میرے مطابق

جھنگ سے پیر محل تک ایک یادگار سفر کی روداد

masroor ahmad

کچھ سفر محض جغرافیائی حدود طے نہیں کرتے بلکہ ذہن، فکر اور احساس کو بھی نئی سمت دے دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سفر کچھ دن قبل ایک شادی کی تقریب کے سلسلے میں نمل یونیورسٹی اسلام آباد کے ممتاز پروفیسر ڈاکٹر مدثر مختار گجر کی معیت میں وسطی پنجاب کے تاریخی ضلع جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیر محل کی جانب ہوا۔ یہ میرا زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں سلطان باہوؒ کی دھرتی جھنگ کی مٹی کو قریب سے دیکھ سکا، اس کے لوگوں سے ملا اور اس کے نظم و نسق، تاریخ اور تہذیب کو محسوس کیا۔

جھنگ پنجاب کا ان قدیم ترین اضلاع میں سے ہے جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد یہ شہر محض ایک جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ تہذیبی، صوفیانہ اور زرعی تمدن کا امین ہے۔ یہ شہر آج بھی اپنی روایت، لہجے اور سادگی کے باعث الگ پہچان رکھتا ہے۔ پنجابی زبان کے جھنگوی لہجے میں گفتگو یہاں کی ثقافتی شناخت ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں سرائیکی کی مٹھاس بھی سنائی دیتی ہے۔

جھنگ کی تاریخ کا آغاز 1288 ء میں ہوتا ہے جب قبیلہ سیال کے سردار رائے مل سیال نے اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ جلال بخاریؒ کے کہنے پر اس شہر کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں سیال قبائل نے یہاں 360 سال حکومت کی اور احمد خان آخری سیال حکمران ثابت ہوئے۔ اس کے بعد سکھوں اور پھر انگریزوں کا دور آیا۔ تاریخ کے اوراق میں یہ بات بھی محفوظ ہے کہ عظیم سیاح ابن بطوطہ جب جھنگ سے گزرے تو اس وقت کے حکمران حاکم خان نے انہیں شال اور خوبصورت گھوڑا بطور تحفہ پیش کیا۔ یہ واقعہ جھنگ کی قدیم مہمان نوازی اور فراخ دلی کی روشن مثال ہے۔

بدقسمتی سے اتنے تاریخی پس منظر کے باوجود جھنگ آج بھی بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی کا شکار ہے۔ یہ جان کر افسوس ہوتا ہے کہ متعدد نامور سیاسی شخصیات سے تعلق رکھنے کے باوجود شہر طویل عرصے تک انتظامی عدم توجہی کا شکار رہا۔ تاہم حالیہ برسوں میں صورتِ حال میں واضح بہتری محسوس کی جا سکتی ہے، جس کا سہرا موجودہ ڈپٹی کمشنر جھنگ علی اکبر بھنڈر کو جاتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھنڈر ایک سخت گیر، اصول پسند اور غیر معمولی طور پر متحرک افسر ہیں۔ انہوں نے بگڑے ہوئے شہری نظام کو درست کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں نہ صرف جرائم پر قابو پایا گیا بلکہ متعدد ترقیاتی منصوبوں پر بھی عملی کام جاری ہے۔ جھنگ جمخانہ کلب بھی خوبصورتی اور نفاست میں اپنی مثال آپ ہے جسے موجودہ ڈپٹی کمشنر نے مزید وسعت دی ہے اور سروسز کے معیار کو بہتر بنایا ہے۔ پچھلی برسات میں آنے والے سیلاب جیسے مشکل حالات میں انہوں نے جس مستعدی اور خلوص کے ساتھ عوام کی خدمت کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس سے قبل ضلع بھکر میں بھی ان کی خدمات کو آج تک سنہری حروف میں یاد کیا جاتا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر محسن بھی انتظامی معاملات میں ان کے شانہ بشانہ شہر کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

جھنگ میں قیام کے دوران خلوص سے بھرپور ہمارے دوست ہاشم بلوچ کی میزبانی نے اس سفر کو مزید یادگار بنا دیا۔ ایسے لوگ ہی دراصل کسی شہر کا اصل حسن ہوتے ہیں، جو مسافر کو اجنبی محسوس نہیں ہونے دیتے بلکہ اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں۔ ہمارے پیارے دوست ڈپٹی ڈائریکٹر پاکستان بیت المال مجاہد اقبال کا تعلق بھی جھنگ سے ہے جو آج کل ٹینسی سٹیٹ یونیورسٹی امریکہ میں انوائرمنٹل سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ جھنگ میں پاکستان سویٹ ہوم سمیت پاکستان بیت المال کے متعدد پراجیکٹس بشمول ویمن ایمپاورمنٹ سنٹر اور بہت المال سکول بھی عوام کو خدمات مہیا کر رہے ہیں۔

جھنگ کا جغرافیہ بھی خاصا متنوع ہے۔ ایک جانب دریائے چناب کی زرخیز زمینیں ہیں تو دوسری طرف مغرب میں تھل کا صحرائی علاقہ واقع ہے۔ شمال میں ربوہ کے قریب کیرانا پہاڑیوں کا سلسلہ آراولی پہاڑیوں سے جا ملتا ہے۔ انگریز دور میں نہری نظام کی بدولت بنجر زمینیں قابلِ کاشت بنیں اور اسی منصوبہ بندی کے تحت لائل پور (موجودہ فیصل آباد) جیسے شہر کی بنیاد رکھی گئی جو آج پاکستان کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل مرکز ہے۔

جھنگ کی معیشت کا دار و مدار آج بھی زراعت اور مویشی بانی پر ہے۔ یہاں کے مٹی کے برتن اور ان پر کی جانے والی خوبصورت کشیدہ کاری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی جھنگ میں متعدد سرکاری و نجی ادارے موجود ہیں، جن میں سٹی اسکول، گورنمنٹ اسلامیہ ہائر سیکنڈری اسکول، غزالی پائلٹ اسکول، ڈی ایچ کیو سول ہسپتال، الخدمت ہسپتال اور دیگر نمایاں ہیں۔

اس سفر کا دوسرا اہم پڑاؤ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیر محل تھا۔ اگرچہ یہ ایک تحصیل ہے، مگر اپنی منصوبہ بندی، صفائی اور شہری نظم کے اعتبار سے کسی بڑے شہر سے کم نہیں۔ پیر محل کو انگریز دور میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا، جہاں تمام سیوریج نظام زیرِ زمین ہے۔ یہاں متوسط اور خوشحال طبقے کی بڑی تعداد آباد ہے، جو شہر کی مجموعی خوشحالی کا مظہر ہے۔

پیر محل میں مشہور ڈینٹسٹ ڈاکٹر ذیشان سے ملاقات بھی اس سفر کا خوشگوار حصہ رہی۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے دندان سازی کے شعبے میں خدمات کو اپنا مشن بنا لیا ہے اور مقامی آبادی کو جدید سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر مدثر مختار گجر کے بھائی، پی ایم ایس افسر مظفر مختار گجر سے ہونے والی گفتگو بھی علمی اور فکری حوالے سے نہایت سودمند رہی۔ ان کا مطالعہ، وژن اور افسرانہ بصیرت قابلِ ستائش ہے۔

جھنگ اور پیر محل دونوں شہروں میں کھیلوں کا شوق نمایاں ہے۔ کبڈی، فٹبال، والی بال اور کرکٹ نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ مذہبی اعتبار سے جھنگ میں اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے ساتھ ساتھ عیسائی اقلیت بھی آباد ہے، جو مجموعی سماجی ہم آہنگی کی مثال ہے۔ کسی دور میں جھنگ کی وجہ شہرت دہشت گردی اور فرقہ ورانہ فسادات تھے جو اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

مجموعی طور پر جھنگ کے لوگوں کا مزاج محنتی، بردبار اور خوش اخلاق ہے۔ زرعی زمینوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان میں جفاکشی اور صحت مندی پائی جاتی ہے، جس کا اثر ان کے رویّوں میں شائستگی اور ہنس مکھ پن کی صورت میں جھلکتا ہے۔

یہ سفر محض ایک شادی کی تقریب میں شرکت نہیں تھا بلکہ تاریخ، تہذیب، نظم و نسق اور انسان دوستی کا عملی مشاہدہ تھا۔ جھنگ اور پیر محل جیسے شہر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اگر دیانت دار قیادت، منظم منصوبہ بندی اور مخلص افراد میسر ہوں تو وسائل کی کمی کے باوجود ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔ یہ دھرتی آج بھی توجہ، تحقیق اور خلوص کی منتظر ہے اور امید ہے کہ شہر کے ویژنری ڈپٹی کمشنر کی بدولت آنے والا وقت جھنگ کے لیے خوش خبریاں لے کر آئے گا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Munir Ahmad
Munir Ahmad
26 days ago

AoA Sir very informative column. May Allah grant you even more wisdom.

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW