جنگ اور سیلاب کا شکار خواتین اور بچے!

اللہ کا کس قدر کرم ہے کہ میں اور آپ اپنے ٹھکانوں پر محفوظ ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے بچے ہمارے پاس ہیں اور بخیریت ہیں۔ ہمیں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا اور کسی حکومتی امداد کا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔ البتہ گزشتہ کئی دن سے سیلاب کی زد میں آئے مصیبت زدگان قیامت خیز حالات سے گزر رہے ہیں۔ وہ بے گھر ہو گئے ہیں۔ ان کی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ کچھ کے بچے سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ اور بہت سوں کے خوراک کی کمی اور موسم کی شدت کے باعث بیمار ہیں۔
ایسوں کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کیجئے جو زمیندار تھے، ان کی فصلیں سونا اگلتی تھیں اور آج وہ سرکاری خیمہ بستیوں میں پڑے، حکومتی امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ یہ سیلاب بہت سوں پر قیامت بن کر نازل ہوا ہے۔ اس افتاد کے اثرات برسوں تک ان کی زندگی میں موجود رہیں گے۔
دوسری طرف اہل غزہ پر بھی گزشتہ کئی مہینوں سے قیامت بیت رہی ہے۔ یہ اسرائیل کی جارحیت اور بمباری کا شکار ہیں۔ ان کے گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ بہت سوں کے گھر والے شہید ہو چکے ہیں۔ یہ عالمی امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ اکثر اوقات اسرائیل کی بے حسی کی وجہ سے یہ امداد ان تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔ بلاشبہ قدرتی آفات ہوں یا انسانوں کی مسلط کردہ جنگیں، عام شہری جنس اور صفت کی تفریق کے بغیر ان کا نشانہ بنتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عمومی طور پر بچے اور خواتین ہمیشہ آسان ہدف یعنی سافٹ ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ انہیں مردوں کی نسبت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین اور بچوں کی ضروریات معمول کے حالات میں مردوں سے مختلف ہوتی ہیں اور ہنگامی حالات میں بھی۔
اس وقت پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیلاب کی وجہ سے ہنگامی حالات کا سامنا ہے۔ اگرچہ سیلابی پانی کا شکار مرد، عورتیں، بچے سب مشکل میں ہیں۔ لیکن خواتین اور بچے زیادہ پریشانی کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر معمول کے دن ہوں یا ہنگامی حالات، مرد حضرات کھلے آسمان تلے شب بسری کر سکتے ہیں۔ تاہم خواتین کے لئے ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس وقت حکومتی خیمہ بستیاں خواتین سے بھری ہوئی ہیں۔ لیکن بیشتر خواتین ان خیمہ بستیوں میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں گی۔ بہت سی خواتین کو کھلے آسمان تلے رہنا پڑ رہا ہے۔ ان حالات میں بھی میڈیا پر چوری چکاری کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دنیا بھر میں قدرتی آفات کے ہنگام خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2005 کے زلزلے میں مظفر آباد سمیت دیگر علاقے بدترین تباہی کا شکار ہوئے تھے۔ اس زمانے میں بھی خواتین کے اغوا اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے متعدد واقعات رونما ہوئے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ خواتین کو خوراک، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ منتظمین کو ان کی حفاظت کی طرف بھی توجہ دینا پڑتی ہے۔ آفات کے ہنگام حاملہ خواتین اور شیر خوار بچوں کی ماؤں کو بھی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔ سیلابی صورتحال میں گھری حاملہ خواتین کی پریشانی کا اندازہ کریں۔ وہ بے سر و سامانی کے حالات میں کیسے رہ رہی ہوں گی۔ ان کے بچے کن حالات میں پیدا ہوں گے؟ وہ کھلے سائبان تلے نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے پر مجبور ہوں گی۔
ان خواتین کا بھی سوچیں جو اس وقت شیر خوار بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ عمومی طور پر ماں کو خوراک کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو بچے خود بہ خود غذا کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مختلف بیماریاں ان کو چمٹ جاتی ہیں۔ خواتین کی مخصوص ماہوار ضروریات کے مطابق انہیں ضروری سینیٹری سامان کہاں میسر آتا ہو گا۔ دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ آفات اور حادثات کی پیداوار بچے اور زندہ بچ جانے والے بڑے زندگی بھر خوف اور ٹراما کا شکار رہتے ہیں۔ ان کی زندگی مختلف ذہنی و نفسیاتی مسائل کے سائے تلے گزرتی ہے۔ سیلاب میں بچوں کی جو تصاویر اور مناظر سامنے آ رہے ہیں وہ بھی نہایت قابل افسوس ہیں۔ کسی کو کپڑے میسر نہیں ہیں اور وہ کھلے آسمان کے نیچے پڑا ہے۔ کسی کی ماں بچھڑ گئی ہے۔ کسی کو ماں باپ کاندھوں پر اٹھا کر یا کسی بڑے برتن میں رکھ کر پانی میں سے گزر رہے ہیں۔ بس اللہ کی پناہ۔
غزہ میں بسنے والے بچوں اور خواتین کی حالت بھی نہایت ابتر ہے۔ سینکڑوں بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں عمر بھر کے لئے معذور ہو گئے ہیں۔ بہت سے بچے یتیم یا مسکین ہو گئے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جن کے ماں اور باپ اسرائیلی بمباری میں شہید ہو گئے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ عالمی اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ غزہ میں بسنے والے ہزاروں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ خواتین کی حالت یہ ہے کہ جنگ کے حالات میں بہت سی خواتین کے حمل گر گئے ہیں۔ ادویات اور صحت کی سہولیات کی اس قدر قلت ہے کہ حاملہ خواتین کے آپریشن اینستھیزیا یعنی بے ہوش کیے بغیر ہو رہے ہیں۔ خواتین کو سینیٹری کا سامان دستیاب نہیں ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق وہ کاغذ اور شاپر کے ٹکروں کو استعمال کرتی ہیں۔
یہ ہیں وہ حالات جن سے فلسطینی بچے او ر خواتین گزر رہے ہیں۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کوئی اسرائیل کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ کسی زمانے میں جنگوں اور لڑائیوں کے بھی اصول ہوا کرتے تھے۔ اسرائیل نے یہ سارے اصول بالائے طاق رکھ دیے ہیں۔ پتہ نہیں کب فلسطینیوں کو اسرائیلی مظالم سے نجات ملے گی۔
ادھر پاکستان میں ہر کوئی مقدور بھر کوششوں میں مصروف ہے۔ پنجاب میں مریم نواز متحرک ہیں اور سندھ میں مراد علی شاہ۔ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بھی مقدور بھر کوششیں کر رہے ہیں۔ غیر سرکاری امدادی تنظیمیں بھی سیلابی علاقوں میں مصروف عمل ہیں۔ اس صورتحال میں میڈیا کے ایک بڑے حلقے کا کردار نہایت مثبت ہے۔ وہ متاثرین کے مسائل سامنے لا رہا ہے۔ حکومت پر تنقید کر کے حکومت کو دباؤ میں رکھتا ہے۔ تاہم یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ تنقید برائے تنقید میں مصروف ہے۔ اس کی توجہ اس بات پر نہیں ہے کہ متاثرین کو کیا امداد فراہم ہو رہی ہے۔ کون کتنا وقت ان متاثرین کے ساتھ گزار رہا ہے اور کس قدر متحرک ہے۔ اسے صرف حکومتی امداد کے تھیلوں اور ڈبوں پر لگی سیاسی تصاویر دکھائی دے رہی ہیں۔ گویا یہ سب پہلی بار ہو رہا ہے۔ سوشل میڈ یا کے نام نہاد دانشوروں پر نظر ڈالیں تو بیشتر کا زور بازو بھی اس قسم کے پہلووں پر مرکوز ہے۔
سیاست اور ابلاغیات کی ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناتے اس طرح کی تشہیر کے متعلق میری ایک رائے ہے۔ اس رائے کا اظہار کسی کالم میں تفصیلاً کروں گی۔ تاہم یہ بات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ جس طرح تشہیری تصاویر کی زیادتی اپنا اثر کھو دیتی ہے، بالکل اسی طرح ایک حد سے بڑھی ہوئی اور بغض میں لتھڑی ہوئی تنقید بھی کوئی اثر انگیزی نہیں رکھتی۔ ایسی تنقید کی مجھ جیسا عام آدمی پرواہ کرتا ہے اور نہ سیاست دان اور حکومتیں ان کو سنجیدہ لیتی ہیں۔
