میرے مطابق

مشینوں کے دور میں انسان کی تلاش

Tauseef Ahmad Shahid

مصنوعی ذہانت (AI) کی برق رفتار ترقی نے بیسویں صدی کے بنے بنائے تعلیمی ڈھانچوں اور پیشہ ورانہ ترجیحات کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ماضی کے کامیاب نسخے اب بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ شعبے جو دہائیوں تک انسانی ذہانت کی معراج اور کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے، جیسے انجینئرنگ، ریاضی طب، اکاؤنٹنگ ایک مختلف اور کسی حد تک دفاعی زاویے سے دیکھے جا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہو چکا ہے کہ جب مشینیں منظم اصولوں، ریاضیاتی فارمولوں اور ڈیٹا کے سمندر کو انسانی دماغ سے ہزاروں گنا تیز رفتاری اور درستی سے سنبھال سکتی ہیں، تو پھر انسان کی اپنی جگہ کہاں بچتی ہے؟

مصنوعی ذہانت کی بنیادی ساخت ہی ایسی ہے کہ وہ وسیع معلومات کا پلک جھپکتے تجزیہ کرنے، چھپے ہوئے نمونوں (Patterns) کو پہچاننے اور مستقبل کی پیش گوئی کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے۔ مشین لرننگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تمام ذہنی کام جو ایک طے شدہ دائرے میں رہ کر انجام دیے جاتے ہیں، اب مشینوں کے سپرد کیے جا سکتے ہیں۔ اس تبدیلی نے اس قدیم تصور کو پاش پاش کر دیا ہے کہ صرف ”ٹیکنیکل سکلز“ ہی مستقبل میں معاشی تحفظ فراہم کریں گی۔ اگر حساب کتاب، کوڈنگ اور تجزیہ کاری خودکار ہو سکتی ہے، تو پھر وہ کون سا میدان ہے جہاں انسان اب بھی ناگزیر ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال ہمیں انسانی مہارت کی نئی اور زیادہ گہری تعریف کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان محض ایک ”کیلکولیٹر“ یا ”ڈیٹا پروسیسر“ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ہمہ جہت وجود ہے جس میں عقل کے ساتھ جذبات، شعور، وجدان اور سماجی فہم کی رنگا رنگی شامل ہے۔ وہ صلاحیتیں جن میں انسانی تعامل، اخلاقی بصیرت اور عملی تجربہ شامل ہو، وہی مستقبل کی اصل کرنسی ثابت ہوں گی۔ تنقیدی فکر (Critical Thinking) ، تخلیقی قوت، قیادت اور باہمی تعاون وہ انسانی جوہر ہیں جنہیں کسی سافٹ ویئر کے ذریعے تیار نہیں کیا جا سکتا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام اب بھی نمبروں کی دوڑ اور امتحانی نتائج کے گرد گھوم رہا ہے۔ ہم طلبہ کو وہ سب کچھ رٹا رہے ہیں جو ایک ”چیٹ بوٹ“ ایک سیکنڈ میں فراہم کر سکتا ہے۔ زندگی کے پیچیدہ مسائل صرف کتابی فارمولوں سے حل نہیں ہوتے ؛ وہاں فہم، صبرو برداشت، مکالمہ اور اخلاقی جرات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہماری درسگاہیں ان پہلوؤں کو نظر انداز کر کے صرف ”مکینیکل گریجویٹس“ پیدا کرتی رہیں، تو وہ دور جدید کے تقاضوں سے کوسوں دور ہو جائیں گی۔

روزگار کی دنیا کا بدلتا ہوا منظرنامہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ صرف فنی مہارت اب کافی نہیں رہی۔ وہ پیشے جو انسانی تعلق اور لمس پر قائم ہیں جیسے تدریس، طب، نفسیاتی رہنمائی اور انتظامی قیادت اپنی فطرت کے باعث کبھی مکمل طور پر خودکار نہیں ہو سکتے۔ ٹیکنالوجی ان میں معاون تو ہو سکتی ہے، مگر انسانی ہمدردی، موقع و محل کی نزاکت کا ادراک اور پیچیدہ اخلاقی فیصلہ سازی وہ اوصاف ہیں جن کی نقل مشین کے لیے ناممکن ہے۔ مستقبل میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جو اپنی فنی قابلیت کو انسانی فہم کے ساتھ ہم آہنگ کرنا جانتے ہوں گے۔

اس صورتحال کا فوری تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب کو ازسرِ نو ترتیب دیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، مگر اس کے ساتھ سماجی علوم، ادب اور فنونِ لطیفہ کو بھی برابر کا مقام دینا ہو گا۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک ایسی نسل تیار کرے گا جو نہ صرف ٹیکنالوجی چلانا جانتی ہو بلکہ سماجی شعور اور تخلیقی بصیرت سے بھی لیس ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ”مسلسل سیکھنے“ (Lifelong Learning) کا رجحان اب انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بن چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ آج کی ڈگری کل کی ردی بن سکتی ہے، لہٰذا لچک اور وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہی بقا کی ضمانت ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ مصنوعی ذہانت کے عہد میں ہمارا اصل مقابلہ مشین سے نہیں بلکہ خود اپنی محدودیت سے ہے۔ اگر ہم نے خود کو صرف تجزیاتی ذہانت تک محدود رکھا تو ہم شکست کھا جائیں گے، لیکن اگر ہم اپنی فطری جامعیت، عقل، جذبات اور شعور کو بروئے کار لائے تو ہم ٹیکنالوجی کو اپنا غلام بنا کر ترقی کی نئی منزلیں طے کر سکتے ہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد محض پیٹ بھرنے کا ذریعہ بننا نہیں، بلکہ ایک باوقار اور متوازن انسان کی تشکیل ہے۔ مستقبل صرف انہی کا ہے جو فن اور انسانیت کے سنگم پر کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW