بلاگ

نصاب کی سیاست: ہم کیا پڑھتے ہیں اور کیوں

Muslim Mirani

نصاب کبھی محض کتابوں کی فہرست نہیں ہوتا۔ یہ وہ خاموش دستاویز ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنی اگلی نسل کو بتاتا ہے کہ کیا یاد رکھنا ہے اور کیا بھلا دینا ہے۔ اسکول کے بستے میں رکھی ہوئی کتابیں دراصل سوالوں، ترجیحات اور خوف کی ایک ترتیب ہوتی ہیں۔ ہم انہیں علم سمجھ کر پڑھتے ہیں، مگر درحقیقت وہ ہمیں سوچنے کا زاویہ سکھاتی ہیں۔

بچہ جب پہلی بار نصاب کھولتا ہے تو اسے صرف حروف نہیں ملتے، بلکہ ایک ترتیب شدہ دنیا دکھائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں کچھ آوازیں واضح ہوتی ہیں، کچھ مدھم، اور کچھ بالکل غائب۔ یہی غیر موجودگی نصاب کی سب سے طاقتور زبان ہے۔ ہم جو پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ اثر وہ چیز ڈالتی ہے جو ہمیں کبھی پڑھنے کو نہیں ملتی۔

ہر معاشرہ نصاب کے ذریعے اپنے بارے میں ایک کہانی سناتا ہے۔ یہ کہانی ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی، مگر مستند ضرور نظر آتی ہے۔ تاریخ کے کچھ ابواب تفصیل سے پڑھائے جاتے ہیں، کچھ سطروں میں سمیٹ دیے جاتے ہیں، اور کچھ سوالوں کے دائرے سے ہی نکال دیے جاتے ہیں۔ یہی انتخاب نصاب کی سیاست ہے۔ خاموش، مگر دیرپا۔

پاکستان جیسے کثیر لسانی سماج میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ یہاں اردو، سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، شینا، بلتی، براہوی، کھوار، ہندکو، پوٹھوہاری، ڈاٹکی، کوہستانی اور کشمیری جیسی زبانیں صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ سانس لیتی آئی ہیں۔ مگر نصاب میں یہ تنوع اکثر سکڑ کر چند نمائشی ابواب تک محدود رہ جاتا ہے۔ یوں کچھ زبانیں علمی اظہار کا معیار بن جاتی ہیں اور کچھ صرف ثقافتی حوالہ۔

تعلیم پر ہونے والی تحقیق بتاتی ہے کہ نصاب ہمیشہ علمی ضرورت کے تحت نہیں بنتا۔ اس پر ریاستی ترجیحات، تاریخی بیانیے اور سماجی خدشات اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ اثرات کبھی قومی یکجہتی کے نام پر ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی ”سادگی“ کے نام پر۔ مگر ان فیصلوں کے نتائج طویل ہوتے ہیں، کیونکہ نصاب طالب علم کے ذہن میں دنیا کی پہلی تصویر بناتا ہے۔

زبان یہاں محض ذریعہ نہیں، طاقت بن جاتی ہے۔ جس زبان میں علم پڑھایا جائے، وہ فہم کی حد بھی متعین کرتی ہے۔ مادری زبان میں تعلیم بچے کو سوال پوچھنے کا حوصلہ دیتی ہے، جبکہ اجنبی زبان اکثر یادداشت پر زور دیتی ہے۔ اس کے باوجود، نصاب میں مقامی زبانوں کی موجودگی اکثر رسمی اور محدود رہتی ہے۔ جیسے انہیں سنا تو جائے، مگر سنجیدگی سے نہیں۔

ادب کا انتخاب بھی اسی سیاست کا حصہ ہوتا ہے۔ کون سے شاعر، کون سی کہانیاں، اور کون سے موضوعات نصاب میں جگہ پاتے ہیں۔ یہ سب مل کر ایک مخصوص ذوق تیار کرتے ہیں۔ اگر نصاب میں صرف طاقتور طبقات کے تجربات شامل ہوں، تو طالب علم دنیا کو بھی اسی دائرے میں سمجھنے لگتا ہے۔ متنوع ادب انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ حقیقت ایک نہیں، کئی ہوتی ہے۔

یہ کہنا آسان ہے کہ نصاب غیر جانبدار ہوتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ غیر جانبداری بھی ایک انتخاب ہوتی ہے۔ اکثر فیصلے دانستہ نہیں ہوتے، مگر غیر دانستہ فیصلے بھی ذہن سازی کرتے ہیں۔ نصاب جو کچھ شامل کرتا ہے، وہ اتنا ہی اہم ہے جتنا وہ خاموشی سے خارج کر دیتا ہے۔

ایک زندہ نصاب وہ ہوتا ہے جو سوال کرنے سے نہ ڈرائے۔ جو طالب علم کو صرف درست جواب نہ دے، بلکہ بہتر سوال تلاش کرنے کی تربیت دے۔ ایسا نصاب زبان، تاریخ اور ادب کو جامد حقائق کے بجائے انسانی تجربات کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تعلیم معلومات سے آگے بڑھ کر شعور بن جاتی ہے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نصاب کو بند کتاب کے بجائے کھلی گفتگو سمجھیں۔ ایک ایسی گفتگو جس میں مختلف زبانیں، مختلف یادداشتیں اور مختلف نقطۂ نظر ایک ساتھ موجود ہوں۔ کیونکہ تعلیم کا اصل مقصد ہم خیال افراد نہیں، بلکہ سوچنے والے انسان پیدا کرنا ہے۔

آخرکار، نصاب یہ طے نہیں کرتا کہ ہم کیا یاد رکھیں گے۔ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ہم کیا سوال پوچھنا سیکھیں گے۔ اور جو معاشرے سوال پوچھنا سیکھ لیتے ہیں، وہی وقت کے امتحان میں زندہ رہتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
zaman
zaman
3 months ago

Excellent understanding and interpretarion

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW