کیا دریا کا پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے؟

پانی کا قطرہ جہاں بھی گرے لیکن اس کی حرکت فطری پس منظر سے سمندر کی طرف ہی ہوتی ہے۔ پانی دھرتی کی بقا کا اہم اثاثہ ہے، پانی اس ماحول میں حرکت پذیر رہتا ہے، بخارات کی شکل میں فلک کی طرف اڑنا یا دھرتی کے سینے پر گولی کی رفتار سے بہنا پانی کا یہ مظہر فطرتی ہے۔ چنانچہ ضروریات کی گرد اس فطرتی بھاؤ کو روک کر پانی کو ڈیمز یا دیگر ہائیڈرولک ڈھانچوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی کہ اس موڑ پر چاہیے دریا پلٹ جائیں لیکن یہ دور ہر لحاظ سے آبی بحران کا ہی دور ہے کیونکہ اب تک موسمیاتی تبدیلیوں سے کتنے ہی گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور چند سالوں میں شدید خشک سالی رونما ہونے والی ہے۔ اس کا اک اہم سبب پانی کے فطری راستے جبری طور روکنا بھی ہے، اب دنیا میں کہانی یہ ہے کہ پانی کو جمع کیا جائے لیکن کتنا؟
چاہیے کتنے ہی ڈیمز بن جائیں لیکن پانی جمع ہرگز نہیں ہو گا اس لیے کہ اب موسمیاتی غیر مستحکم زمانہ آ گیا ہے، شاید پہلے پانی کو سمندر میں چھوڑا جاتا تو آج جمع کرنے کے لیے بھی دشواریاں نہیں جنم لیتی۔ دنیا میں اب نمایاں چیلنجز میں اک موسمیاتی رد و بدل بھی ہے، معمول سے زیادہ بارشیں، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، کہیں خشک سالی کی وبا تو کہیں سیلاب کے زد میں دھرتی۔ دنیا کہ اہم ماحولیاتی ادارے اب اس حل کے لیے مصروف ہیں کہ ان مسائل سے کیسے مقابلہ کریں۔
جنوبی ایشیا میں موسمیاتی منظرنامہ بہت مختلف ہو گیا ہے، ہندستان میں شدید بارشیں اور بادل پھٹنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور پانی پاکستان کی طرف گامزن ہے۔ پاکستان بھی حالیہ بارشوں سے زیرِ آب ہے اور اوپر سے دریائے چناب، راوی اور ستلج میں ہندستان کی طرف سے دوڑتے ہوئے پانی نے پنجاب کے علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پاکستان اور بھارت پانی تنازعات کی کہانی تو خیر پرانی ہے، دونوں ممالک نے سارے عمر پانی پر سیاسی بیان بازی کی ہے لیکن مستقل حل نہیں نکالا دونوں کا زور بس ڈیمز بناؤ۔ ڈیمز بناؤ ہی رہا نتیجہ میں ڈیمز سے پانی کہ تیز بھاؤ نے آبی ڈھانچوں کو تباہ کر کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال کو جنم دے دیا ہے۔ مون سون! شدید بارشوں کی وجہ سے عموماً دریاؤں کی بڑھتی آبی سطح کا ہی موسم ہے سیلاب کی وجہ حکومتی لاپرواہی ہی ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں اندرونی طور بھی پانی تنازعات، آبی سیاست و دہشتگردی والا عنصر موجود ہے، اب جیسے مونسون میں پانی زیادہ ہوا ہے تو عطائی آبی ماہر تجزیہ کر رہے ہیں کہ ڈیم بنانے چاہیے تھے پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ کیا دریا کا پانی سمندر میں ضائع ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں!
ڈیمز پانی کے فطری بہاؤ کو روکتے ہیں جس سے نیچرل آبی سسٹم کو دھچکا لگتا ہے اور نتیجہ میں سیلاب ہی سیلاب۔ پاکستان میں اہم میڈیا چینلز جب سمندر میں پانی کے ضائع ہونے کا کہتے ہیں تو ہنسی آتی ہے۔ سمندر اور دریا کا سنگم ہی پانی کی اس سیارے پر بقا کا اہم کردار ہے۔ سمندر اور دریا ایسے ہیں جیسے معشوق اور محبوب، ان کہ گلے لگنے سے ہی ماحول کہ لبوں پر مسکراہٹیں لوٹ آتی ہیں۔ انڈس ڈیلٹا دنیا کے بڑے ڈیلٹاؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو چند دہائیوں سے مر رہا ہے کیونکہ ڈیلٹا میں ابھی تک بہاؤ بحال نہیں ہو سکا جس کا معاہدہ 1991 والی ایگریمنٹ میں بھی ہوا تھا۔ اوپر سے آبی سیاست و دہشت گردی کبھی نئے ڈیم تو کبھی نئی نہریں اس سارے غیر موثر انتظام نے دریائے سندھ کے سارے نغمے افسردگی کی طرف دھکیل دیے ہیں۔ انڈس ڈیلٹا ملک کی نایاب حیاتیاتی تنوع کا مرکز ہے، پردیسی پرندوں سے، نایاب مچھلیوں تک اور دیگر جانوروں کے باعث انڈس ڈیلٹا ملک کا معاشی قلعہ بھی ہے۔ انڈس ڈیلٹا کا ایکو سسٹم سمندر اور دریائے سندھ کے سنگم میں سمایا ہوا ہے، ساتھ ملک کے جنوب میں سمندر میں بنتے طوفانوں سے نپٹنے کے لیے مستحکم ماحولیاتی سرشتے کا دار و مدار بھی دریائے سندھ اور سمندر کے ملاپ میں ہے جو تمر کے جنگلات کو زندگی بخشتا ہے اور تمر کے جنگلات سمندری آفات سے لڑ کر ماحول کو مستقل رکھتے ہیں۔
ساحل سمندر پر بنے شہر بڑے خطرات میں ہیں لیکن ان کے لیے اک سپاہی وہ صرف دریائے سندھ ہے جو ان علاقوں کا محافظ ہے، وہ بھی کبھی وقت تھا جب آبی ڈھانچے کم تھے اور پانی سارا سال انڈس ڈیلٹا میں بہتا تھا تو ساحلی علاقے مثلاً سجاول۔ ٹھٹھہ میں اگتے لال چاولوں اور ان کی خوشبو کا کوئی نعم البدل نہیں تھا لیکن اب یہاں لال چاول نایاب ہو گئے ہیں۔ سندھ سارا سال پانی کے بحران کو جھیل رہا ہوتا ہے دریائی علاقوں میں بھی پینے کا پانی نایاب ہو جاتا ہے، مون سون کے دو ماہ دیکھ کر نام نہاد حکمران طبقہ کہتا ہے کہ پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ دو ماہ کے بعد پھر دریائے سندھ میں ریت اڑ رہی ہوتی ہے، آپ چند سالوں کے شماریات کا جائزہ لیں کہ سمندر میں پانی نہ جانے کی وجہ سے زراعت کو کتنا نقصان پڑا ہے، حیاتیاتی تنوع کے کیا حالات ہوئے ہیں، تمر کے جنگلات پر کیا اثر پڑا ہے، ایکو سسٹم کی تباہی کتنی ہوئی ہے، کتنے علاقے سمندر برد ہو چکے ہیں اور کتنے لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں۔
پانی کا مستقل بہاؤ ہی اس ملک کے مستحکم ماحولیاتی منظرنامے کو برقرار رکھ سکتا ہے بجائے ڈیمز میں جمع کرنے والے حربے کو استعمال کرنے سے۔ سندھ لوئر بیسن ہے اور اس کا دریائے سندھ پر مکمل حق ہے ویسے سندھ کا انحصار بھی پانی پر ہی ہے اس لیے عالمی آئین کی نگاہ میں بغیر سندھ کی رضامندی سے اوپر بننے والے تمام آبی ڈھانچے غیر قانونی عمل کے زمرے میں آتے ہیں۔ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ہر دن کم از کم تقریباً پانچ ہزار کیوسک پانی تو لازماً انڈس ڈیلٹا میں جانا چاہیے نہیں تو ملک کا ماحولیاتی نظام منتشر ہو جائے گا، لیکن افسوس سارا سال مون سون کو چھوڑ کر باقی اس عظیم دریا میں ریت اڑ رہی ہوتی ہے، اور ہمارے یہاں ڈیلٹا میں دریا میں سمندر بہہ رہا ہوتا ہے، جیسے قتیل شفائی نے کہا یہ ہے کہ!
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
بلکہ میں قتیل کو کہنا چاہتا ہوں دھرتی پر اک ایسا بھی دریا ہے جس میں سمندر بھی گرتا ہے۔
چنانچہ جب دو ماہ پانی آتا ہے تو یہ حکومتیں اور سندھ دشمن قوتیں سمندر میں پانی کو ضائع قرار دیتی ہیں، تو یقیناً ایسی قوم کا ڈوب کر مرنا بھی ان کی اس تعصبانہ لاپرواہی اور لاعلمی کا ہی نتیجہ ہے۔ اب جو سیلابی صورتحال ہے یہ پانی سندھو دریا آسانی سے گزار سکتا ہے لیکن حکومتیں چاہتی ہیں کہ کہیں کٹ لگے اور امداد والا آپشن کھل جائے۔ دشمن قوتیں سندھ کو آبی مفلوج کرنے کے لیے جو کہانیاں تحریر کر رہی ہیں وہ خود ان میں ہی ڈوب کر مر جائیں گی لیکن سندھ، سندھو دریا اور سمندر کبھی نہیں بچھڑ سکتے جیسے شاعر نے کہا:
کہانی میں کوئی رد و بدل تو کر
میرا تجھ سے بچھڑنا نہیں بنتا
