غیرمسلموں کے لئے کون سا طرز انتخاب رائج ہو؟

ان دنوں سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ غیر مسلموں کے لئے ملک میں کون سا طرز انتخاب اپنایا جائے۔ فی الوقت ملک میں اسمبلیوں میں غیرمسلموں کے لئے متناسب طریقہ انتخاب رائج ہے۔ اس کے مطابق سیاسی جماعتوں کو ان کے ملک بھر سے کل حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پر اقلیتی نشستیں الاٹ کی جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کے لئے اعلان شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق اپنے غیر مسلم اراکین کی ایک ترجیحی فہرست مرتب کر کے الیکشن کمیشن کو فراہم کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن جب اس بات کا تعین کر لیتا ہے کہ کس سیاسی جماعت کو اقلیتوں کی کتنی نشستیں ملیں گی تو فہرست میں موجود ترتیب کے لحاظ سے اراکین اسمبلی منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے۔ یوں اس نظام کے تحت اقلیتی اراکین براہ راست ووٹوں سے منتخب ہو کر اسمبلی میں نہیں پہنچتے بلکہ ان کو ان کی سیاسی جماعتیں نامزد کرتی ہیں۔ مروجہ طریقہ کار سابق صدر جنرل پرویزمشرف کے دور میں 2002 میں ان کے جاری کردہ لیگل فریم ورک آرڈر ( ایل ایف او ) میں متعارف کروایا گیا تھا۔ اس سے قبل غیرمسلموں کے لئے جداگانہ طرز انتخاب رائج تھا جس میں قومی اسمبلی کے پورا ملک اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے پورا صوبہ انتخابی حلقہ ہوا کرتا تھا۔
جداگانہ طرز انتخاب سابق صدر جنرل ضیاء الحق کی جانب سے اپنے جاری کردہ عبوری آئین یعنی پی سی او کے تحت متعارف کروایا گیا تھا۔ اسی کے تحت 1985 میں پہلی بار کل پاکستان حلقہ نیابت کے طریقہ کے تحت اقلیتی اراکین اسمبلی کا انتخاب ہوا۔ اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات 1988، 1990، 1993 اور 1996 کے عام انتخابات اسی طرز پر ہوئے۔ اس دوران اس نظام کی خامیاں کھل کر سامنے آئیں۔ امیدواروں کو انتخابی مہم کے لئے پورے ملک کی خاک چھاننی پڑتی تھی۔ اس پر امیدواروں اور سرکار کا بے تحاشا خرچ آتا تھا اور وسائل درکار ہوتے تھے۔ پورے ملک سے انتخابی نتائج جمع کرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے۔ ایسے میں ان انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھتے تھے اور ہار جانے والے امیدوار انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ سال ہا سال ایک رکن اسمبلی ایوان میں موجود رہا اور اس نے کارروائی میں حصہ لیا یا نہ لیا اس سے قطع نظر اس نے سارے مالی فوائد سمیٹے تو عدالتی کارروائی کے نتیجہ میں یا دوبارہ گنتی میں دوسرے کو کامیاب قرار دے دیا جاتا تھا۔ یہ چوہے بلی کا کھیل اس وقت تک چلتا رہتا تھا جب تک اسمبلیاں وجود رکھتی تھیں۔ اس وقت حکومتیں تحلیل کی جاتی تھیں تو قومی و صوبائی اسمبلی بھی توڑ دی جاتی تھیں۔
ملک بھر کی اقلیتوں کو اس نظام سے بہت سی شکایات تھیں جو کہ بادی النظر میں جائز تھیں۔ مثلاً اس نظام کے تحت منتخب رکن اسمبلی سے رابطہ مشکل کام تھا کیوں کہ اگر اس کا تعلق پنجاب کے کسی علاقے سے ہے تو کراچی، پشاور یا بلوچستان کے لوگ اس تک کیسے پہنچ سکتے تھے؟ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو اپنے کام کے سلسلہ میں اپنے نمائندوں کو ملنے کے لئے اسلام آباد وفاقی دارالحکومت یا پھر صوبائی دارالحکومت میں اس وقت دوردراز سے پہنچنا پڑتا تھا جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہوتا تھا۔ اس پر اٹھنے والے اخراجات اور طویل سفر بڑی مشکلات تھیں اور اس پر اراکین کا ملنا یا نہ ملنا بڑی مایوس کن صورتحال پیدا کر دیتا تھا۔ دوسرے یہ کہ اقلیتوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا تھا کہ ان کے مسلم نمائندے تو حلقے کے لوگوں کے مابین ہی موجود ہوتے ہیں اور ان تک رسائی بہت آسان ہے۔ اس نظام کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ اس کے لئے اقلیتوں کو جداگانہ تشخص دیا گیا تھا۔ ان کی انتخابی فہرستیں الگ مرتب کی جاتی تھیں۔ اقلیتوں مثلاً ہندو، مسیحی اور احمدیوں کے فہرستوں اور بیلٹ پیپروں کی رنگت بھی الگ ہوتی تھی۔ یوں اقلیتیں قومی دھارے سے کٹ کر سیاسی اچھوت بن کر رہ گئیں تھیں۔
انہی عوامل کی بنیاد پر اس وقت کے اقلیتی سماجی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے اس جداگانہ نظام کی کھل کر مخالفت کی گئی۔ اس نظام سے واضح خلیج پیدا ہوئی جسے عوامی سطح پر محسوس کیا جاتا تھا کہ الگ فہرستوں، الگ پولنگ اسٹیشنوں پر الگ بیلٹ پیپروں کی موجودگی میں دوسرے درجے کے شہری کا احساس ہوتا تھا۔ پھر مقامی افراد کو اس بات کا بھی سامنا تھا کہ جب وہ مسلم اراکین اسمبلی سے رابطہ کرتے تو وہ ان کو کھلے لفظوں میں کہہ دیتے کہ آپ اپنے نمائندے سے رجوع کریں۔ یہ بات درست تھی کہ ان کا استدلال تھا کہ میں نے آپ سے کون سا ووٹ لیا یا مستقبل میں لینا ہے۔ ملک بھر میں اس نظام کے خلاف کم اور کمزور آوازیں تو اٹھیں تو اس نظام کا پردہ چاک ہوا۔ اسمبلی میں موجود اراکین اس کی مخالفت کرتے تھے کہ ان کو یہ نظام بھاتا تھا۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد مشرف دور میں جب یہ تجربہ ہوا کہ متناسب نمائندگی کے تحت اقلیتی اراکین کا چناؤ عمل میں لایا جائے گا۔ ساتھ ہی اقلیتوں کو یہ حق بھی تفویض کیا گیا کہ وہ اپنے حلقے میں اکثریتی امیدوار کو بھی ووٹ ڈال سکیں گے۔ اس نظام کی بھی بڑی خامی یہ نکلی کہ اقلیتی اراکین اسمبلی اپنے لوگوں کی بجائے ان کی خوشنودی کے چکر میں پڑے رہتے تھے جنہوں نے ان کو نامزد کر کے اراکین اسمبلی کے طور پر اسمبلیوں میں پہنچایا ہوتا تھا۔ یوں اقلیتیں اس بات کی شاکی ہو گئیں کہ اس نظام سے بھی ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور ان کی اصل نمائندگی ہے ہی نہیں۔
اس دوران ملکی محدود سیاسی اقلیتی منظر نامے پر یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ ہمیں سلیکشن نہیں الیکشن چاہیے ہے۔ ساتھ ہی دوہرے ووٹ کے لئے بھی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اب اس بحث کا آغاز اس لئے ہوا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے رکن کرسٹوفر فیلبوس نے ایک قرارداد اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے سیکرٹریٹ میں جمع کروائی ہے جس میں موجودہ طریقہ انتخاب کو تبدیل کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہ عمل سنجیدگی سے عاری نظر آتا ہے اور محض سستی شہرت کا حربہ معلوم ہوتا ہے۔ اسے میڈیا میں کوریج کی بھونڈی کوشش بھی قراردیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ بات سب کو معلوم ہے کہ ان کی اپنی پارٹی مسلم لیگ نون اس کی حمایت نہیں کرے گی۔ گو اس قرارداد پر دیگر مسیحی اراکین اسمبلی عمانوایل اطہر جولیس، اعجاز مسیح، شکیلہ جاوید آرتھر، طارق مسیح گل اور وسیم سندھو کے دستخط بھی موجود ہیں کہ وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ کرسٹوفر فیلبوس کی پیش کردہ اس قرارداد کے متن کے مطابق انھوں نے تفصیلاً بتایا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک 16 جنرل الیکشن منعقد ہوچکے ہیں جن میں اقلیتوں کے لئے مختلف طریقے اپنائے گئے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ معزز ایوان وفاقی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ اقلیتوں کو حلقہ بندی کے ساتھ دہرے ووٹ کا حق دیا جائے۔ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس مقصد کے لئے ضروری آئینی ترمیم کی جائے۔
دیکھنا اب یہ ہے کہ جب یہ قرارداد اسمبلی میں پیش ہو گی تو اس کا مقدر کیا ہو گا؟ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ آئینی ترمیم کوئی آسان معاملہ نہیں ہے۔ اس کے لئے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ حالیہ اور سابقہ آئینی ترامیم جس طرح منظور ہوئی ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ ایسے میں اقلیتوں کی کمزور و ناتواں اسمبلی میں پوزیشن کیا اس قسم کی کوئی ترمیم کروا سکتی ہے؟ یقیناً یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے اور ناممکن ہی رہے گی۔ البتہ اس طرح کی قرارداد پیش کر کے جو میڈیا کوریج یا نمبر ٹانکنے والا معاملہ تھا وہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا ہے۔ اس بات کے امکانات قدرے کم ہیں کہ اسمبلی سے یہ قرارداد منظوری حاصل کر پائے گی۔
