نوجوانوں کی تنہائی: ایک معاشرتی مسئلہ

اگر آپ معاشرے پر نگاہ دوڑائیں تو آپ محسوس کریں گے کہ ہر نوجوان تنہائی کا شکار ہے۔ تنہائی ایک وبال بن کر ہر نوجوان کو گھیرے ہوئے ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان موجود تو ہوتا ہے لیکن حاضر نہیں ہوتا۔ وہ ہر وقت موبائل کی سکرین سے جڑا ہوا ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا کو پسند کرتا ہے جو اس سے بہت دور بلکہ ناقابلِ رسائی ہے لیکن وہ اپنے اردگرد موجود عزیز و اقارب کو قابلِ نفرین بھی سمجھتا ہے۔ وہ ایسا جہان آباد کر چکا ہے اور ایسی دنیا سے اپنی قلبی طمانیت وابستہ کر چکا ہے جو اس کی تنہائی کو مزید دو چند کر رہی ہے۔ یہ وہ تنہائی نہیں جسے ہم خلوت کے نام سے جانتے ہیں۔ جو مطالعے کے لیے، غور و خوض کے لیے، اپنے شب و روز کے جائزے کے لیے یا اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ نوجوانوں کی تنہائی ایک سماجی و معاشرتی تنہائی ہے جو انہیں اپنے گھر والوں، دوست و احباب، معاشرے و سماج سے دور کر رہی ہے۔ اس کا وجود گھر والوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا اور معاشرے میں نفع بخش عملی اقدام سے بھی یکسر دور ہے۔
اس تنہائی کی بیسیوں وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ہم یہاں تین وجوہات کا تذکرہ لازماً کریں گے تاکہ ان وجوہات کو جاننے کے بعد انہیں ختم کرنے کی سعی کی جا سکے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ نوجوان اپنے گرد و پیش میں اپنے لیے ناقدری اور عدمِ فہم کی فضا محسوس کرتے ہیں۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے اردگرد بسنے والے لوگ انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ ان کے مسائل سے آگاہ نہیں، ان کی خواہشات سے واقف نہیں اور جدید زمانے کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اور جب یہ نوجوان اپنے خیالات اور جدید تصورات کا اظہار کرتے ہیں تو وہ اپنے بڑے بزرگوں کی جانب سے ایک ناقدری اور بے قدری کے کئی ایسے جملوں کا سامنا کرتے ہیں جو انہیں تنہائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ آج کا نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ جو خیالات اور تصورات وہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور جن جدید تقاضوں کو وہ اچھی طرح سمجھتا ہے بڑے بزرگ ان تقاضوں اور تصورات سے ناآشنا ہیں۔ اور پھر جب نوجوان اپنے خیالات کا، جدید تصورات کا اظہار کرتا ہے تو اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کے عزم، حوصلے اور ہمت کو ختم تو نہیں کر سکتے لیکن توڑ ضرور دیتے ہیں۔ چنانچہ پھر وہ اس تنہائی میں چلا جاتا ہے جہاں اسے کسی قسم کا کوئی تنقیدی ردعمل موصول نہیں ہوتا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ جدید ذرائع نے ایسے نوجوانوں کے لیے ایسے متبادل جہاں آباد کر دیے ہیں جن میں تکلیف، تنقید اور ناکامی کا کوئی خوف دامن گیر نہیں ہوتا۔ یہ جہان زیادہ پرکشش اور جاذبِ نظر ہے۔ وہاں سب نیا اور زیادہ قابلِ فہم مواد موجود ہوتا ہے۔ وہاں زیادہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں۔ کسی عملی اقدام سے ماورا ایک ایسی دنیا ہے جو آپ کو نظری و ذہنی تلذذ فراہم کرتی ہے۔ چنانچہ وہ اس میں مگن ہو جاتے ہیں اور معاشرے اور سماج سے بے خبر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس تنہائی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسانی رشتوں کی ڈور کو کمزور کر دیتی ہے جن کے بغیر زندگی درست ڈگر پر چلنے سے قاصر ہوتی ہے۔ یہ تنہائی اول اول تو بہت پرکشش اور جاذبِ نظر معلوم ہوتی ہے لیکن جوں جوں انسان اس تنہائی کے ہاتھوں میں اپنی گردن دے دیتا ہے وہ دائمی افسردگی اور بے چینی سے اس کا گلا دبا دیتی ہے۔ ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ انسان معاشرے میں واقعتاً تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔
جوانی کا زمانہ خاص طور پر ایک ایسا زمانہ ہوتا ہے جہاں معاشرے کے ماہر اور بزرگ افراد کی آشیرباد اور راہنمائی کی خصوصی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے افراد کا ساتھ درکار ہوتا ہے جو قدم قدم پر حوصلہ افزائی کریں اور ہر موڑ پر درست راہنمائی کریں۔ چنانچہ جب نوجوان اسی عمر میں سماجی و معاشرتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ کم ہمتی و کم مائیگی کا شکار ہو کر تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔
اور جب معاشرے میں ایسے تنہائی کے شکار افراد کا تانتا بندھ جائے اور ایسے فگرز کا اضافہ ہونے لگے تو یقین جانیے کہ معاشرہ کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ معاشرے کی اجتماعی عطا اور عنایت ختم ہونے لگتی ہے۔ معاشرے کی جان جو باہمی یک جہتی اور تعاون میں بسی ہوتی ہے، نزع کا شکار ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نوجوان کی تنہائی معاشرے کی اکائی کو کمزور کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نوجوانوں کو اس تنہائی سے نکالا جائے۔ ان کے لیے ایک ایسی معاون فضا قائم کی جائے جس میں وہ آزادانہ سانس لے سکیں۔ انہیں اظہار کا موقع فراہم کیا جائے اور انہیں معاشرے میں شراکت داری کا احساس عطا کیا جائے۔ تاکہ وہ ایک ایسے معاشرے اور ماحول کو جنم دیں جو ان کی ضرورتوں اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ جو ان کے تصورات کی عملی تصویر بنانے میں معاون ہو۔ اگر یوں ہو جائے تو ہم معاشرتی اکائی کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور نوجوانوں کا مستقبل بھی محفوظ ہو جائے گا۔
