ادیب الدولہ
افتخار ملت سرمایہ ادب جناب قبلہ ادیب الدولہ صاحب اگرچہ بلا کے مصروف انسان ہیں اور تخلیقی کاموں کے علاوہ مختلف شہروں میں ہونے والی ”وی وی آئی پی“ قسم کی ادبی کانفرنسز میں بھی شرکت فرماتے رہتے ہیں اس وجہ سے اُن کے ساتھ ملاقات کا ہونا بہت ہی مشکل کام ہے۔ میں نے ایک ادنیٰ ادب کے طالب علم کی حیثیت سے کئی بار ملاقات کی کوشش کی مگر میری مراد بر نہیں آئی۔ مگر میں اس دوران موقع ڈھونڈتا رہا اور ایک دن وہ نادر موقع میسر آ گیا جب اُن سے نہ صرف ملاقات ہو گئی بلکہ اُن کے افکارِ عالیہ سے بھی مستفید ہونے کا موقع مل گیا جس کی ساری تفصیل میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں برسبیلِ تذکرہ آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ ملاقات ایک یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے زیرِ اہتمام ”سالانہ طرحی مشاعرے“ میں ہوئی جہاں ادیب الدولہ صاحب سمیت کئی فاضل اور کہنہ مشق شعراء کے طرح طرح کے کلام سننے کو ملے۔ اس ”طرحی مشاعرے“ کا مصرع تھا، ”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں“ ۔ اس مصرع کے ذیل میں ایک ادنی سی سنجیدہ اور ادبی کاوش میں نے بھی کی تھی جو کچھ یوں تھی، ”کسی سے چندہ مانگنا ہو، یا مفت میں کھانا اڑانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں“ ۔
مگر میرا بلند پایہ کلام دیکھ کر منتظمِ اعلیٰ نے فرمایا، ”اگر اس نے کلام پیش کیا تو سب کو پولیس کے سامنے پیش کردوں گا“ ۔ اس کے بعد میں نے کلام کو تہہ تیغ کیا اور آگے حالات پر سوچتا رہا۔
میں کیونکہ گھر کا وہ فرد ہوں جس کو ہر اہم مشورے سے پہلے کہا جاتا ہے، ”کاکا! تو باہر چلا جا ہم نے کوئی سنجیدہ اور اہم بات کرنی ہے“ ، لہذا ایسے میں وقت گزاری کے لیے میرے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے اور میں سونگھ سونگھ کر ایسی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہوں جہاں ”غیر سنجیدہ اور غیر اہم باتیں“ ہو رہی ہوں تاکہ میں وہاں بیٹھ کر وقت گزاری کر سکوں۔ ایسے میں ”طرحی مشاعرے“ سے زیادہ موزوں جگہ بھلا کون سی ہو سکتی ہے، سو گھر سے نکلے رختِ سفر باندھا اور یونیورسٹی پہنچ گئے جہاں دل لگا کر طرحی مشاعرہ سنا اور جی لگا کر طرح طرح کا کھانا کھایا۔
میں مشاعروں کا اتنا دلدادہ اور ادب سے اتنی محبت کرنے والا انسان ہوں کہ ہمیشہ میری کوشش رہی ہے کہ مشاعرے کے اندر سب سے آخر میں شریک ہو کر سب سے پچھلی نشست پر بیٹھوں تاکہ جونہی کھانا کھانے کے لیے دوسرے ہال میں جانا پڑے تو اندر داخل ہونے میں سہولت اور آسانی ہو۔ اس سے انسان بھاگم بھاگ اور بھیڑ میں پھنسنے جیسی مصیبت سے بھی بچ جاتا ہے اور پلیٹ چمچ کے علاوہ رشین سلاد اور بار بی کیو بھی مل جاتا ہے جو عموماً ایک ہی مرتبہ رکھا جاتا ہے اور پھر ختم ہونے پر اُس کا نام و نشاں تک نہیں ملتا۔ مگر بہرحال یہ مشاعرے میں شرکت کا ذیلی فائدہ ہے جو میری نظر میں ہمیشہ سے غیر اہم رہا ہے، جبکہ مشاعرے کا اصل فائدہ تو میرے نزدیک زبان و ادب کی ترویج ہے جس پر میں مشاعرے منعقد کروانے والے اربابِ با اختیار کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ طرحی مشاعرہ بہت کامیاب رہا اور اہلِ ادب نے شعراء کو اُن کے طرحی مصرعوں پر ”طرحی انداز“ میں داد دے کر اُن کا حوصلہ بڑھایا۔ لیکن مہمان خصوصی جناب ادیب الدولہ صاحب کے اس کلام کو حاضرین نے بے حد سراہا جس کا پہلا شعر تھا
برسات کا موسم ہو اور موسلا دھار بارش ہو، کسی کے خرچ پر مفت میں آم اڑانا ہوں، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
اس کے بعد جناب ادیب الدولہ صاحب سے کھانے کی میز پر ملاقات ہوئی جہاں وہ منہ لٹکائے کچھ سوچ میں گم نظر آرہے تھے۔ میں نے اپنے قیاس سے یہی خیال کیا کہ شاید اردو زبان و ادب کی زبوں حالی اور اس کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں تاہم اُن سے مل کر معلوم ہوا کہ دراصل اُن کے دانت میں شدید درد ہے جس کی وجہ سے وہ کچھ کھا بھی نہیں سکتے اور اُس کا اُنہیں سخت صدمہ ہے۔ میں نے بہرحال اُن کے اس دکھ درد میں شریک ہو کر ایک پلیٹ میں بھنے ہوئے بکرے کا گوشت کھاتے ہوئے کچھ اہم علمی سوالات کیے تاکہ آج اُن سے استفادے حاصل کر کے علمی آبیاری کر سکوں۔
میں : سر ویسے کیا اب اردو مشاعروں کی مقبولیت نے شاعروں کو اونچی ہوا میں اڑانا نہیں شروع کر دیا؟
ادیب الدولہ: ہاں بھئی صحیح کہتے ہو مگر اس وقت یہ دانت کا درد اور گوشت کی خوشبو نے سب ہوش اڑا ڈالے ہیں۔
میں : سر کیا آپ نہیں سمجھتے شاعری کے ساتھ نثری اصناف پر بھی پروگرام منعقد ہونے چاہئیں؟
ادیب الدولہ: ہاں ٹھیک کہتے ہو۔ ویسے یہ بتاؤ بکرے کا گوشت بنا ہوا کیسا ہے؟ تکہ مسالہ لگا ہوا ہے یا کڑاہی مسالہ؟
میں : سر اس کی پہچان کیسے ہوتی ہے کہ تکہ مسالہ ہے یا کڑاہی مسالہ؟
ادیب الدولہ: ارے میاں! بہت ہی نالائق ہو۔ لگتا ہے ادبی ذوق تمہارا بالکل ہی پھیکا اور ناشائستہ قسم کا ہے۔ ارے میاں! صاف بات ہے اگر گوشت تکہ مسالے میں بھونا جائے تو دارچینی کا ذائقہ زیادہ آتا ہے جبکہ کڑاہی مسالے میں تیز پات کی چبھتی خوشبو صاف بتا دیتی ہے کہ گوشت کڑاہی مسالے میں بنا ہے۔ اب سمجھے یا تشبیہات کی مدد سے مزید واضح کروں؟
میں : سر کیا بات ہے بہت اعلیٰ۔ مگر یہ بتائیے کہ اب ہماری لائبریریاں پڑھنے والوں سے کیوں خالی ہوتی جا رہی ہیں؟
ادیب الدولہ: خالی ہونے کے بہت سے اسباب ہیں۔ جن پر میں کبھی پھر گفتگو کروں گا۔ ابھی یہ بتاؤ کہ میٹھے میں کیا کیا پکا ہے؟ جاؤ اور اگر بھینس کے دودھ سے تیار شدہ کھیر ملے تو ایک پلیٹ بھر کے لے آؤ۔ سنا ہے دانت کے درد میں بہت مفید ہے۔
میں : سر مگر دودھ بھینس کا ہو یا گائے کا اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
ادیب الدولہ: اچھا بہت خوب۔ گویا اب کل کے لونڈے اساتذہ کو سمجھائیں گے کہ فرق کیا ہے۔ اردو کے دو صیغے پڑھے نہیں اور شروع ہو گئے اساتذہ سے اختلاف کرنے۔ بہت اچھے بھئی۔ جسے یہ بھی نہیں پتا کہ بھینس کے دودھ سے بنی کھیر کی بالائی کی جلد موٹی اور کھردری ہوتی ہے وہ ہمیں آ کر بتا رہا ہے کہ گائے اور بھینس کا دودھ ایک ہوتا ہے۔
میں چونکہ باقی ملک کی طرح اُن کو ہی دورِ حاضر میں اردو ادب کا سب سے بڑا ادیب مانتا ہوں تو ایسے میں کیا مجال کہ اختلافی پہلو کو سامنے رکھ کر آئندہ ہونے والی تمام ادبی تقریبات کے ذائقے سے محروم رہوں۔ اس لیے میں نے اُن کی تحقیق کو حرفِ آخر مانتے ہوئے اُن کی خالص ادبی تحقیق پر بے تحاشا داد دی۔ پھر وہاں سے اُٹھ کر میٹھے کی طرف آیا اور جو بھی میٹھا ملا، جتنا ملا جس قدر ملا اُسے نہایت ادب سے تناول فرما کے پھر میٹھے میٹھے قدم بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔

