ماحولیاتی چیلنجوں کا حل ڈھونڈنے سے محروم شنگھائی کانفرنس
میری سادگی نہایت بے قراری سے یہ چاہ رہی تھی کہ اگست 2025 ء کے آخری روز چین میں شروع ہونے والی شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (SCO) کے اجلاس میں کسی طرح پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے برپا ہوئی قیامت خیز تباہی کا ذکر ہو جائے۔ جو خواہش دل میں مچل رہی تھی وہ خود غرضی پر مشتمل نہیں تھی۔ جس سیلاب نے ان دنوں ہمارے ہاں تباہی مچا رکھی ہے اس کی دو کلیدی وجوہات ہیں : ہمالیہ کے گلیشیرؤں کا پگھلنا اور زمینی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے بادلوں میں بڑھتی ہوئی نمی کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کا کم ہوجانا۔ صلاحیت کی مذکورہ کمی ہمارے اَن پڑھ افراد بھی ”کلاؤڈ برسٹ“ کے طور پر جاننا شروع ہو گئے ہیں۔
گلیشیرؤں کے پگھلنے کا ذکر ہو تو یہ چین، بھارت اور پاکستان کے مشترکہ ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے مابین مگر اپنے ہاں کے گلیشیرؤں کے پگھلنے کی رفتار کا دیگر ممالک سے ڈیٹا شیئر کرنے کا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جی کڑا کر کے ان تینوں ممالک کے حکمرانوں کو یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ اپنی ”دفاعی“ ترجیحات اور خواہشات کے مطابق وہ خود بھی جدید ترین اسلحہ کے استعمال اور افواج کی تعیناتی سے گلیشیرؤں کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چین اور بھارت کے مابین لداخ کے قریب جو سرحد ہے وہ برطانوی سامراج نے طے کی تھی۔ چین اسے تسلیم نہیں کرتا۔ انگریز کی کھینچی لکیر کو بھلا کر نیک دلی کے ساتھ ہوئے مذاکرات نئی سرحد بھی طے کر سکتے تھے۔ ”ہندی چینی۔ بھائی۔ بھائی“ کے نعرے لگانے کے باوجود دونوں ملک مگر ایسے مذاکرات کر نہیں پائے۔ 1962ء میں بلکہ اس کی وجہ سے جنگ میں الجھ گئے۔
بھارت اس جنگ کی وجہ سے ”غیر جانبدار“ ہونے کے باوجود امریکہ کے قریب آیا۔ دریں اثناء روس اور چین بھی ”کمیونزم“ کی تشریح ”کے بارے میں ایک دوسرے کے خلاف ہونا شروع ہو گئے۔ ماؤزے تنگ کے چین نے خود کو“ کٹر ”کمیونسٹ قرار دیتے ہوئے ان دنوں کے سوویت یونین پر“ ترمیم پسندی ”کے الزامات لگانا شروع کر دیے۔ ٹھنڈے دل سے غور کریں تو دونوں ملک ایک دوسرے پر جو الزامات لگا رہے تھے وہ کسی بھی مذہب کے فرقہ پرست رویے کا اظہار تھے۔ خود کو“ غیر مذہبی ”کہلواتے لوگوں کے مابین ایسی بحث کا نمودار ہونا اپنی جگہ ایک مضحکہ خیز بات تھی۔ اس نے مگر اس حقیقت پر پردہ ڈال دیا کہ روس اور چین درحقیقت وطن پرستی کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جدا ہوئے ہیں۔ بھارت نے“ غیر جانبدار ”رہتے ہوئے بھی اس جدائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوویت یونین سے دوستی گانٹھ لی۔ 1970ء کی دہائی میں فوجی مداخلت کے ذریعے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے جدا کرنے سے قبل بھارت کی اندرا حکومت نے روس کے ساتھ 20 سالہ“ مشترکہ دفاع ”کا معاہدہ بھی کیا۔ اس معاہدے کی بدولت روس کی فوجی مداخلت سے قائم ہوئی ہر افغان حکومت کو بھارت 1978ء سے مسلسل تسلیم کرتا رہا۔ اقوام متحدہ میں روس کے افغانستان پر قبضے کے خلاف پیش ہوئی ہر قرارداد کی بھاری بھر کم حمایت کے باوجود وہ اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالتا تھا۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کو برقرار ہی نہیں بلکہ سنگین تر بنانے کی کوششوں میں بھی مصروف رہا۔ اس حوالے سے“ میدان جنگ ”لداخ کے سرحدی علاقے رہے جہاں دفاعی تعمیرات اور دونوں ممالک کی افواج کی تعیناتی نے ماحول کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان خوش قسمتی سے ہمالیہ پر قائم گلیشیرؤں کی سب سے بڑی تعداد کا حامل ہے۔ اس تناظر میں سیاچن بھی بنیادی طور پر ایک مہاگلیشیر تھا۔ 1980ء کی دہائی سے مگر پاکستان اور بھارت اس پر اپنا قبضہ ہر صورت برقرار رکھنے کو مجبور ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1988ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی سارک تنظیم کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی سے باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لئے مذاکرات کیے تو اس امر پر اتفاق ہوا کہ سیاچن کو ”میدان جنگ“ نہ بنایا جائے۔ اس وعدے پر حقیقی عمل درآمد کے لئے لازمی تھا کہ دونوں ممالک کی افواج سیاچن سے واپس ”امن کی حالت“ میں لوٹ آئیں۔ بھارت کی وزارت دفاع نے اپنے وزیر اعظم کی جانب سے ہوئے وعدے کو ان کے دلی پہنچتے ہی ”ویٹو“ کر دیا اور سیاچن ابھی تک ”میدان جنگ“ ہی تصور ہوتا ہے جہاں افواج کی تعیناتی ماحول کی تباہی میں گرانقدر حصہ ڈالتی ہے۔
بھارت کے حصے میں جو گلیشیر ہیں ان کی پگھلاہٹ کا ڈیٹا اس ملک کے سول اداروں کو ”حساس دفاعی معاملہ“ ٹھہراتے ہوئے فراہم نہیں کیا جاتا۔ بھارت میں آر ٹی آئی کے نام سے ایک قانون بہت دھوم دھام سے متعارف کروایا گیا ہے۔ انگریزی میں اسے Right to Information کہا جاتا ہے۔ میں چند بھارتی صحافیوں اور ماہرینِ ماحولیات کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے اس قانون کی بنیاد پر اپنے ہاں گلیشیرؤں کی پگھلاہٹ کا ڈیٹا حاصل کرنا چاہا۔ ”حساس دفاعی معاملہ“ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں بھی انکار کر دیا گیا۔ ایسے ماحول میں پاکستان جیسے ”ازلی دشمن“ کے ساتھ بھارت میں موجود گلیشیرؤں کی پگھلاہٹ شیئر کرنے کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔
اپریل 2025ء میں مقبوضہ کشمیر کی وادی پہلگام پر ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ اس معطلی کے نتائج ہم نے اسی برس کی غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے اذیت ناک انداز میں بھگتے ہیں۔ سیلاب نے مگر بھارتی رعونت کو بھی معاف نہیں کیا۔ بھارتی پنجاب بھی اس کی زد میں آیا۔ وہ مگر بھارت کا چھوٹا صوبہ ہے۔ وہاں سیلاب کی وجہ سے آئی تباہی بھارت کے مین سٹریم میڈیا میں نظر نہیں آئی۔ یہ سوال بھی نہیں اٹھ رہے کہ وادی کے پانی کو کنٹرول کرنے والا مادھو پور ڈیم اپنی استطاعت کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے میں کیوں ناکام رہا۔ جس امر پر نہایت توجہ درکار ہے وہ یہ ہے کہ ستلج پر بنائے تمام تر بھارتی ڈیموں کے باوجود اس کے پانی کی تین دہائیوں کے وقفے کے بعد پاکستان کے قصور سے بہاولپور تک پھیلے علاقوں میں خوفناک تباہی ہے۔
مجھ جیسا جاہل یہ فرض کرنے پر مجبور ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی بدولت اپنے حصے میں آئے راوی اور ستلج کے پانیوں کو ذخیرہ کرنے کے لئے جو ڈیم بنائے تھے وہ غیر معمولی مون سون میں کام نہیں آرہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں دریا اپنے ہزاروں سال پرانے راستے پر ہی بہتے رہنے کو بضد ہیں۔ جو سوال مجھ جاہل کے ذہن میں آرہے ہیں ان کے جوابات ماحولیات اور پانی کے امور ماہرین ہی فراہم کر سکتے ہیں۔ چین نے ایسے ماہرین کی کثیر تعداد سالوں کی تربیت کے بعد کھڑی کی ہے۔ وہاں ہوئی سربراہی کانفرنس میں سیلاب کی وجہ سے پاکستان میں آئی تباہی پر دہائی مچاتے ہوئے ایس سی او کو مائل کیا جاسکتا تھا کہ وہ چین، پاکستان اور ہندوستان کو ایک فورم میں بیٹھ کر خود کو درپیش ماحولیاتی چیلنجوں کا حل ڈھونڈنے پر مجبور کرے۔ زور آور ریاستوں کی مگر اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ عام آدمی ان کے لئے زمین پر رینگنے والے کیڑوں سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں۔

