گوشہ ادبمیرے مطابق

مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے

امجد اسلام امجد کی یہ نظم بنیادی طور پر انسانی وجود، فطرت اور ماحولیاتی انصاف کے باہمی رشتے کی شاعرانہ تعبیر ہے۔ شاعر یہاں صرف ایک فرد کے جینے کے حق کی بات نہیں کرتا بلکہ دراصل وہ پوری انسانیت کے اس بنیادی حق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو فطرت کے ساتھ اس کے فطری تعلق سے جڑا ہوا ہے۔ اس نظم کا مرکزی استعارہ ”جینے کا حق“ ہے، اور یہی استعارہ نظم کے ماحولیاتی اور اخلاقی فلسفے کو واضح کرتا ہے۔ شاعر کا موقف یہ ہے کہ انسان کا جینے کا حق صرف سیاسی یا سماجی آزادی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک صحت مند ماحول، صاف پانی، پاکیزہ ہوا اور فطرت کی جمالیاتی نعمتیں بھی شامل ہیں۔

نظم کے ابتدائی مصرعے میں شاعر کہتا ہے :
”مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
زمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیں ”

یہاں ”زمین“ محض ایک جغرافیائی سطح نہیں بلکہ وجود کا بنیادی ماحولیاتی استعارہ ہے۔ انسان کا پہلا تعلق زمین سے ہے، وہ اسی زمین سے پیدا ہوتا ہے اور اسی میں لوٹ جاتا ہے۔ شاعر جب زمین پر قدم ٹکنے کی بات کرتا ہے تو دراصل وہ ایک ایسی دنیا کا مطالبہ کر رہا ہے جہاں انسان کو باوقار اور محفوظ زندگی میسر ہو۔ ماحولیاتی تناظر میں یہ مصرع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر زمین ہی آلودہ، تباہ اور غیر محفوظ ہو جائے تو انسان کے جینے کا تصور بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اگلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے :
”اور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیے“

یہاں ”فلک“ کائناتی وسعت اور فطرت کے جمالیاتی پہلو کا استعارہ ہے۔ انسان صرف مادی بقا کے لیے نہیں جیتا بلکہ وہ حسن، سکون اور معنویت کی تلاش بھی کرتا ہے۔ صاف آسمان اور ستاروں بھرا فلک اس فطری جمالیات کی علامت ہے جو جدید صنعتی تہذیب کی آلودگی میں دھندلا رہی ہے۔ آج کے دور میں شہروں کی فضا میں اس قدر دھواں اور آلودگی ہے کہ ستارے تک دکھائی نہیں دیتے۔ اس طرح شاعر کا یہ مطالبہ دراصل ایک ایسے ماحول کا مطالبہ ہے جہاں فطرت اپنی اصل صورت میں موجود ہو۔

نظم کا اگلا حصہ ماحولیاتی انصاف کے تصور کو زیادہ واضح کرتا ہے :
”نعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیں
صاف پانی ہوا بارشیں چاندنی ”

یہاں شاعر فطرت کو خدا کی عطا قرار دیتا ہے۔ اس نقطۂ نظر میں ایک اخلاقی اور روحانی پہلو موجود ہے۔ جب فطرت کو الٰہی نعمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو اس کے استحصال اور تباہی کو ایک اخلاقی جرم سمجھا جاتا ہے۔ صاف پانی، ہوا، بارش اور چاندنی وہ بنیادی عناصر ہیں جن پر انسانی زندگی کا دار و مدار ہے۔ یہ عناصر نہ صرف مادی بقا کے لیے ضروری ہیں بلکہ انسانی تہذیب، شاعری اور ثقافت کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی خیال کو شاعر اگلے مصرعوں میں ایک سماجی اور سیاسی شکل دیتا ہے :
”یہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیں
یہ ہماری تمہاری کسی کی نہیں ”

یہاں نظم ماحولیاتی انصاف کے اس اصول کو بیان کرتی ہے کہ فطرت کسی ایک فرد، قوم یا طبقے کی ملکیت نہیں۔ زمین کے وسائل پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام میں فطرت کو نجی ملکیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے ؛ دریا، جنگلات، معدنیات اور حتیٰ کہ ہوا تک کو منافع کے پیمانے پر ناپا جا رہا ہے۔ شاعر اس رویے کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ فطرت کی نعمتیں سب انسانوں کا مشترکہ حق ہیں۔

یہ تصور جدید ماحولیاتی فکر میں ”کامنز“ کے نظریے سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جس کے مطابق زمین کے بنیادی وسائل اجتماعی ملکیت ہونے چاہئیں۔ شاعر کا یہ موقف ایک اخلاقی اعلان ہے کہ فطرت کی تقسیم یا اس پر قبضہ دراصل انسانی مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔ نظم کا اگلا حصہ انسانی ترقی اور ماحولیاتی توازن کے تعلق کو نمایاں کرتا ہے :

”مجھ کو تعلیم صحت اور امید کی
سات رنگوں بھری اک دھنک چاہیے ”

یہاں ”دھنک“ یعنی قوسِ قزح امید، تنوع اور جمالیات کا استعارہ ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ حقیقی ترقی صرف اقتصادی ترقی نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور امید کے امکانات سے جڑی ہوئی ہے۔ جب فطرت کا توازن برقرار ہوتا ہے تو انسانی معاشرے میں بھی امید اور زندگی کے رنگ پیدا ہوتے ہیں۔

ماحولیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو قوسِ قزح ایک فطری مظہر ہے جو بارش، سورج کی روشنی اور صاف فضا کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے شاعر کا ”دھنک“ کا استعارہ دراصل ایک صحت مند ماحولیاتی نظام کی علامت بھی ہے۔ اگر فضا آلودہ ہو، بارشیں بے ترتیب ہو جائیں اور سورج کی روشنی دھند میں گم ہو جائے تو قوسِ قزح کا ظہور بھی ممکن نہیں رہتا۔ اس طرح شاعر انسانی امید کو براہِ راست فطرت کے توازن سے جوڑ دیتا ہے۔ نظم کے آخری حصے میں شاعر ماحولیاتی بحران کی شدت کو بیان کرتا ہے :

”نہ ہوا صاف ہے نہ فضا صاف ہے
وہ جو آب بقا تھا وہ ناصاف ہے ”

یہاں شاعر صاف لفظوں میں ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو بیان کرتا ہے۔ ہوا اور پانی انسانی زندگی کے بنیادی عناصر ہیں۔ جب یہی عناصر آلودہ ہو جائیں تو زندگی کا تسلسل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ شاعر کا یہ بیان دراصل موجودہ صنعتی تہذیب کی ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ کارخانوں کا دھواں، گاڑیوں کی گیسیں اور کیمیائی فضلہ زمین، پانی اور فضا کو مسلسل آلودہ کر رہے ہیں۔ ”آبِ بقا“ کا استعارہ خاص طور پر اہم ہے۔ پانی کو ہمیشہ زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ اب یہی پانی آلودہ ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے اپنی بقا کے بنیادی سرچشمے کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگلے مصرعوں میں شاعر اس بحران کو ایک وسیع کائناتی تناظر میں دیکھتا ہے :

”زمیں ہو سمندر ہو یا آسماں
اک ذرا سوچیے اب کہ کیا صاف ہے ”

یہاں شاعر فطرت کے تین بڑے عناصر، زمین، سمندر اور آسمان، کا ذکر کرتا ہے۔ یہ تینوں عناصر ماحولیاتی نظام کی بنیاد ہیں۔ شاعر کا سوال دراصل ایک فکری جھٹکا ہے : اگر زمین آلودہ ہے، سمندر آلودہ ہیں اور آسمان بھی دھوئیں سے بھر چکا ہے تو پھر باقی کیا رہ گیا ہے؟ یہ سوال صرف ایک شاعرانہ سوال نہیں بلکہ ایک اخلاقی احتساب بھی ہے۔ شاعر انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی تہذیب کے نتائج پر غور کرے۔ صنعتی ترقی نے بے شک سہولتیں پیدا کی ہیں، مگر اس کے ساتھ فطرت کا توازن بھی بگڑ گیا ہے۔ نظم کا سب سے گہرا اور فکر انگیز مصرع شاید یہ ہے :

”موت سے پر خطر ہے یہ آلودگی“

یہاں شاعر آلودگی کو موت سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیتا ہے۔ موت ایک فطری حقیقت ہے، لیکن آلودگی ایک انسانی پیدا کردہ مسئلہ ہے۔ موت فرد کو ختم کرتی ہے جبکہ آلودگی پوری نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر سکتی ہے۔ اس لیے شاعر کے نزدیک آلودگی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے۔ آخری مصرعوں میں شاعر ایک اخلاقی اپیل کرتا ہے :

”دوستو دل میں تھوڑی کسک چاہیے
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے ”

یہاں ”کسک“ دراصل انسانی ضمیر کی علامت ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اگر انسان کے دل میں فطرت کے لیے درد اور حساسیت پیدا ہو جائے تو شاید وہ اپنے رویوں پر نظر ثانی کرے۔ ماحولیاتی بحران صرف سائنسی یا تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ جب تک انسان کے دل میں فطرت کے لیے محبت اور احترام پیدا نہیں ہو گا، تب تک اس بحران کا حل ممکن نہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو یہ نظم صرف ایک احتجاجی نظم نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔ شاعر فطرت کو انسان کے بنیادی حقوق کا حصہ قرار دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ صاف پانی، پاکیزہ ہوا اور محفوظ زمین ہر انسان کا حق ہیں۔ یہ نظم ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ماحولیاتی مسائل دراصل سماجی انصاف اور انسانی مساوات کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔

مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ اس نظم میں فطرت، انسان اور اخلاقیات کے درمیان ایک گہرا رشتہ قائم کیا گیا ہے۔ شاعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف ایک مادی وسیلہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظام ہے جس کے ساتھ انسان کا وجودی تعلق ہے۔ اگر انسان اس تعلق کو نظر انداز کرے گا تو نہ صرف فطرت بلکہ خود اس کی اپنی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہی اس نظم کا بنیادی پیغام اور اس کا ماحولیاتی فلسفہ ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW