میرے مطابق

خیبر پختونخوا میں بدامنی کا تسلسل اور بڑھتی ہوئی مایوسی

alamgir afridi

خیبر پختونخوا ایک بار پھر خوف، بے یقینی اور اضطراب کے ایسے دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں امید اور مایوسی کے درمیان فاصلہ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ بالخصوص جنوبی اور قبائلی اضلاع کے عوام گزشتہ چند ماہ سے جس ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔ بازاروں میں دھماکے، شاہراہوں پر فائرنگ، چیک پوسٹوں پر حملے اور آئے روز جنازوں کا اٹھنا یہ سب مل کر ایک ایسی فضا تشکیل دے رہے ہیں جس میں عام شہری کی زندگی مسلسل خوف اور بے یقینی کے سائے میں گزر رہی ہے۔

یہ درست ہے کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور مختلف مقامات پر انہیں کامیابیاں بھی حاصل ہو رہی ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، باجوڑ، خیبر اور جنوبی وزیرستان میں حالیہ جھڑپوں کے دوران متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں اور ان کارروائیوں میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ ان کارروائیوں سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سرگرم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر کارروائیاں کامیاب ہیں تو پھر دہشت گردی کے واقعات رک کیوں نہیں رہے؟ آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور اس کے مستقل خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی کب روبہ عمل آئے گی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری آپریشن ”غضب للحق“ کے اعداد و شمار بھی اسی بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ سرکاری دعووں کے مطابق افغان طالبان رجیم کے سینکڑوں اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، درجنوں چیک پوسٹیں تباہ کی گئی ہیں اور افغانستان کے اندر متعدد مقامات پر فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ بظاہر یہ ایک وسیع عسکری مہم کا نقشہ پیش کرتا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان تمام اعداد و شمار کے باوجود خیبر پختونخوا کے اندر دہشت گردی کے واقعات کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا میں بازار کے اندر ہونے والا دھماکہ ہو یا لکی مروت میں افطار سے کچھ دیر قبل ہونے والا آئی ای ڈی دھماکہ یہ سب واقعات صرف اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ انسانی المیوں کی داستانیں ہیں۔ گزشتہ روز وانا کے رستم بازار میں دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید اور درجنوں شہری زخمی ہوئے، جبکہ لکی مروت میں ایک بیٹری کی دکان کے باہر دھماکے نے دو نوجوانوں کی زندگیاں چھین لیں اور کئی خاندانوں کو سوگوار کر دیا۔ ایسے واقعات صرف جانوں کا نقصان نہیں کرتے بلکہ پورے معاشرے میں خوف، بے بسی اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیتے ہیں۔ اسی تسلسل میں شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس حملے میں ایک شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ہر واقعے کے بعد سرکاری سطح پر مذمتی بیانات، رپورٹ طلب کرنے کے اعلانات اور تحقیقات کی یقین دہانیاں سامنے آتی ہیں، مگر زمینی سطح پر عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بدستور موجود رہتا ہے کہ عملی اقدامات کب نظر آئیں گے۔

صوبائی حکومت کی حالیہ رپورٹ بھی صورتحال کی سنگینی کو عیاں کرتی ہے۔ صرف جنوری اور فروری 2026 کے دو مہینوں میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 185 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں فائرنگ، آئی ای ڈی دھماکوں، سرحد پار حملوں، مارٹر گولوں اور راکٹ حملوں کے واقعات شامل ہیں۔ سب سے زیادہ بدامنی شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئی، جبکہ باجوڑ اور خیبر بھی متاثرہ اضلاع کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ ان واقعات میں درجنوں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار صرف سکیورٹی کے مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ایک گہری سیاسی اور انتظامی خامی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبے کی بڑی سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر مشترکہ اور موثر آواز بلند کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) ، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام جیسی جماعتیں زیادہ تر اقتدار کی سیاست اور سیاسی کشمکش میں مصروف دکھائی دیتی ہیں، جبکہ صوبے کے عوام ایک بنیادی سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں : کیا ان کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ترجیح ہے یا نہیں؟

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے حالیہ بیانات میں یہی سوال اٹھایا ہے کہ اگر جنوبی اضلاع میں ریاستی رٹ موجود ہے تو دہشت گرد دن دیہاڑے کیوں دندناتے پھر رہے ہیں؟ اور اگر ریاستی رٹ کمزور ہو چکی ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ سوال دراصل صرف ایک سیاسی رہنما کا نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے لاکھوں عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی بدامنی کو افغانستان کی صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی پالیسی، سرحدی کشیدگی اور علاقائی حالات براہ راست اس صوبے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے عوام بار بار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ افغان پالیسی کے نتائج آخر صرف سرحدی صوبوں کو ہی کیوں بھگتنا پڑتے ہیں؟ اس صورتحال میں جب اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھ کر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں تو خیبر پختونخوا کے دور افتادہ علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو وہ بیانات اکثر زمینی حقیقت سے کٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان علاقوں کے عوام کے لیے دہشت گردی کوئی تجزیاتی موضوع نہیں بلکہ روزمرہ کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

درحقیقت بدامنی کا یہ مسئلہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ بھی نہیں۔ اس کے گہرے سماجی اور معاشی اثرات ہیں۔ جنوبی اور قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں، تعلیمی ادارے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، صحت کی سہولیات ناکافی ہیں اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوان نسل کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی ایک سنجیدہ سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب کسی خطے کے عوام کے احساسات، خدشات اور شکایات کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں مشرقی پاکستان میں بڑھتے ہوئے احساس محرومی نے بالآخر ایک قومی سانحے کی شکل اختیار کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے خدشات کو سنجیدگی سے سننا اور ان کا بروقت حل تلاش کرنا ریاست کی ناگزیر ذمہ داری بن چکا ہے۔

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس مسئلے کو محض عسکری یا انتظامی زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ ایک جامع قومی حکمت عملی مرتب کی جائے جس میں سیاسی قیادت، سول سوسائٹی، اکیڈیمیا اور نوجوانوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے کیونکہ امن صرف بندوق کی طاقت سے قائم نہیں ہوتا بلکہ انصاف، ترقی اور عوامی اعتماد سے جنم لیتا ہے۔ ہمیں ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ اگر بروقت سنجیدہ اور دور اندیش فیصلے نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ قومی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو امن، ترقی اور امید کی وہ فضا میسر آ سکے جس کے وہ ایک طویل عرصے سے نہ صرف منتظر ہیں بلکہ وہ اس کے حق دار بھی ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW