بلاگ

جس روز ہمارا کوچ ہو گا

dr muhammad zaheer lahore

افتخار عارف صاحب کی ایک خوبصورت نظم ہے ’جس روز ہمارا کوچ ہو گا پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی‘ ، ہم اس میں تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ یہ کہنا چاہیں گے کہ ’کتابوں کی دکانیں بند ہوں گی‘ ۔ گزشتہ جمعہ کو ہمارے ایک پروفیسر صاحب جو کہ یونیورسٹی سے اب رخصت چاہتے ہیں، کے لیے ہم کچھ کتابیں خریدنے مال روڈ کو نکلے اپنے عزیزان من کے ساتھ تو ہم پر یہ منکشف ہوا کہ ہماری پیاری مال روڈ پر جوتوں کی دکانیں، کھانوں کے مراکز، ریستوران اور الیکٹرانکس کا سامان رکھے ہوئے تو بہت سی دکانیں موجود ہیں مگر کتابوں کی دکانیں بند ہو چکی ہیں۔ کئی مشہور پبلشرز اب وہاں پر نہیں تھے۔ اور ہم بڑی مایوسی اور دکھ میں دائیں بائیں ہونقوں کی طرح دیکھ رہے تھے کہ شاید کہیں کتابوں کی دکان نظر آ جائے تو ہم چند ایک کتابیں خرید کر اپنے پروفیسر صاحب کو تحفتاً پیش کریں۔ پھر بڑی مشکل سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ہمیں سنگ میل والوں کی دکان مل ہی گئی۔ مگر وہ مال روڈ سے باہر نکل کر جسے لوئر مال کہا جاتا ہے وہاں پر تھی۔ سنگ میل والوں کا دم ہی غنیمت ہے کہ جنہوں نے اپنی دکان اب تک بچا رکھی ہے اور خوبصورت کتابوں سے سجا رکھی ہے۔ دکان کے اندر داخل ہوتے ہی، اسے دکان کہنا تو مناسب نہیں۔ کتاب گھر کے اندر داخل ہوتے ہی کتابوں کی ایک مانوس سی خوشبو ہماری منتظر تھی۔ ہم بہت دیر تک اس مانوس خوشبو سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ کتابوں کی کاغذ کی خوشبو کسی خوبرو حسینہ کے ملائم بدن کی خوشبو سے کہیں زیادہ پرکشش، پرسکون اور سحر انگیز ہوتی ہے۔ ایک بار مشہور دانشور ڈاکٹر مہدی حسن صاحب سے کتاب پر بات ہوئی تو کہنے لگے کہ میاں اپنے بستر پہ نیم دراز جب انسان اپنی کتاب کو اپنے سینے پہ رکھ کے اس کے کاغذ کی خوشبو کو سونگھتے ہوئے مطالعہ کرتا ہے تو یوں ہی لگتا ہے کہ جیسے آپ محبوب کو اپنے سینے پہ لٹائے محبت کی سرگوشیاں کر رہے ہوں۔

خیر کتابوں کے بارے میں ہمارا تخیل اتنا شاندار تو نہ تھا۔ مگر یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ کتابوں کے گوشے اب معدوم ہوئے جاتے ہیں۔ ان کی جگہ موبائل فونز اور جوتوں نے لے لی ہے ہمارے شاعر دوست نے از راہ مذاق کہا جو قوم کتابوں کی دکانیں بند کر کے جوتوں کی دکانیں کھو لے گی جوتے ہی کھائے گی۔ خدا نہ کرے ایسا ہو، مگر بات ہاتھ سے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے عہد کے بچے جو پہلے ہی کتابوں سے دور بھاگتے اور شارٹ کٹ ڈھونڈتے تھے، کتابوں سے ان کا رشتہ ٹوٹے ہوئے زمانہ بیت گیا۔ اب ہمارے بچے موبائل فون پر ریلز دیکھتے ہیں اور اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔ یا کسی احمق کا یوٹیوب چینل دیکھ کر جھوٹے اعداد و شمار کو سچ مانتے ہیں۔ ابھی ہم انہی صدمات سے باہر نہیں نکلے تھے کہ مصنوعی ذہانت بھی وارد ہو گئی۔ بچوں نے تو پہلے ہی لکھنا پڑھنا بند کر دیا تھا، کتابوں سے دوری اور فون میں گھسے رہنا ان کی مجبوری بن چکی تھی کہ اس مصنوعی ذہانت نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ اب بچے مصنوعی ذہانت سے سوال کرتے ہیں اور جواب میں جو کچھ ملتا ہے اسی کو سچ جانتے اور سچ مانتے ہیں۔ تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اب دیکھیے بات کہاں جا کے رکتی ہے۔ جب گوگل منظر عام پر آ یا تھا تو ہم جیسے پرانی سوچ کے حامل بڑا گھبرائے تھے بہت پریشان ہوئے تھے کہ اب بچے کیا کریں گے۔ گوگل میں پھر بھی یہ سہولت تھی کہ کچھ ٹیکسٹ مل جاتا تھا جس کو پڑھنا پڑتا تھا وہاں سے کچھ معلومات اخذ کرنی پڑتی تھیں۔ مگر یہ کمبخت مصنوعی ذہانت تو ایک دم سے مختصر جامعہ اور اکثر اوقات جھوٹی معلومات دے کر ہمیں بے وقوف بناتی ہے۔ یہ بات میں نے ایک مشہور تعلیمی ماہر سے بھی پوچھی کہ کیا آپ بھی اسی قدر پریشان ہیں جس قدر ہم، تو ہنستے ہوئے کہنے لگے نہیں بھائی زمانہ بدلے گا علم کے حصول اور معلوم تک رسائی کے طریقے بھی بدلتے جائیں گے۔ اپ یاد کیجئے پرانی تحاریر کو دیکھیے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ جب چھاپا خانہ بنا تھا تو تب بھی لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ کیا علم ہوا ایک ہی کتاب سینکڑوں کی تعداد میں چھاپ کے لوگوں میں تقسیم کردی جائے۔ کتاب تو وہی اچھی لگتی تھی جو کاتب لکھتا تھا اور ہم تک پہنچتی تھی۔ یہ نالائق لوگوں کا کام ہے کہ ایک ہی کتاب کی کئی کاپیاں چھاپنا۔ علم تو سینہ بہ سینہ پھیلتا ہے۔ اب اساتذہ کیا کریں گے؟ یہ بات تو چھاپہ خانہ کی ایجاد کے بعد ہوئی تھی۔ چھاپہ خانہ کی ایجاد کے بعد ، بلکہ بہت بعد انٹرنیٹ آ یا اور کتابوں تک رسائی اور آ سان ہو گئی، اور پھر سرچ انجنز کا زمانہ آ گیا تو معلوم ہوا علم تک رسائی مزید آ سان ہو گئی۔ ہم جیسے پرانے خیالات کے اساتذہ پریشان رہے کہ دیکھیے اب کیا ہوتا ہے اب بچے کیا کریں گے مگر یہ بھی سچ ہے کہ اب آنے والا زمانہ مصنوعی ذہانت کا ہے۔ اور ہم اس بات پر پریشان ہیں کہ بچوں نے پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت تو پہلے ہی کم کر لی ہے اس مصنوعی ذہانت نے باقی کیا چھوڑنا ہے۔ دیکھیے مصنوعی ذہانت ایک اچھی چیز ہے مگر اب اس سے جب کسی چیز کی بابت پوچھتے ہیں تو یہ وہ بھی بیان کر دیتا ہے جس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ لہذا کسی بھی معلومات کے حصول کو درست بنانے کے لیے یہ بڑا ضروری ہے کہ اس شعبے میں ہمارا مطالعہ اچھا ہو وگرنہ مصنوعی ذہانت کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنا تو بہت مشکل ہو گا۔

خیر بات چل رہی تھی کتابوں کی، کتابیں متروک ہوئی جاتی ہیں۔ ویسے تو اس سال کے شروع میں پنجاب یونیورسٹی میں جب کتاب میلہ لگا، بہت ساری کتابوں کو دیکھ کر ہمیں یہ اک گونا اطمینان ہوا کہ ابھی کتابوں سے محبت باقی ہے۔ نوجوان بچے اور بچیوں کو کتابیں خریدتا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ مگر یہ جو آنے والا دور جسے ہم ڈیجیٹل دور کہتے ہیں یہ ہماری کتابیں کھا جائے گا۔ ہمارے شیلفوں میں پڑی ہوئی کتابیں بوسیدگی کا شکار ہو جائیں گی، ان پر گرد پڑتی جائے گی اور بالآخر یہ متروک ہو جائیں گی۔ اور کتابیں صرف کہانیاں بن جائیں گی جیسے پرانے ٹیپ ریکارڈر، وی سی آر اور اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جو ہم بچپن میں استعمال کیا کرتے تھے اور افتخار عارف کی یہ بات کہ جس روز ہمارا کوچ ہو گا پھولوں کی دکانیں بند ہوں، شاید ہمیں ہمارے مرنے سے پہلے ہی کتابیں اور کتابوں کی دکانیں ختم ہوجائیں۔

کتابوں پہ پڑی ہوئی گرد
بتا رہی ہے
اب نہیں کوئی ان کا ہمدرد
اپنے اپنے کاموں میں
موبائل، انٹرنیٹ، فیس بک کے داموں میں
آ چکا ہے ایک ایک فرد
کتابوں کا ہر ورق
ہو گیا ہے زرد
کھو گئے ہیں زمانے پرانے
کتابوں کے کاغذ کی خوشبو
اور اس کا لمس
بھول چکے ہیں سب
اب کوئی سوکھا ہوا پھول
کسی بھولی ہوئی کتاب کے بیچ
اڑاتا نہیں یادوں کی دھول
اب کسی چہرے کو کسی کتاب میں
ڈھونڈنا ہے فضول
کاغذ پہ لکھے ہوئے حروف
ہو گئے ہیں متروک
اب کسی دل میں کاغذ کا درد نہیں
اب کتاب کسی گھر کا فرد نہیں

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
*Muhammad Riasat
*Muhammad Riasat
7 months ago

بہت خوب استاد محترم

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW