میرے مطابق

قوم کا پختہ عزم غضب للحق

muhammad akhtar anjum

تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں محض مادی وسائل یا معاشی اعداد و شمار سے نہیں لکھی جاتیں، بلکہ ان کے پیچھے وہ ”امید“ اور ”جذبہ“ کارفرما ہوتا ہے جو کسی بھی مشکل گھڑی میں انہیں ٹوٹنے نہیں دیتا۔ آج جب سرحدوں پر کشیدگی کی لہر ہے اور فضاؤں میں بارود کی بو ہے، تو ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ مایوسی کمزور قوموں کا شیوہ ہے اور ہم ایک ایسی قوم ہیں جس کی بنیادیں ہی کلمہ طیبہ اور لازوال قربانیوں پر رکھی گئی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں ”پاکستان“ کی صورت میں جو آزاد وطن عطا کیا ہے، یہ محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی امنگوں کا مرکز اور لاکھوں جانوں کا نذرانہ ہے۔ ہمیں اس نعمت پر ہر لمحہ شکر گزار ہونا چاہیے۔ شکر گزاری کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اس مٹی کی قدر کریں اور ان سازشوں کو پہچانیں جو ہماری جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جب انسان شکر کے جذبے سے لبریز ہوتا ہے، تو اس کے اندر مایوسی کی جگہ عزم و ہمت لے لیتی ہے، اور یہی جذبہ ہمیں ہر طوفان کا سامنا کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس ایسے بہادر محافظ موجود ہیں جو ہماری نیندوں کے پہرے دار ہیں۔ پاک فوج کے جوان محض وردی پوش سپاہی نہیں، بلکہ ایثار اور وفا کی وہ داستانیں ہیں جو خونِ جگر سے لکھی جاتی ہیں۔ چاہے سیاچن کی منجمد کر دینے والی سردی ہو، چترال کی برف پوش چوٹیاں ہوں یا وزیرستان کے سنگلاخ راستے۔ یہ جری سپاہی کبھی اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ ان کے لیے ”مشکل حالات“ صرف ایک لفظ ہے، کیونکہ ان کا اصل مقصد وطن کی حرمت ہے۔

جب ایک فوجی سرحد پر کھڑا ہوتا ہے تو اسے اپنے گھر کی یاد نہیں ستاتی، اسے صرف اپنے ہم وطنوں کا سکون عزیز ہوتا ہے۔ ان کی یہ بے لوث قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ وطن کی حفاظت صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ بلند حوصلے اور ایمان کی طاقت سے کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن بارود اور طاقت سے زیادہ ذہنوں پر حملہ کرتا ہے تاکہ قوم اور اس کے محافظوں کے درمیان دراڑ پیدا کی جا سکے۔

پاکستان نے افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا ہے۔ یہ آپریشن ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا جب ہمارے ملک نے پہلے ہی صبر و برداشت کی انتہا کر دی تھی، اور خارجی حملوں اور جارحیت کی وجہ سے ملک کے امن اور سلامتی پر واضح خطرات موجود تھے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دشمن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کر دے، لیکن مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے محافظوں کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے۔ ہر دشمنانہ قدم کے پیچھے ہمارے اتحاد اور حوصلے کو توڑنے کی کوشش چھپی ہوتی ہے، اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس سازش کو ناکام بنائیں۔

ہمارے سپاہی وطن کی حفاظت کے لیے ایثار اور قربانی کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ چاہے سیاچن کی برف پوش چوٹی ہو، چترال کے پہاڑ ہوں یا وزیرستان کے سنگلاخ راستے، یہ جوان ہر مشکل میں سینہ سپر ہیں۔ ان کی قربانیاں یہ سکھاتی ہیں کہ وطن کی حفاظت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بلند حوصلے، ایمان اور جذبے سے ہوتی ہے۔ یہ جذبہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ کوئی طاقت ایک متحد قوم کو شکست نہیں دے سکتی، جب عوام کا جوش اور فوج کا ہوش ایک صف میں آ جائے۔

اپنے وطن کی قدر کریں اور اتحاد کو مضبوط بنائیں، کیونکہ مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنے محافظوں کا ساتھ دیتی ہے۔ ہمیں اپنے اندر وہ اتحاد پیدا کرنا ہے جو ہمیں ایک مٹھی بنا دے۔ تنقید اور مایوسی پھیلانا آسان ہے، لیکن تعمیر اور حوصلہ دینا مشکل ہے۔ ہمیں وہ راستہ اختیار کرنا ہے جو تعمیرِ وطن کی طرف لے جائے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قربانی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے۔ ہر شہری، چاہے وہ استاد، ڈاکٹر، محنت کش یا طالب علم ہو، اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرے تو یہی مجموعی کوشش قوم کو مضبوط بناتی ہے۔ ایک قوم کے عزم کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ مشکلات میں بھی ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہے اور ہر قدم پر ایمان اور امید کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔

آخر میں، ہمیں اپنے رب کے حضور سر بسجود ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ہمارے سپاہیوں کو ہمت، طاقت اور کامیابی عطا فرمائے۔ ہماری دعائیں ان جوانوں کے لیے ہیں جو محاذِ جنگ پر سینہ سپر ہیں۔ یاد رکھیے! امید، شکر اور حوصلہ ہی ہماری وہ اصل طاقت ہیں جن کی بدولت ہم نے ماضی میں بڑے بڑے طوفانوں کا رخ موڑا ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی سرخرو ہوں گے۔ یہی جذبہ ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے گا۔ پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد!

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
‏اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW