میرے مطابق

علامہ اقبال کا فکری وژن اور عصر حاضر کا تعلیمی بحران (5)

تعلیم کا بحران یا تہذیب کا زوال؟

dr afzal razvi

گزشتہ تمام مباحث کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ اس امر کو قطعی طور پر واضح کر دیتا ہے کہ موجودہ تعلیمی بحران کو کسی ایک اصلاحی اقدام، نصابی تبدیلی یا انتظامی فیصلے کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بحران دراصل تعلیم کے تصور (Concept of Education) کے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ علامہ محمد اقبال کے نزدیک جب تعلیم اپنے مابعد الطبیعیاتی، اخلاقی اور عمرانی مقاصد سے کٹ جاتی ہے تو وہ قوم کے لیے ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے فکری انتشار اور تہذیبی زوال کا سبب بن جاتی ہے۔

علامہ اقبال کی فکر میں تعلیم ایک تشکیلی (Formative) عمل ہے، نہ کہ محض اطلاعی (Informative) ۔ RRTI میں وہ علم کو انسانی تجربے کا زندہ اور تخلیقی تسلسل قرار دیتے ہیں، جو فرد کی خودی کو مستحکم کرتا ہے اور اسے تاریخ کے دھارے میں ایک فعال کردار عطا کرتا ہے۔ اس تناظر میں موجودہ تعلیمی نظام کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ طالب علم کو فاعل (agent) کے بجائے مفعول (object) بنا دیتا ہے ؛یعنی ایسا فرد جو نظام سے ہم آہنگ تو ہوتا ہے، مگر اسے بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

1) علمی نتیجہ (Epistemological Implications)

علامہ اقبال کے تعلیمی وژن سے اخذ ہونے والا پہلا بڑا علمی نتیجہ یہ ہے کہ علم کو قدر سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جدید تعلیمی ماڈلز، بالخصوص ٹیکنوکریٹک اور نیو لبرل فریم ورکس، علم کو قدر سے الگ کر کے محض افادیت (utility) تک محدود کر دیتے ہیں۔ علامہ اقبال اس تصور کی سخت نفی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسا علم جو انسان کو اخلاقی فیصلے کی صلاحیت نہ دے، دراصل علم نہیں بلکہ فکری فریب ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں :

اقبالؔ اگرچہ بے ہُنر ہے
اس کی رگ رگ سے باخبر ہے
شُعلہ ہے ترے جُنوں کا بے سوز
سُن مجھ سے یہ نکتہ دل افروز
افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہیں ذوقِ عمل کے واسطے موت
دیں مسلکِ زندگی کی تقویم
دیں سِرِّ محمدﷺ و براہیمؑ

درج بالا اشعار علامہ اقبال کے epistemological موقف کا نچوڑ ہیں کہ علم اگر عمل، اخلاق اور مقصد سے خالی ہو تو وہ زندگی کے بجائے جمود پیدا کرتا ہے۔

2) عمرانی نتیجہ (Sociological Implications)

تعلیم کے اقبالی تصور کا دوسرا بڑا نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم ایک عمرانی ادارہ (Social Institution) ہے، نہ کہ محض ایک ریاستی خدمت۔ اقبال تعلیم کو ایک عمرانی معاہدہ (Social Contract) سمجھتے ہیں جو فرد، معاشرہ اور ریاست کے درمیان ذمہ داریوں کی نوعیت طے کرتا ہے۔ جب یہ معاہدہ نوآبادیاتی یا صارفیت زدہ بنیادوں پر قائم ہو تو معاشرہ فکری طور پر منقسم اور اخلاقی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں علامہ اقبال غلام ذہن کی تشکیل کو سب سے بڑا تعلیمی المیہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ تعلیم جو سوال، اجتہاد اور تخلیق کے بجائے تقلید اور اطاعت کو فروغ دے، قوم کو تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیتی ہے۔

لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ تقلید سے علامہ اقبال کی دریں مراد اندھی تقلید ہے کیونکہ انہوں نے جہاں اس طرح کی تقلید جو انسان کو جمود میں مبتلا کر دے اس کی مخالفت کی ہے جو تقلید درست راستے پر چلنا سکھائے اس کی تائید کی ہے۔ چنانچہ اس کا اظہار یوں کرتے ہیں :

راہ آبا رو کہ ایں جمعیت است
معنی تقلید ضبطِ ملت است

ترجمہ) اپنے بزرگوں کی راہ پر چل کیونکہ جمعیت اسی صورت سے حاصل ہو گی۔ تقلید کا مطلب ہے ملت کے اندر ربط و ضبط قائم کرنا۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ زمانہ انحطاط میں اجتہاد کے بجائے تقلید کو فوقیت دیتے ہوئے کہتے ہیں:

نقش بر دل معنی توحید کن
چارہ کار خود از تقلید کن
اجتہاد اندر زمانِ انحطاط
قوام را برہم ہمی پیچد بساط
ز اجتہاد عالمانِ کم نظر
اقتداء بر رفتگاں محفوظ تر
از یک آئینی مسلمان زندہ است
پیکر ملت ز قرآن زندہ است
ما ہمہ خاک و دل آگاہ نیست
اعتصامش کن کہ حبل اللہ اوست

ترجمہ) توحید کا مطلب اپنے دل پر نقش کر لے اور تقلید سے اپنے طرزِ عمل کو درست کر لے۔ انحطاط کے زمانے میں اجتہاد کرنا گویا بساط کو لپیٹ دینا ہے۔ عالمان کم نظر (یعنی بصیرت سے تہی دست) کے اجتہاد سے اسلاف کی پیروی کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ مسلمان یک آئینی سے زندہ ہے۔ ہم سب خاک ہیں اور دل آگاہ نہیں ہیں۔ اس قرآن کو مضبوطی سے تھام لے کیونکہ وہ اللہ کی رسی ہے۔

( 3 اخلاقی و تہذیبی نتیجہ (Ethical and Civilizational Implications)

علامہ اقبال کے تعلیمی وژن کا تیسرا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم تہذیب کی روح ہوتی ہے۔ تہذیب کی اصل شناخت اس کی عمارتوں، ٹیکنالوجی یا معیشت سے نہیں بلکہ اس کے تعلیمی فلسفے سے ہوتی ہے۔ اگر تعلیم میں اخلاقی مرکزیت ختم ہو جائے تو تہذیب اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے ؛چاہے وہ ظاہری طور پر کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں علامہ اقبال جدید مغربی تہذیب پر گہری تنقید کرتے ہیں، مگر سائنسی ترقی کو رد نہیں کرتے۔ وہ سائنس کو اپنانے کے قائل ہیں، مگر اس کی اخلاقی نگرانی کے ساتھ۔ ان کے نزدیک سائنسی قوت اگر اخلاق سے آزاد ہو جائے تو وہ انسان کی خادم نہیں، حاکم بن جاتی ہے (یہ مفہوم RRTI اور ضربِ کلیم دونوں میں واضح طور پر موجود ہے ) ۔

( 4 پالیسی سطح کے مضمرات (Policy۔ Level Implications)

اگر علامہ اقبال کے تعلیمی وژن کو سنجیدگی سے لیا جائے تو اس کے پالیسی مضمرات نہایت دور رس ہیں۔ تعلیمی پالیسی کا ہدف محض عالمی درجہ بندی، مارکیٹ کی ضرورت یا افرادی قوت کی تیاری نہیں ہونا چاہیے بلکہ باوقار انسان کی تشکیل ہونا چاہیے۔ اس کے لیے نصاب، تدریس، تربیتِ اساتذہ اور ادارہ جاتی کلچر، سب کو ایک مربوط فکری فریم ورک میں ڈھالنا ہو گا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قومی سطح کے تعلیمی کمیشن کی ضرورت محض انتظامی نہیں بلکہ نظریاتی بن جاتی ہے، ایسا کمیشن جو علامہ اقبال کے تصورِ خودی، علم اور تہذیب کو پالیسی کی زبان میں منتقل کر سکے۔

( 5 مستقبل کی سمت: تعلیمی پیراڈائم

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کا تعلیمی وژن نہ ماضی پرستی ہے اور نہ مغرب دشمنی، بلکہ ایک متبادل جدیدیت (Alternative Modernity) کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ جدیدیت سائنسی عقل، روحانی بصیرت اور اخلاقی ذمہ داری کو ایک وحدت میں جوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کا پیغام آج کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل کلچر اور گلوبلائزیشن کے دور میں پہلے سے زیادہ relevant ہو چکا ہے۔

علامہ اقبال کی نظر میں اگر تعلیم اس وحدت کو بحال کر لے تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ وہ اسی امید کو اس شعر میں سمیٹ دیتے ہیں :

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

یہ نم دراصل فکری وضاحت، اخلاقی مرکزیت اور تعلیمی مقصد کا ہے۔ جب یہ نمی واپس آ جاتی ہے تو تعلیم محض علم کی ترسیل نہیں رہتی بلکہ قوم کی تاریخ کا رخ موڑنے والی قوت بن جاتی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW