میرے ذہن میں اٹکے دو موضوعات
روس کو یوکرین پر جنگ مسلط کیے ہوئے تین سے زیادہ برس گزر چکے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں امن یقینی بنانے کے نام پر وجود میں آنے والی اقوام متحدہ مذکورہ جنگ رکوانے میں قطعاً ناکام رہی۔ امریکہ کی قیادت میں یورپ کے اکثر ممالک کے ساتھ قائم ہوئے فوجی اتحاد نے بھی یوکرین کو مذکورہ جنگ میں فتح دلوانے میں حصہ ڈالنے کے بجائے چند جدید ہتھیاروں کی فراہمی سے اسے طویل تر بنا رہا ہے۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے نیٹو نامی اتحاد کو امریکی خزانے پر بوجھ ٹھہرانا شروع کر دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں لوٹ آنے کے بعد وہ بیشتر یورپی ”اتحادیوں“ کی برسرعام تضحیک میں مصروف رہتا ہے۔
ایسے عالم میں جب دنیا کا تقریباً ہر ایک ملک آپا دھاپی کے ماحول میں خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے پاکستان اور سعودی عرب کا ایک ملک پر ہوئے حملے کو دوسرے ملک کے برابر قرار دینے والا معاہدہ خوش گوار حیرتوں کے باب کھولے گا۔ میں اس کی جزئیات بیان کرنے کے بجائے آئندہ تین دن نہایت توجہ سے یہ جاننے کی کوشش کروں گا کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہوئے اس معاہدے کو کس انداز میں لیتے ہیں۔ ان دو ممالک کا ردعمل پاک۔ سعودی عرب معاہدے کی اہمیت کو سراہنے میں مددگار ہو گا۔ ان کا ردعمل عیاں ہونے کے انتظار کے علاوہ ایک اور موضوع نے مجھے بدھ کی صبح سے حیران کر رکھا ہے۔ اپنی حیرانی کو کاغذ پر منتقل کیے بغیر چین نہیں آئے گا۔
جموں سے انگریزی کا ایک موقر روزنامہ شائع ہوتا ہے۔ نام ہے اس کا ”کشمیر ٹائمز“ ۔ مذکورہ اخبار کے مالک اور ایڈیٹر وید بھیسن مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے مرتے دم تک کٹر حامی رہے۔ اس سوچ کی وجہ سے دلی کی ہر حکومت کے ناپسندیدہ رہے۔ ان کی وفات کے بعد انورادھا بھیسن اس اخبار کو چلا رہی ہیں۔ انتہائی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے وہ بھی مودی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی مخالفت میں ڈٹ کر کھڑی ہیں جس کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کی تاریخی شناخت کو لداخ سے کاٹ کر نہ صرف ختم کیا گیا بلکہ اس کو بھارتی آئین کے تحت دی گئی ”خصوصی (خودمختار) حیثیت“ بھی ختم کردی گئی۔ ”کشمیر ٹائمز“ کی تاریخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں اس میں چھپی خبروں اور مضامین کو تھوڑی لگن سے تلاش کرنے کے بعد غور سے پڑھتا ہوں۔
17 ستمبر 2025 ء کے ”کشمیر ٹائمز“ میں ایک خبر نمایاں انداز میں چھاپی گئی۔ اسے مذکورہ اخبار کے ”ایکس“ اکاؤنٹ پر پڑھتے ہوئے میں حیران ہو گیا۔ کئی بار شبہ ہوا کہ ”کشمیر ٹائمز“ کی ویب سائٹ کو ”فیک نیوز“ پھیلانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے ۔ تحقیق و تفتیش نے مگر میرے شبے کو غلط ثابت کیا۔
جس خبر نے مجھے پریشان کر رکھا ہے وہ معروف کشمیری حریت پسند یاسین ملک صاحب کے ایک حلف نامے کی تفصیلات پیش کرنے کی دعوے دار ہے۔ یاد رہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد یاسین ملک صاحب کو جو جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین بھی ہیں بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی نے دلی ہائی کورٹ سے بیرون ملک سے رقوم حاصل کرنے اور ”جنگجو تنظیموں“ کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا دلوائی ہے۔ عمر قید کی سزا نے ایجنسی کو لیکن مطمئن نہیں کیا۔ ایک اپیل کے ذریعے دلی ہائی کورٹ کو اب عمر قید کی سزا پھانسی میں بدلنے کے لئے قائل کیا جا رہا ہے۔ یاسین ملک صاحب کے دوست اور خیرخواہ لہٰذا ان کی زندگی کے بارے میں جائز بنیادوں پر نہایت فکر مند ہیں۔
”کشمیر ٹائمز“ نے عدالت میں جمع کروائے جس ”حلف نامے“ کی تفصیلات قسط وار پیش کرنا شروع کی ہیں اس میں یاسین ملک نے نہایت جرات سے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ”عدالتی ترازو کا جھکاؤ میرے خلاف ہے۔ میں (اگرچہ) اپنے خلاف آئے فیصلے کو خوش دلی سے اپنا مقدر سمجھوں گا“ ۔ اپنے خلاف اٹھائے اقدامات کے تناظر میں یاسین ملک مگر یہ انکشاف کرنے کو مجبور ہوئے کہ 1990 ء کی دہائی کے آغاز میں انہیں دلی کی مہرولی سب جیل سے مہارانی باغ کے ایک بنگلے میں لے جایا گیا۔ یہ بنگلہ بھارت کے مشہور سیٹھ امبانی کی ملکیت تھا۔ وہاں ان دنوں کے بھارتی وزیر داخلہ راجیش پائلٹ کے علاوہ ایک اعلیٰ سطحی افسر وجاہت حبیب اللہ بھی موجود تھے۔ بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے چند افسران بھی اپنا تعارف کروائے بغیر مذکورہ میٹنگ کی نگرانی کرتے رہے۔
یاسین ملک کا دعویٰ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اس ملاقات کی اجازت دی تھی۔ موصوف کی شدید خواہش تھی کہ یاسین ملک ہتھیار پھینک کر مین سٹریم سیاست کا حصہ بن جائیں۔ سیٹھ امبانی کے بنگلے میں ہوئی ملاقات کے بعد 1994 ء تک بھارتی ریاست کے نمائندوں کے ساتھ تقریباً تین برس تک مسلسل روابط کی بدولت یاسین ملک نے بالآخر ”پرامن، جمہوری اور عدم تشدد پر مبنی سیاست“ سے وابستگی کا اعلان کر دیا۔
ان کے اعلان کے بعد یاسین ملک کو تشدد پر مبنی کارروائیوں میں حصہ لینے یا اْکسانے کے الزام میں قائم 32 مقدمات میں بآسانی ضمانت مل گئی۔ بھارتی ریاست نے ملک صاحب کے ساتھ ”صلح“ کا رویہ 25 برسوں تک برقرار رکھا۔ نرسمہا راؤ کی وزارت عظمیٰ کے دوران شروع ہوا یہ رویہ واجپائی، گجرال، من موہن سنگھ حتیٰ کہ مودی کی پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران بھی جاری رہا۔
”کشمیر ٹائمز“ کا دعویٰ ہے کہ یاسین ملک نے عدالت میں جمع کروائے حلف نامے میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ 2000 ء کے رمضان میں دلی اور کشمیری حریت پسندوں کے مابین جو جنگ بندی ہوئی واجپائی اسے دیرپا امن کی جانب لے جانا چاہتے تھے۔ اس ضمن میں یاسین ملک کو بھارتی آئی بی کے ڈائریکٹر شیا ماپال دتہ اور بھارتی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی برجیش مشرا نے ذاتی ملاقاتوں میں یقین دلایا کہ واجپائی مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل ڈھونڈنے میں نہایت سنجیدہ ہیں۔
واجپائی کی خواہش کو بروئے کار لانے کے لئے مگر کانگریس کا تعاون درکار تھا۔ یاسین ملک سے درخواست ہوئی کہ وہ اپوزیشن رہ نماؤں سے مل کر واجپائی کے مشن کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار کریں۔ کانگریس رہنماؤں کو پاکستان کے ساتھ دیرپا امن کی تلاش کے لئے رضا مند کرنے کو یاسین ملک نے ایک مشہور بھارتی صحافی پریم شنکر جھا کی مدد لی۔ اس صحافی کے گھر کانگریس کی جانب سے ڈاکٹر من موہن سنگھ، نجمہ ہپتلا بھی کھانے کی ایک دعوت پر موجود تھے۔ مذکورہ ملاقات کے عین ایک دن بعد من موہن سنگھ واجپائی سے ملے اور انہیں حمایت و تعاون کا یقین دلایا۔
بعد ازاں یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں سونیا گاندھی کے علاوہ بھارت کے دو سابق وزرائے اعظم وی پی سنگھ اور اِندر کمار گجرال سے بھی ملاقاتوں کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ مصر ہیں کہ ان کی کاوشوں کی بدولت بھارت کی کمیونسٹ پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں واجپائی کے ”امن مشن“ کی حمایت کو رضا مند ہوئی تھیں۔ مذکورہ مشن کے تحت ہی یاسین ملک واجپائی حکومت کے جاری کردہ پاسپورٹ پر امریکہ گئے اور وہاں کی وزارت خارجہ میں جنوبی ایشیاء کے امور کی نگہبان۔ کرسٹینا روکا۔ سمیت دیگر اہم لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔
یاسین ملک پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ 2006 ء میں کالعدم لشکر طیبہ کے رہ نما سے پاکستان میں ملے تھے۔ حلف نامے میں لیکن یہ دعویٰ ہے کہ مذکورہ ملاقات بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر۔ وی کے جوشی۔ کے ایما پر ہوئی تھی اور اس کا مقصد بھی مذکورہ تنظیم کو پاک۔ بھارت کے مابین امن کے قیام کے بارے میں رضا مند کرنا تھا۔ شاید اس ملاقات نے مشرف اور من موہن سنگھ کے مابین خفیہ سفارت کاری کے ذریعے تیار ہوئے اس معاہدے کی پیش رفت کو تقویت پہنچائی جس کا ذکر جنرل مشرف کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نہایت تفصیل سے اپنی لکھی ایک ضخیم کتاب میں کرچکے ہیں۔ بھارتی انٹیلی جنس بیورو کی خواہش پر ہوئی اس ملاقات کو مگر ان کے خلاف بغاوت کے الزام میں شامل کر دیا گیا ہے۔ طلسم ہوشربا جیسی کہانیاں بیان کرتے ”حلف نامے“ نے میرا سر چکرا دیا ہے۔ ایک سبق مگر اخذ کیا ہے اور وہ یہ کہ کشمیر کی آزادی و خودمختاری کا خواب دیکھنے والا یاسین ملک جیسا صف اوّل کا رہنما بھی اگر ہتھیار پھینک کر امن تلاش کرنا شروع کردے تب بھی بھارتی ریاست کے لئے ”غدار“ ہی رہتا ہے جس کو سزائے موت دلوانے کے لئے وہ بے قرار رہتی ہے۔
بشکریہ نوائے وقت۔

