصافی اور نوجوانوں کے غصے کا ذکر کیا۔ مضمون نے ہلچل مچا دی۔
اخبار کے دفتر پر دباؤ بڑھنے لگا حکومتی اہلکاروں نے مدیر کو خبردار کیا۔
چند دن بعد سارہ کو بلا کر کہا گیا: ”اگر تم نے اس قسم کی خبریں شائع کرنا بند نہ کیں تو تمہاری نوکری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔“ سارہ نے جواب دیا: ”سچ لکھنا اگر جرم ہے تو میں یہ جرم کرتی رہوں گی۔“ یہ الفاظ سن کر عامر کو یقین ہو گیا کہ اب وہ اس جدوجہد میں اکیلا نہیں ہے۔
باب 15 :
تحریک کی مقبولیت بڑھتی دیکھ کر حکومت نے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔
خفیہ اداروں نے تحریک میں اپنے لوگ شامل کر دیے۔ ان کا مقصد تھا تحریک کو اندر سے توڑ دینا۔
ایک دن عامر کو خبر ملی کہ ان کے ایک ساتھی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور اس نے کچھ نام بتا دیے ہیں۔ یہ خبر سن کر سب کے چہرے سنجیدہ ہو گئے۔
علی نے دھیمی آواز میں کہا: ”اب ہمیں بہت محتاط رہنا ہو گا۔ دشمن صرف باہر نہیں، اندر بھی ہو سکتا ہے۔“
باب 16 :
ایک رات شہر میں بڑا احتجاج ہوا۔
ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ نعرے گونجنے لگے۔
عامر ہجوم کے درمیان کھڑا تقریر کر رہا تھا۔ ”یہ شہر ہمارا ہے۔ اور اس کا مستقبل بھی ہمارا ہو گا!“
اچانک پولیس نے حملہ کر دیا۔
آنسو گیس، لاٹھیاں اور بھگدڑ۔
عامر کو گرفتار کر لیا گیا لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو غصہ اور بڑھ گیا۔
باب 17 :
جیل کی کوٹھری تنگ اور تاریک تھی۔ عامر خاموشی سے دیوار کے ساتھ بیٹھا تھا۔
پہلی بار اسے تنہائی نے گھیر لیا تھا۔ مگر اسی خاموشی میں اسے باہر کے لوگوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ احتجاج جاری تھا۔
ایک دن جیل کے ایک سپاہی نے آ کر آہستہ سے کہا: ”لوگ تمہارے لیے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔“ عامر کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اسے احساس ہوا کہ جدوجہد رک نہیں سکتی۔
باب 18 :
چند ہفتوں بعد عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو عامر کو رہا کرنا پڑا۔
جب وہ جیل سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ درجنوں لوگ اس کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں۔ سارہ بھی وہاں موجود تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا: ”دیکھا؟ آوازیں قید نہیں کی جا سکتیں۔“
عامر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
شہر اب بھی وہی تھا مگر لوگوں کے چہروں پر ایک نیا اعتماد نظر آ رہا تھا۔
شاید انقلاب کی صبح قریب آ رہی تھی۔

